کتاب کا تحفہ

بیٹا ناشتہ کرلو! کامران کو بُلانے کےلئے جیسے ہی امی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں تو اسے Saving Box میں سے پیسے نکالتے دیکھ کر حیران رہ گئیں، خیریت بیٹا! صبح صبح ان کی کیا ضرورت پڑ گئی؟

کامران نے دس اور بیس والے نوٹ الگ الگ رکھتے ہوئے جواب دیا: میں آپ کو ناشتے پر بتانے ہی والا تھا دراصل آج ہمارے اسکول میں ایک پروگرام ہے، جس میں مختلف چیزوں کے اسٹالز(Stalls) بھی لگیں گے تو میرا ارادہ ایک کتاب خریدنے کا ہے۔

بہت اچھی بات ہے، پیسے کم ہوں تو مجھ سے لے لینا، اب جلدی سے آ کر ناشتہ کر لو ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا، اتنا کہہ کر امی کچن میں چلی گئیں۔

ناشتے کے بعد کامران امی کو سلام کرکے رُخصت ہونے لگا تو امی نے پیسوں کا پھر پوچھ لیا، نہیں نہیں امی جی! میری سیونگ والے ہی کافی ہیں، اِنْ شَآءَ اللہ اچھی سی کتاب آجائے گی، کامران جواب دے کر رُخصت ہو گیا۔

اسکول کا مین گیٹ کُھلا ہوا تھا، مختلف طلبہ اندر باہر آجا رہے تھے، لگتا ہے دوسرے اسکولوں سے بھی بچے آئے ہیں،  کامران نے پارکنگ میں اپنی سائیکل کھڑی کرتے ہوئے سوچا۔

اسکول کے اسمبلی گراؤنڈ میں مختلف اشیاء کے اسٹالز ایک قطار میں لگے ہوئے تھے، کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹالز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامران کتابوں کے اسٹالز کی طرف آگیا، دینی، اخلاقی سمیت مختلف اقسام کے موضوعات پر رنگا رنگ کتابیں دیکھ کر ہی کامران کے منہ میں پانی آرہا تھا، لیکن کامران کو ایسی کتاب چاہئے تھی جس میں روزوں کے متعلق مسائل لکھے ہوں کیونکہ دومہینے بعد رَمَضانُ المبارَک شروع ہونے والا تھا۔

کافی تلاش کے بعد اسے ”فیضانِ رَمَضان“ نامی ایک کتاب نظر آ گئی، رمضان کی برکتوں اور مسائل پر مشتمل اتنی پیاری کتاب دیکھ کر کامران نے فوراً قیمت ادا کر کے کتاب خرید لی، اب کسی دوسرے اسٹال پر جانے کے لئے کامران اِدھر اُدھر نظر دوڑا ہی رہا تھا کہ  اسے اپنا ہم جماعت اُویس دکھائی دیا جو اسٹالز سے الگ تھلگ ایک بینچ پر  پریشان بیٹھا تھا۔

کسی اسٹال کی طرف جانے کے بجائے کامران اس کے پاس چلا گیا اور سلام کرنے کے بعد کہنے لگا: خیریت اُویس؟ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔

کیا بتاؤں کامران!! اتنی کوششوں سے پیسے جمع کئے تھے کہ اسکول فنکشن سے کتاب خریدوں گا لیکن آج اسکول آتے ہوئے کہیں گِر گئے ہیں۔

بھائی!بات تو پریشان ہونے کی ہے، ویسے کون سی کتاب  خریدنے کا ارادہ تھا آپ کا؟  کامران نے تسلّی دیتے ہوئے پوچھا۔

بات صرف پیسوں کی بھی نہیں ہے، دراصل روزے آنے والے ہیں تو میں رمضان سے پہلے پہلے اس حوالے سے کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہ رہا تھاکہ جس کے مطالعے سے میں رمضان شریف کے فضائل، روزے کے احکام،تراویح کے بارے میں معلومات،لیلۃُ القدر کے فضائل اور اعتکاف کے ضروری مسائل وغیرہ جان سکوں ۔اُویس نے اپنی پریشانی کی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا۔

یہ تو بہت ہی اچھی بات بتائی آپ نے، آپ یہ کتاب رکھ لیں، آپ کی خواہش کے مطابق ہے، کامران نے ” فیضانِ رَمَضان“ اُویس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

نئی کتاب کا تحفہ لیتے ہوئے اویس جِھجَک رہا تھا لیکن کامران کے اِصرار پر اسے کتاب لینا ہی پڑی ۔

اُویس شکریہ ادا کرکے جا  چکا تھا لیکن کامران ابھی وہیں کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب مزید پیسے بھی نہیں ہیں، اپنے لئے کتاب دوبارہ کیسے خریدوں گا!تبھی اسے اپنے اسلامیات کے  ٹیچرکی آواز سُنائی دی: کامران! سِیرتُ النَّبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکوئز مقابلہ ہونے لگا ہے، جلدی آجاؤ میں نےتمہارا نام لکھوا دیا ہے۔

قراٰنِ کریم میں نبیِّ کریمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا اِسْمِ گرامی کتنی بار آیا ہے؟

اِسْمِ محمد چار بار جبکہ احمد ایک بار، کامران نے آگے سے فوراً  جواب دیا۔

ایک ایک کرکے سبھی سوالوں کا دُرست جواب دینےپر کامران ہی اوّل پوزیشن کا حقدار قرار پایا، انعام وصول کرنے کے بعد اس نے گھوم پھر کر کچھ اور اسٹالز دیکھے، پھر ٹیچرزسے ملاقات  کرنے کے بعد گھر لوٹ گیا۔

گھر پہنچ کر کامران نے انعام کھولا تو اندر ”فیضانِ رَمَضان“ کتاب دیکھ کر  بہت خوش ہوا، دوپہرکے کھانے پر اس نے ساری بات امی کو بتائی تو وہ کہنے لگیں: بیٹا! نیکی کا بدلہ ضرور ملتاہے۔ ہمیں جب بھی دوسروں کی مدد کا موقع ملے تو پیچھے مت ہٹیں۔ دنیا میں نہ بھی  ملےتو آخرت میں اللہ پاک ضرور ہمیں اس کا بہتر بدلہ عطافرمائے گا۔

_______________________

٭…ظہور احمد دانش عطاری مدنی      

٭…مدنی چینل فیضان مدینہ کراچی    

Share

کتاب کا تحفہ

میرا نام مصطفےٰ کفیل ہے،میں بڑا ہو کر اپنے والد کی طرح مفتی بننا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو دین کے احکامات کے بارے میں بتا سکوں اور خود بھی غلطی سے بچوں اور جدید مسائل پر ریسرچ کر کے دینِ اسلام کی روشنی میں ان کا حل نکال سکوں۔(مصطفےٰ کفیل بن کفیل رضا مدنی، کراچی)

منتخَب پیغامات

(1) میں بڑی ہو کر عالمۂ دین، مفتیہ، قاریہ بنوں گی، قراٰن کی تعلیم عام کروں گی، اپنے ماں باپ کے لئے بخشش کا وسیلہ بنوں گی۔ (حوریہ فاطمہ عطّاریہ، اٹلی)(2) میں بڑا ہوکر عالم بنوں گا کیونکہ میں دوسروں کو پڑھا کر دینِ اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ (حسین رضا عطّاری بن غلام باری عطاری، کورنگی، کراچی) (3)اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ  کے فضل و کرم سے میں اپنے مستقبل کے منصوبے بنا چکا ہوں۔ اِنْ شَآءَ اللہ میں بڑا ہو کر اپنے مرشدعطّار کی تحریک دعوتِ اسلامی کے لئے تَن مَن دَھن اور اپنا علم سب وقف کر دوں گا۔(محمد فیصل عطّاری بن محمد فرقان، کورنگی نمبر ساڑھے تین، کراچی)

Share

Articles

Comments


Security Code