حضرت سیدتنا زینب بنت ابو سلمہ  رضی اللہ عنہا

تذکرۂ صالحات

حضرت سیّدُتنا زینب بنتِ ابوسلمہ  رضی اللہ عنہما

بنتِ حسین الدین عطاریہ

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

مختصر تعارف : حضرت سیّدَتُنازینب رضی اللہ عنھا  حضرت سیّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ    رضی اللہ عنہا   کی دُختر ہیں ، آپ کے والد ابوسلمہ عبداللہ  رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت سیّدتنا اُمِّ سلمہ    رضی اللہ عنہا   کو جب  اُمُّ المؤمنین (یعنی مؤمنین کی ماں) بننے کا شرف حاصل ہوا تو حضرت سیّدتنا زینب    رضی اللہ عنہا   نے حضورِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے زیرِ سایہ پرورش پائی۔ آپ کی پیدائش ملکِ حبشہ میں ہوئی ، آپ کا نام بَرَّہ تھا جسے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بدل کر زینب رکھا۔

نکاح و اولاد : آپ کا نکاح آپ کی خالہ کے بیٹے حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن زَمعہ  رضی اللہ عنہ  سے ہوا جن سے آپ کے ہاں چھ بیٹوں اور تین بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ ([i])

حُضورِاکرم کی شفقتیں : ایک مرتبہ پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت حسن کو ایک طرف ، حضرت حسین کو دوسری طرف جبکہ حضرت فاطمہ کو اپنی آغوش میں لے کر  فرمایا : اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے اہلِ بیت بےشک اللہ ہی سب خوبیوں اور عزت والا ہے ، یہ سُن کر حضرت اُمِّ سلمہ رونے لگیں ، رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دریافت فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو؟عرض کی کہ آپ نے حسنین و فاطمہ  علیہمُ الرِّضوان  کو اہلِ بیت فرمایا لیکن مجھے اور میری بیٹی کو یہ شرف نہیں بخشا۔ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : تم اور تمہاری بیٹی بھی اہلِ بیت میں سے ہیں۔ ([ii])

کبھی کبھار حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  شفقت سے آپ کے چہرے پر پانی چھڑکا کرتے تھے جس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ بڑھاپے میں بھی آپ کے چہرے پر جوانی کا آب و رنگ تھا۔

بزرگانِ دین کا تبصرہ : کئی سیرت نگار عُلَما نے فرمایا کہ آپ اپنے زمانے کی بڑی فقیہہ اور عالمہ خاتون تھیں۔ جلیلُ القدر تابعی حضرت سیّدناابو رافع صائغ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی مدینے کی کسی فقیہ خاتون کا تذکرہ کیا تو زینب بنتِ اَبِی سَلَمہ کو ضرور یاد  کیا۔ ([iii])

بیٹوں کی شہادت پر صبر : 63ھ میں جب واقعۂ حَرَّہ بلکہ فتنۂ حَرَّہ پیش آیا تو اس میں آپ کو اپنے دو شہزادوں کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑا ، جب آپ کے شہزادوں کی مقدس نعشیں آپ کے سامنے لائی گئیں تو آپ نے صبر اپناتے ہوئے قراٰنِ پاک کی آیتِ مبارکہ ( اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ) ([iv])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)تلاوت کی۔ ([v])

وفات : اس واقعے کے دس سال بعد 73 ہجری میں آپ کا وِصال ہوا ، آپ کی نمازِ جنازہ میں فقیہ الاُمّت حضرت سیّدنا عبدُ اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے۔ آپ کی تدفین جنّتُ البقیع میں کی گئی۔ ([vi])



([i])   طبقات ابن سعد ، 8 / 337

([ii])   تاریخ ابن عساکر ، 3 / 209

([iii])   الاصابہ ، 8 / 160

([iv])   پ2 ، البقرۃ : 156

([v])   اسد الغابہ ، 7 / 145

([vi])   تھذیب الکمال ، 11 / 720 ، طبقات ابن سعد ، 8 / 337

Share

Articles

Comments


Security Code