مناظرِکائنات اور حدالٔق بخشش

اشعار کی تشریح

مناظرِ کائنات اور حدائقِ بخشش

*   محمد حامد سراج عطاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

یہ کائنات حسین مناظر سےبھری ہوئی ہے ، ان مناظر اور نظاروں کو ہر کوئی اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے ، سائنسدان (Scientist) انہیں اپنی سائنس کی روشنی میں دیکھتا ہے ، جغرافیہ دان (Geographer) انہیں اپنے علم کی روشنی میں دیکھتا ہے ، کیمسٹری والا انہیں علمِ کیمسٹری کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ عاشقِ رسول ، اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ    ان تمام مناظر کو عشقِ رسول کی نگاہ سے دیکھتے اور ذہن میں آنے والے خیالات کو نعتیہ شاعری کی صورت میں بیان بھی فرماتے۔ آپ کے نعتیہ کلام حدائقِ بخشش میں کئی مناظرِ قدرت کو عشقِ رسول میں ڈوب کر اسی رنگ میں سمجھایا گیا ہے۔

سورج اور تَخَیُّلاتِ رضا : انہی چیزوں میں سے ایک سورج بھی ہے۔ یہی سورج ہے جو تمام جہاں کو اپنے نور سے روشن کر رہاہے ، یہی سورج ہے جو ہزاروں سال سے دنیا کو جگمگا رہا ہے مگر اس کا نور کم نہیں ہورہا۔ یہی سورج ہے کہ جس کے طلوع و غروب ہونے سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ، اس سورج کو کائنات کے مناظر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  کی عشق کی کتاب میں اس سورج کی حقیقت کیا ہے ، جب سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی جُود و سخاوت کی بات چل رہی تھی تو فرماتے ہیں :

جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے مُنْعِمُو!

اُن کے خوانِ جُود سے ہے ایک نانِ سوختہ([i])

یعنی اے تاجدارو! اے بادشاہو! سارا جہاں جسے سورج کی ٹکیا کہتا ہے ، لوگ جسے آفتاب کہہ کر پکارتے ہیں ، جسے سورج کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی سورج اوریہی آفتاب ، جانِ عالم ، نورِ مجسم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دستر خوان کی جلی ہوئی روٹی ہے ، ذرا سوچو کہ جس کریم آقا ، مدینے والے مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے دسترخوان کی جلی ہوئی روٹی سے کائنات کا گزارہ ہو رہا ہے تو ان کے دستر خوان کی وہ روٹیاں جو جلن سے محفوظ ہیں ، ان کا کیا حال ہوگا اور جس محبوب  علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی جلی ہوئی روٹی کی طرف دیکھنے سے آنکھیں چُنْدْھیا جاتی ہیں ، اس کے چہرۂ مبارک کے انوار کا عالم کیا ہوگا؟

چاند اور تَخَیُّلاتِ رضا :  اسی طرح  چاند کا ذکر شعر و شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ محبوب کے حُسن ، خوبصورتی ، رنگت اور دلکشی کو چاند سے تشبیہ دینا اردو شاعری میں بہت عام ہے۔ مگر جس طرح اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  نے چاند کو نعتِ محبوب کے لئے استعمال کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آئیے! اس کی چند مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1)عموماً شاعر حضرات چاند کےحُسن کی تو بات کرتے ہیں مگر اس کے دَ ھبوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں ، سرکارِ اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  نے عشق کے رنگ میں بتایا کہ چاند پر دَھبے کیوں ہیں؟ چنانچہ فرماتے ہیں :

برقِ اَنگُشْتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار

آج تک ہے سِینۂ مہ میں نشانِ سوختہ([ii])

یعنی سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک ہاتھ کی نورانی انگلی ایک مرتبہ چمک کر چاند پر پڑی مگر آج تک چاند کے سینے میں جلن کا نشان موجود ہے۔

(2) ایک اور شعر میں چاند کو یہ داغ مٹانے کا طریقہ بھی بتاتےنظرا ٓتے ہیں ، چنانچہ قصیدۂ معراج میں فرماتے ہیں :

سِتَم کِیا کیسی مَت کٹی تھی قمر! وہ خاک اُن کے رہ گُزر کی

اُٹھا نہ لایا کہ مَلتے مَلتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے([iii])

یعنی اے چاند تمہاری عقل کو کیا ہوا کہ اتنا بڑا ستم کر بیٹھے ، جب معراج کی رات آقا کریم ، رسولِ عظیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  آسمانوں کی سیر کےلئےتشریف لائے تھے تو ان کے راہ گزر کی خاک لے جاتے اور اپنے داغوں پر ملتے رہتے۔ تمہارا اس خاک کو ملنا تھا کہ تمہارے سارے داغ ختم ہو جاتے۔

(3)ایک اور جگہ اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ   اس چاند کو رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بچپنے کا کھلونا قرار دیتے ہیں۔ جو کہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عبّاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   پنگھوڑے میں چاند سے باتیں کرتے اور اپنی اُنگلی سے جس طرف اشارہ فرماتے ، چاند اُسی طرف جُھک جاتا۔ ([iv]) اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :

چاند جھک جاتا جِدھر اُنگلی اٹھاتے مَہد میں

کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا ([v])

(4) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

ماہِ مَدینہ اپنی تَجَلِّی عطا کرے!

یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے([vi])

یعنی ایک آسمان کا چاند ہے اور ایک مدینے کا چاند ہے۔ آسمان کا چاند بھی روشنی بکھیرتا ہے اور مدینے کا چاند بھی نور کی خیرات بانٹتا ہے ، آسمان کا چاند جو روشنی دیتا ہے وہ ایک دو پہر تک رہتی ہے جبکہ مدینے کا چاند اگر نور کی جھلک بھی عطا فرما دے تو دنیا و آخرت دونوں روشن ہو جاتے ہیں۔

 (5) ایک جگہ فرماتے ہیں کہ چاند سورج تو آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے رُخِ روشن کے سامنے کچھ بھی نہیں ، کہتے ہیں :

خُورشید تھا کِس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر

بے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں([vii])

یعنی عین دوپہر کے وقت سورج اپنے عروج پر ہو ، پھر رات ہو جائے اور چاند اپنے جوبن پر آجائے ، ایسے میں جانِ عالَم ،  شاہِ بنی آدم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا رُخِ انور پردے سے باہر آئے تو سورج بھی شرما جائے گا ، چاند بھی آنکھیں چُرائے گا اور منہ چھپائے گا کیونکہ جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی۔ اس میں اس حدیثِ پاک کی طرف اشارہ بھی ہے کہ حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے رَسُوْلُ الله  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کوچاندنی رات میں سُرخ(دھاری دار) حُلّہ پہنے ہوئے دیکھا ، میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اور کبھی آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے چہرۂ اَنور کو دیکھتا ، تو مجھےآپ کا چہرہ چاند سے بھی زِیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔ ([viii])

حضرت مفتی احمدیار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ  اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : کئی وجوہات کی بنا پر نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا چہرہ چاندسے بھی زیادہ حسین ہے * چاند صرف رات میں چمکتاہے چہرۂ مصطفےٰ دن رات چمکتا ہے * چاند صرف تین رات (آب و تاب سے) چمکتا ہے چہرۂ مصطفےٰ ہمیشہ ہر دن اور ہر رات چمکتا ہے * چاندجسموں پر چمکتا ہے چہرۂ مصطفےٰ جسموں  کے ساتھ دلوں پر بھی چمکتا ہے * چاند صرف جسموں کو نور دیتا ہے جبکہ چہرۂ مصطفےٰ اِیمان کو نور دیتا ہے * چاند  گھٹتا ہے پھر بڑھتا ہے جبکہ چہرۂ مصطفےٰ گھٹنے سے محفوظ ہے * چاند سے عالَمِ اَجسام کا نظام قائم ہے ، جبکہ حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے عالَمِ ایمان کا نظام قائم ہے۔ ([ix])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   شعبہ بیانات دعوتِ اسلامی المدینۃالعلمیہ کراچی



([i])حدائقِ بخشش ، ص136

([ii])حدائقِ بخشش ، ص136

([iii])حدائقِ بخشش ، ص232

([iv])جمع الجوامع ، 3 / 212 ، حدیث : 8361

([v])حدائقِ بخشش ، ص249

([vi])حدائقِ بخشش ، ص202

([vii])حدائقِ بخشش ، ص110

([viii])ترمذی ، 4 / 370 ، حدیث : 2820

([ix])مراٰۃ المناجیح ، 8 / 60 ملخصاً

Share

Articles

Comments


Security Code