بیع میں شرطِ فاسد لگاناجائزنہیں

احکام تجارت

*   مفتی ابومحمد علی اصغر عطّاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

 بیع میں شرطِ فاسد  لگانا جائز نہیں

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں بیج بیچنے کا کام کرتا ہوں۔ ہماری مارکیٹ میں جب زمیندار بیج خریدنے آتا ہے تو دکاندار اسے بیج بیچتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ شرط لگاتے ہیں کہ آپ اپنی فصل ہمیں ہی بیچیں گےاس صورت کا کیا حکم ہے ؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : پوچھی گئی صورت میں خریداری کے ساتھ جو شرط لگائی گئی ہے وہ ناجائز وگناہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بیج کی بیع کے ساتھ فصل ، بائع (یعنی فروخت کرنے والے) کو بیچنے کی شرط ، شرطِ فاسد ہےکیونکہ اس میں بائع (فروخت کرنے والے) کا نفع ہےاورجس شرط کا عقد  یعنی سودا تقاضا نہ کرے اور اس میں معاہدہ کرنے والے دونوں فریق میں سے کسی کا نفع ہو وہ شرط فاسد ہوتی ہے اور شرطِ فاسد سے بیع فاسد ہوجاتی ہےاور بیعِ فاسد کا ارتکاب گناہ کا کام ہے۔ بہارِشریعت میں ہے : “ جو شرط مقضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں بائع یا مشتری یا خود مبیع کا فائدہ ہو (جبکہ مبیع اہلِ استحقاق  سے ہو) وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے۔

(بہارشریعت ، 2 / 702)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

بینک سے لون دلوانے پر کمیشن لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص بینک اور سود پر قرض لینے والے کے درمیان معاہدہ کرواتا ہے اور اس معاہدے کے جوقانونی تقاضے  ہیں ان کو پورا کرواتا ہے ، تو کیا وہ بھی گناہ گار ہو گا؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : جس طرح سود کا لین دین کرنا حرام و گناہ ہے اسی طرح سودی معاہدے کا گواہ بننا بھی حرام و گناہ ہے۔ نیز سود کے معاہدے پر جو بھی  براہِ راست معاون و مدد گار  بنے گا وہ بھی اس جرم میں شامل کہلائےگا اور وہ بھی گناہ گارہوگا ۔

اللہ تبارک و تعالٰی قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : )وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ( تَرجَمۂ کنز الایمان : اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (پارہ 6 ، سورۃ المائدۃ ، آیت 2)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : “ لعن رسول

اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اٰکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء “  ترجمہ : حضورِ اکرم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے اور سودی کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔ (مسلم ، ص663 ، حديث : 4093)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

سودی قرض کی ضمانت دینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بینک سے قرضہ لینے والا ، قرضے کےحصول کےلیے کسی   ایک دکاندار کو بطور ضامن پیش کرتاہے ، توسودی قرض لینےوالے کی ضمانت دینا کیسا ہے ، کیاضمانت دینے والا بھی گنا ہ گار  ہوگا؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : ضمانت دینے والا بھی اس سودی معاہدے کا حصہ  ہوتاہے ، اس  کا نام اس معاہدے میں لکھا ہوتا ہے ، جب تک ضمانت دینے والا نہ ہو ، یہ معاہدہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضمانت دینے والا بھی براہ راست اس معاہدے میں معاون و مدد گار ہےاس بنیاد پر ضمانت دینے والا بھی گناہ گار ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

بچوں کی لاٹریاں  خریدنا بیچنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دکانوں پر بچوں کےلیے لاٹریاں ہوتی ہیں وہ خریدنا اور بیچنا جائز ہے یانہیں ؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : خرید و فروخت کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ جو چیز خریدی جارہی ہے وہ معلوم ہو اس میں جہالت نہ ہو۔ بچوں کی لاٹری جو خریدی جاتی ہے اس میں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اندر کیا ہے ، بلکہ بعض اوقات تو خالی بھی نکل آتی ہے اور خریدنے والے کے پیسے ضائع ہوجاتے ہیں  اسی طرح بعض اوقات کم قیمت چیز نکلتی ہے جس سے خریدار کو نقصان ہوتا ہے اور بعض اوقات لاٹری کی قیمت سے زیادہ کی چیز نکل آتی ہے۔ ایسی لاٹریاں دو حال سے خالی نہیں اگر ایسی ہیں  کہ اس میں کوئی بالکل خالی بھی نکلتی ہےتو یہ واضح طور پر جوا ہے۔ اور اگر ایسی ہے کہ کوئی بھی خالی نہیں نکلتی لیکن اندر مختلف قیمت کی چیزیں ہوتی ہیں اور کوئی بھی نکل سکتی ہے تو یہ مجہول چیز کی خرید و فروخت اور بیع فاسد اور گناہ کا کام ہے۔

یہ کام گلی محلوں میں زیادہ ہوتا ہے اور بچے ہی عام طور پر اس طرح لاٹریاں خریدتے ہیں۔ اس سے دکاندار کو تو فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے لیکن جو بچے یہ خریدتے ہیں ان کا عموماً نقصان ہی ہوتا ہے اور جب کچھ نہیں نکلتا تو بچہ سوچتاہےکہ آج نہیں نکلا تو کل کچھ نکل آئے گا ، کل قسمت آزماؤں گا اس طرح وہ دوبارہ خریدتا ہے۔

دکانداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسی چیزیں اپنی دکانوں پر نہ رکھیں کیونکہ بچے وہی چیز خریدیں گے جو دکان پر موجود ہوگی ، اگریہ لاٹری دکان پر موجود ہی نہ ہو تو بچے خریدیں گے بھی نہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ اس طرح  کی لاٹریاں بیچ کر جو مال حاصل کریں گے ، وہ جائز نہیں ہوگا بلکہ  وہ مال حرام ہوگا۔

اللہ  تبارک و تعالٰی نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے حاصل کرنے سے منع فرمایا ہے۔  چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : )وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ( تَرجَمۂ کنز الایمان : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 2 ، سورۃ البقرہ ، آیت 188)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کی تفسیر میں ہے : “ اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ “ (تفسیر خزائن العرفان)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code