اولیاء وصوفیاءکی پہچان

تفسیرِ قراٰنِ کریم

اولیاء و صوفیاء کی پہچان

*   مفتی محمد قاسم عطاری

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ) ترجمہ : اور اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہوئے۔               (پ15 ، الکہف : 28)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک جماعت نے رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے  کہا  کہ ہمیں غریبوں کے ساتھ بیٹھنے میں  شرم آتی ہے۔ لہٰذا جب ہم آپ کے پاس آئیں تو ان غریبوں کو اٹھا دیا کریں تاکہ ہم آپ کی بات سنیں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی  اور نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی بندگی کرتے ہیں اس کی رضا پانے کےلئے۔ (قرطبی ، 10 / 339) یہ غریب صحابہ ، مومن و مخلص ،  ذاکر و صابر اور قانع و شاکر ہیں اور یہی خدا کے پسندیدہ بندے ہیں۔ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا انہیں ترجیح دینا ، ان پر نظر ِ شفقت رکھنا ، ان کی دل جوئی کرنا ، ان کی تعلیم و تربیت میں مشغول ہونا ، ان کے تزکیہ و تطہیرکو مقدم رکھنا خدا کو مطلوب و محبوب ہے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ کی رحمت ، نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تربیت ، صحابہ کی عظمت کی روشن دلیل اور علم کے بہت سے موتی ہیں۔ آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی تربیت خود ربُّ العٰلمین  عَزَّوَجَلَّ  فرماتا ہے جیسے یہاں  ایک معاملہ درپیش ہوا تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خود تربیت فرمائی۔ دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ بطورِ خاص صبح اور شام کے اوقات میں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کرنا بہت افضل ہے۔ تیسری بات یہ پتہ چلی   کہ صالحین سے محبت  اور ان کی صحبت بہت عظیم شے ہے اوریہ بھی معلوم ہوا کہ صالحین کی علامت  ہے  کہ  وہ  صبح و شام اللّٰہ  کا ذکر کرتے اور  ہر عمل سے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا اور خوشنودی کے طلب گار ہوتے ہیں۔

آیت میں مذکور غریب صحابہ وہ تھے جن میں متعدد حضرات ، اصحابِ صفہ کہلاتے ہیں جو ایمان و یقین کے کوہِ استقامت ، اسلام کی   شان اور نشان ، عمل کے پیکر ، رضائے الٰہی کے متلاشی ، دنیا سے بےرغبت ، آخرت کی طرف راغب ، دنیا چھوڑ کر عقبیٰ اور مخلوق چھوڑ کر خالق کی طرف ہمہ وقت متوجہ تھے۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں تصوف کی بنیاد اورصوفیوں  کا پیشوا کہا جاتا ہے۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل  کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

یاد رکھیں کہ تصوف (جسے  تزکیہ و احسان بھی کہتے ہیں) کا تعلق نام سے نہیں ، کام سے ہے ، قال سے زیادہ حال ، قول سے زیادہ عمل ، ظاہر سے زیادہ باطن اور قالَب سے زیادہ قلب سے ہے اور اسی کی طرف آیت میں  یُرِیْدُوْنَ وَجْهَه (رب کریم کی خوشنودی کے طلب گار ہیں) کے الفاظِ کریمہ سے اشارہ ہے۔ حدیث مبارک میں بھی دل کی اصلاح ، پاکیزگی ، ظاہری اعمال کےلئے محور و مدار اور نیکی و بدی کی بنیاد ہونے کا بڑا خوب صورت بیان ہے چنانچہ فرمایا : حدیث پاک میں ہے : “ الا وان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله ، واذا فسدت فسد الجسد كله ، الا وهی القلبترجمہ : سن لو!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا  ہے اگر وہ سدھر جائے تو سارا جسم  سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے  تو سارا بدن بگڑجاتا ہے ، سن لو ! وہ  دل ہے۔ (بخاری ، 1 / 13)

تصوف یہی تو ہے کہ  رب کریم  سے محبت ہو اور اسی کی طرف رغبت ، اسی کی بارگاہ کا شوق ، اسی کی عظمت کا استحضار ، اسی کی شان سے قلب میں ہیبت ، اسی کے فیصلے پر راضی ، اسی کی ذات پر بھروسہ ، اسی کی طرف رجوع ، اسی کی بارگاہ میں فریاد ، اسی کے کرم پر نظر ، اسی کے فضل کی طلب ، اسی کی رحمت کی امید ،  اسی کے دیدار کا اشتیاق ، اسی کی خوشنودی کی کوشش ، اسی کی ناراضی کا ڈر ، اسی کی یاد میں فنا اور اسی کے ذکر سے بقاہو۔ قرآن پاک کی آگے ذکر کردہ آیات اسی معنی و مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ فرمایا : ( عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(۸۸)) ترجمہ : میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (پ12 ، ھود : 88) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : ( فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ-) ترجمہ : اور اللہ کی طرف بھاگو۔ (پ27 ، الذاریات : 50) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : ( وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸)) ترجمہ : اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اُسی کے بنے رہو۔ (پ29 ، المزمل : 8) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : ( فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْۗ-)ترجمہ : تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ (پ2 ، البقرۃ : 150) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : ( وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱))ترجمہ : اور مجھ ہی سے ڈرو۔ (پ1 ، البقرۃ : 41) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : ( فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۵۱)) ترجمہ : تو مجھ ہی سے ڈرو۔ (پ14 ، النحل : 51) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) قرآن پاک میں ہے : ( مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ-) ترجمہ : جو اللہ نے چاہا ، ساری قوت اللہ کی مدد سے ہی ہے۔ (پ15 ، الکہف : 39) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) ان آیات پر غور کرکے صوفیاء و اولیاء کرام کی سیرت پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی زندگی انہی اعمال و افعال اور مقامات و احوال کی زندہ تصویر ہوتی ہے۔

صوفی کا معنی  سمجھنے کےلئے  یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ صوفی وہ  ہے جسے صفائے قلب حاصل ہوجیسے قرآن میں  فرمایا : (یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹)) ترجمہ : جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔ (پ19 ، الشعراء : 88تا89) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور صوفی وہ ہے  جو کسی نیک عمل سے دنیا کی جزا نہ چاہے بلکہ اس کی نظر صرف خدا کی محبت اور خوشنودی پر ہو ، جیسا کہ  قرآن

میں فرمایا : ( وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹)) ترجمہ : اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تمہیں  خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں  اور نہ شکریہ۔ (پ29 ، الدھر : 8تا9) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اورصوفی وہ ہے جس کے دل میں دنیا کی  محبت نہ ہو جیسے بنی اسرائیل کے لوگوں کی کیفیت قرآن میں یوں بیان ہوئی کہ (وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ) ترجمہ : اور ان کے دلوں میں توبچھڑا رَچا ہوا تھا۔ (پ1 ، البقرۃ : 93) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) بلکہ صوفی کے دل میں خدا کی محبت رچی بسی ہوتی ہے ، قلب کی گہرائیوں  میں یہ محبت اپنی خوشبوئیں بکھیرتی اور روح کو معطر کرتی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا : ( وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-) ترجمہ : اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ (پ2 ، البقرۃ : 165) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) دل کی یہ کیفیت زبان کو بھی حرکت دیتی اور ذکرِ الٰہی میں مشغول کردیتی ہے چنانچہ فرمایا : ( فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًاؕ-)ترجمہ : تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ (ذکر کرو) (پ2 ، البقرۃ : 200) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور حدیث میں فرمایا : “ اَكْثِرُوْا ذِكْرَ اللَّهِ تَعَالىٰ   حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌاللہ تعالیٰ  کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں۔ (احمد بن حنبل ، 3 / 68 ، حدیث : 11671) اور نبی کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے  اَولیا کے بارے میں پوچھا گیا توآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا : “ اَلَّذِيْنَ اِذَا رُؤُوْا ذُكِرَ اللهُاَولیاءُ اللہ یعنی اللہ  کے دوست وہ ہیں جنہیں دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔ (سنن کبریٰ للنسائی ، 10 / 124 ، حدیث : 11171) ایک دوسری روایت میں ہے کہ  رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : “ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں؟ “ صحابۂ کرام  رضوان اللہ علیھم اجمعین  نے عرض کیا : ضرور بتائیے۔ فرمایا : “ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جنہیں  دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔ “ (ابن ماجہ) اللہ کریم اپنے پیارے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صدقے ہمیں صوفیاء کرام سے محبت ، ان کے نقش ِ قدم پر چلنے اور ان کے اوصاف اپنانے  کی توفیق عطا فرمائے۔                     اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code