صفرالمظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینا ہے۔

اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے

*   ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

 صَفَرُالْمُظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام ، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے ، ان میں سے45کا مختصر ذکر “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ صَفَرُ الْمُظفر 1439ھ تا 1441ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا ، مزید 13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے : صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان : (1)ذُوالشَّہادَتَین حضرت سیّدُنا خُزَیمہ بن ثابت اَوسی انصاری  رضی اللہ عنہ  قبلِ ہجرت اسلام لاکر اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون میں شامل ہوئے ، بَدر سمیت تمام غزوات میں شرکت فرمائی ، نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے راضی ہوکر ان کی گواہی کو دو مَردوں کے برابر فرما دیا۔ ان سے کئی احادیث مروی ہیں ، یومِ فتحِ مکّہ انہیں لشکرِ اسلام کا صاحبِ عَلم(جھنڈے والا) ہونے کا شرف حاصل ہوا ، آپ کی شہادت جنگِ صِفِّین صفر37ھ میں ہوئی۔ ([i]) (2)حارِسُ النبی حضرت ابوعبداللہ محمد بن مَسلَمَہ اَوسی انصاری  رضی اللہ عنہ  اعلانِ نبوت سے 22سال قبل پیداہوئے اورصفر46ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وفات پائی۔ آپ جلیلُ القدر صحابی ، بہادر اور قدیمُ الاسلام تھے۔ تَبُوک کے  علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے ، اس موقع پر مدینے کے حاکم بنائے گئے۔ آپ نے دشمنِ رسول کعب بن اشرف کا کام تمام کیا۔ آپ سے کئی احادیث مروی ہیں ، دورِ خلافت راشدہ میں کئی عہدوں پر فائز رہے۔ ([ii])  اولیا و مشائخِ کرام رحمہمُ اللہ السَّلام : (3)سیّدُ التّابعین حضرت اویس قَرَنی  رحمۃ اللہ علیہ  اہلِ یمن سے ہیں۔ زمانۂ رسالت میں اسلام قبول کیا مگر بوڑھی والدہ کی خدمت کی وجہ سے دیدارِ نبی کی سعادت نہ پاسکے۔ 2فرامینِ مصطفےٰ ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) : (1)تم میں سے جو اویس کو پائے تو اُس سے دعائے بخشش کرائے (2)بے شک اویس خَیرُالتّابِعِین ہے۔ حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  نے ان سے ملاقات فرمائی ، آپ عشق ِرسول ، گوشہ نشینی اور زہد و تقویٰ میں مشہور تھے۔ جنگِ صِفِّین صفر37ھ میں شہید ہوئے ، آپ کا مزار رَقَّہ (دمشق ، شام) میں ہے۔ ([iii])  (4)حضرت شیخ صلاحُ الدّین دَرْوَیش سہروردی دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کی پیدائش648ھ اور وفات749ھ میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کا عرس 22صفر کو دہلی میں ہوتا ہے ، آپ شیخ صدرُالدّین عارف ملتانی  رحمۃ اللہ علیہ  کے مرید و خلیفہ ، حضرت خواجہ نصیرُالدّین محمود چَراغ دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کے ہمسائے ، صاحبِ کرامت ، دردِ اُمّت رکھنے والے اور نِڈر تھے۔ ([iv]) (5)حضرت خواجہ سیّد یحییٰ کبیر غرغشی  سہروردی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 707ھ میں  شہر علی (نزد کوہ سلیمان) بلوچستان میں ہوئی۔ یہیں 2صفر  834ھ کو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں ہے۔ آپ علمِ ظاہری و باطنی کے جامع ، مرید و خلیفہ جَہانیاں جَہاں گَشت ، باکرامت ولی اور مرجعِ عُلَما و عوام شخصیت کے مالک تھے۔ ([v]) (6)مفسرِقراٰن حضرت علّامہ خواجہ یعقوب چَرخی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 762ھ میں چرخ نزد غَزنی افغانستان میں ہوئی   اور وصال 5صفر851ھ میں فرمایا ، مزارموضع لنین  کال خور (دوشنبہ) تاجکستان میں ہے ، آپ جید عالمِ دین ، خلیفہ بانیِ سلسلہ نقشبندیہ خواجہ بہاؤالدّین اور صاحب تصانیف ہیں ، تفسیرِ چرخی اور شرح اَسْماءُ الحُسنٰی آپ کی مطبوع کُتب ہیں۔ ([vi])  (7)جلیلُ القدر شیخِ طریقت حضرت شیخ محمود راجن فاروقی  رحمۃ اللہ علیہ  احمد آباد (گجرات ہند) کے ایک عظیم صوفی خاندان میں پیدا ہوئے۔ کئی سلاسل سے خلافت حاصل ہوئی ، آپ جامع عُلوم و فنون اور کثیرُ الفیض تھے ، 22صفر 900ھ میں وصال فرمایا۔ مزار درگاہ شیخ سراجُ الدّین پیرانِ پٹن نہر والا محلہ مبارکپورہ گجرات میں ہے۔ ([vii]) (8)شیخُ المشائخ حضرت شاہ غلام علی دہلوی مجددی نقشبندی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 1156ھ میں پٹیالہ (ضلع گورداسپور مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی۔ 22صفر 1240ھ میں وصال فرمایا ، آپ کا مزار دہلی ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین ، عظیم شیخِ طریقت ، تیرھویں صدی کے مجدد ، صاحبِ کرامت ولی اللہ اور 12 سے زائد کُتب کے مصنف تھے۔ ([viii])  (9)قبلۂ عالم ، تاجدارِگولڑہ حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ گیلانی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 1275ھ میں گولڑہ شریف (اسلام آباد ، پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور29 صفر 1356ھ کو وصال فرمایا ، آپ کا مزار گولڑہ شریف میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ آپ جید عالمِ دین ، مرجعِ علما ، شیخِ طریقت ، کئی کتب کے مصنف ، مجاہدِ اسلام ، صاحبِ دیوان شاعر اور عظیم و مؤثر شخصیت کے مالک  تھے۔ ([ix])  علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام : (10)زینتِ خاندانِ اہلِ بیت حضرت امام زَیداَلشَّہِید  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت79ھ میں ہوئی اور (ایک قول کے مطابق)  2صفر 122ھ کو کوفہ میں شہید کئے گئے ، یہیں مزار ہے۔ آپ امام زَینُ العابدین کے بیٹے ، امام باقِر کے بھائی ، عالمِ کبیر ، فقیۂ اسلام ، بہادر و شجاع ، خطیبِ زمانہ اور کئی کُتب مثلاً تفسیرِ غریبُ القرآن اور مَجمُوع فِی الفِقہ وغیرہ کے مصنف تھے۔ ([x]) (11) صوفیِ کامل حضرت شیخ احمد مَجد شِیبانی  رحمۃ اللہ علیہ  کی پیدائش نارنول (ضلع مہندر گڑھ ، ریاست ہریانہ) ہند کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی  اور وصال ناگور میں 25صفر927ھ کو ہوا ، تدفین روضہ سلطانُ التّارکین شیخ حمیدُالدّین صوفی  رحمۃ اللہ علیہ  میں کی گئی۔ آپ جید عالمِ دین ، عربی فارسی میں ماہر ، عاشقِ اہلِ بیت ، صاحبِ کرامت اور جذبہ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر سے سرشار تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک حصہ اجمیر شریف میں گزارا۔ ([xi]) (12)مستفتیِ اعلیٰ حضرت مولانا میر غلام مصطفیٰ جہانگیری دیوی  رحمۃ اللہ علیہ  (تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی) میں اندازاً 1305ھ کو  پیدا ہوئے ، آپ اسکول ہیڈماسٹر ، علمِ دین سے مالا مال ، کثرتِ مطالعہ کے خُوگر ، تبلیغِ دین کے شائق اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے ، آپ کا وصال 26صفر 1370ھ کو ہوا ، مزار موضع دیوی میں ہے۔ آپ نے بذریعۂ  مکتوب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا  رحمۃ اللہ علیہ  سے علمی استفادہ فرمایا۔ ([xii]) (13)شارحِ بخاری ، فقیہِ اعظم ہند حضرت مفتی محمد شریفُ الحق امجدی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 1339ھ قصبہ گھوسی ضلع مؤ (یوپی ہند) میں ہوئی اوریہیں 6 صفرالمظفر 1421ھ کو وصال فرمایا۔ آپ مفتیِ اسلام ، شیخِ طریقت ، استاذُالعلماء ، شرح بخاری (9جلدیں) سمیت 20کُتب کے مصنف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔ آپ نے ہند کے دس مدارس میں 35سال تدریس کی ، 11سال بریلی شریف اور 24سال الجامعۃُ الاشرفیہ کے مفتی رہے ، پچاسی ہزار فتاویٰ لکھے یا لکھوائے۔ انھوں نے امیرِ اہلِ سنّت علّامہ حضرت محمد الیاس قادری کو کئی سلاسل میں خلافت سے بھی نوازا۔ ([xiii])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   رکنِ شوریٰ و نگران مجلس المدینۃالعلمیہ ، کراچی



([i]) (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ، 2 / 30 ، تاریخ طبری ، 8 / 765)

([ii]) (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ، 6 / 28 ، المواھب اللدنیہ ، 1 / 431)

([iii]) (مسلم ، ص1055 ، حدیث : 6492 ، مستدرک للحاکم ، 4 / 496 ، حدیث : 5771 ، طبقات ابن سعد ، 6 / 204 تا 207)

([iv]) (اخبار الاخیار مترجم ، ص149)

([v]) (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ، 5 / 154)  

([vi]) (تاریخ مشائخ نقشبند ، ص225تا234 ، خواجہ عبیداللہ احرار ، ص89)

([vii]) (مشائخ احمدآباد ، ص226)

([viii]) (جہانِ امام ربانی ، 4 / 588تا602)

([ix]) (مہرِ منیر ، ص61 ، 335 ، فیضانِ پیر مہر علی شاہ ، ص4 ، 32)

([x]) (تاریخ طبری ، 4 / 314 ، اعلام للزرکلی ، 3 / 59 ، تاریخِ اسلام للذھبی ، 8 / 105تا108)  

([xi]) (اخبار الاخیار فارسی ، ص184 تا 186)

([xii]) (معارف رضا ، سالنامہ 2007ء ، ص233)

([xiii]) (فتاویٰ شارح بخاری ، 1 / 72 تا 110)


Share