کچن کیسے صاف رکھیں

باورچی خا نہ گھر کا ایک اہم ترین حصّہ ہے۔ جس کی صفائی ستھرائی خواتین کی سلیقہ مندی کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں سے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہاں کچن اور اس میں رکھی چیزوں کو صاف ستھرا رکھنے کے حوالے سے چندگزارشات پیشِ خدمت ہیں:

(1)عام طور پر کھانا پکاتے وقت چولہے اور اس کے اردگرد گھی وغیرہ کے چھینٹے پڑنے اور مسالوں کے ذرّات گرنے سے نشان پڑ جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ بدنُما اور ڈھیٹ داغوں کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ لہٰذا روزانہ کھانا پکانے کے بعد چولہا اور اس کے اردگرد  کی جگہ کو گیلے کپڑے سے صاف کر لیا جائے۔

(2)گھی وغیرہ کے ڈبّے ایک جگہ رکھے رہنے سے نشان پڑ جاتے ہیں لہذا کچن کے خانوں میں پلاسٹک کی شیٹ بچھا لی جائے تاکہ فرش داغ دھبوں سے محفوظ رہے۔

(3)بعض اوقات ہاتھوں پر چکنائی ہوتی ہےایسی صورت میں ڈبے وغیرہ کو نہ پکڑیں۔ ہاں اگر ضروری ہوتو کام سے  فارغ ہوتے ہی اس جگہ کو خُشک (Dry)  کپڑے یا اسفنج (Sponge) وغیرہ سےصاف کردیں ۔

(4)مسالا جات کے ڈبے خالی ہو جائیں تو اُس کو اچّھی طرح دھوئے بغیر دوبارہ استعمال میں نہ لائیں۔ بالخصوص نمک، مسالے، چینی کی برنیاں اور  ڈبے جو کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔ ہلدی، پِسا ہوا گرم مسالا پلاسٹک کے ڈبوں میں نہ رکھیں، یہ پلاسٹک کی ساخت کو خراب کردیتے ہیں، لہذا ان کے لئے شیشے کا جار زیادہ مناسب ہے۔

(5) تیل اور گھی جن بوتلوں میں رکھا جاتا ہے،انہیں خالی ہونے پر بغیر دھوئے پھر بَھر دیا جائے تو وہ  میلی اور پیلی  پڑ جاتی ہیں لہٰذا خالی ہونے پر دوبارہ تیل بھرنے سے پہلے انہیں لازماً اچھے طریقے سے دھو لیا جائے۔

(6)ڈبوں سے چیز نکالتے اور ڈالتے وقت ذرّات نیچے گرجاتے  ہیں جن پر چیونٹیاں جمع ہوجاتی ہیں، خاص طور میٹھی اشیا کے ذرّات پر چیونٹیاں بہت جلدآتی ہیں۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ احتیاط سے چیزیں نکالیں  اور اگر کچھ گر بھی جائے تو فوراً  اُٹھا لیں۔

(7) کچن کے خانو ں میں کئی مسالاجات قریب قریب رکھے ہوتے   ہیں جس کی وجہ سے مختلف مسالا جات کی خوشبوئیں مل جاتی ہیں اور بعض اوقات خانوں کا دروازہ کُھلتے ہی ناخوشگوار سی بُو (Smell) آتی ہے۔ اس لئے ہر ہفتے بعد خانوں اور ڈبوں کو ہوا لگانی چاہئے۔

پیاری بہنو! عام طور پر کچن کے خانوں اور ڈبوں کی صفائی روزانہ کی بنیاد (Daily basis) پر نہیں کی جاتی کبھی ایک سے دو ماہ اور کبھی اس سے بھی زیادہ عرصے بعد پورے کچن کا سامان ایک ساتھ باہر نکال کر خوب محنت کی جاتی ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ  روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ کام کیا جائے تا کہ کچن صاف سُتھرا ہی رہے وگرنہ ہفتے کا کوئی ایک دن مُقرّر (Fix) کر لیا جائےجس میں کسی ایک خانے (Cabinet) کو خالی کرکے اُس کی مکمل صفائی کی جائے۔

اللہ پاک ہمیں اپنا گھر، جسم اور دل و دماغ پاک و صاف رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

_______________________

٭…بنت منظور احمد عطایہ مدنیہ      

Share

Articles

Comments


Security Code