حضرت امام مہدی

قِیامت سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ دُنیا میں کُفر پھیل جائے گا، زمین ظُلْم اور سَرکَشی سے بھرجائے گی، اسلام حَرَمَین شریفَین کی طرف سمٹ جائے گا، اولیا و اَبْدال وہاں ہجرت کرجائیں گے۔پھرسیِّدَتُنا فاطمۃُالزَّہراء   رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا جو زمین کو عَدْل و انصاف سے بھر دے گا۔ یہی تمام روئے زمین پر حکومت کرنے والے پانچویں بادشاہ ہوں گے جنہیں حضرت امام مہدی کہا جاتا ہے۔[1]

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: دنیا ختم نہ ہوگی حتّٰی کہ عَرَب  کا بادشاہ ایک شخص بنے گا۔ جو مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ہے اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے وہ ظلم و زیادتیوں سے بھری تھی۔[2]

حضرت سیّدُنا امام مہدی رضی اللہ عنہ کا نام محمد اور آپ کے والد کا نام عبدُاللہ ہوگا جیساکہ حدیثِ پاک میں اشارہ ہے۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات بھی واضح طور پر معلوم ہوئی کہ حضرت امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے بلکہ پیدا ہوں گے نیز ان کے والد کا نام عبدُاللہ ہوگا نہ کہ امام حسن عسکری۔[3]امام مہدی والد کی طرف سے حَسَنی سیّد ہوں گے، والدہ کی طرف سے حُسَینی، آپ کے اُصول (یعنی ماں، دادی، نانی وغیرہ اُوپر تک) میں کوئی والدہ حضرت عباس کی اولاد سے ہوں گی لہٰذا آپ حسنی بھی ہوں گے حسینی بھی اور عباسی بھی۔ اس میں اُن لوگوں کا رَد ہے جو کہتے ہیں کہ محمد ابنِ حسن عسکری’’ امام مہدی‘‘ ہیں وہ غار میں چھپے ہوئے ہیں کیونکہ وہ حسینی سیّد ہیں حسنی نہیں۔[4]حُلیہ مبارک:حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ اخلاق،  آداب اور عادات میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرح ہوں گے مگر شکل وصورت میں پورے مشابہ  نہ ہوں گے اگرچہ بعض باتوں میں نبیِّ پاک کے ہم شکل ہوں گے۔)[5]( جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مہدی مجھ سے ہیں، چوڑی پیشانی والے، اُونچی ناک والے،سات سال سلطنت فرمائیں گے۔)[6](اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جیتی جاگتی تصویر (ہوں گے) کہ چوڑی پیشانی اور اونچی ناک شریف یہ دونوں صفتیں حُضُورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہیں۔[7]امام مہدی کا ظُہُور: ماہِ رَمَضان میں اَبْدال کعبہ شریف کے طواف میں مشغول ہوں گے وہاں اولیاء حضرت مہدی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو پہچان کر ان سے بیعت کی درخواست کریں گے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ انکار فرمائیں گے۔ غیب سے نِدا (آواز) آئے گی ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَھْدِیْ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْہ یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے وہاں سے مسلمانوں کو ساتھ لے کر شام تشریف لے جائيں گے۔آپ کا زمانہ بڑی خیر و برکت کا ہوگا۔ زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔[8]حضرت عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: (امام) مہدی تشریف لائیں گے اور ان کے سر پر عِمامہ ہوگا۔ ایک مُنادی یہ آواز بلند کرتے ہوئے آئے گا کہ یہ مہدی ہیں جو اللہ کے خلیفہ ہیں،لہٰذا تم ان کی اِتِّباع و پیروی کرو۔[9]

ظُہورِ امام مہدی کے بارے میں ایک روایت شرح کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے: ایک خلیفہ کی وفات کے وقت اختلاف ہوگا (اس کا نام معلوم نہیں مگر یہ آخری خلیفہ ہوگا جس کے بعد امام مہدی خلیفہ ہوں گے ممبروں میں اختلاف ہوگا کہ کسے خلیفہ چُنیں) تو اہلِ مدینہ میں سے ایک صاحب مکہ معظمہ کی طرف تیزی سے تشریف لے جائیں گے (اس خوف سے کہ کہیں اُنہیں  خلیفہ نہ چُن لیا جائے) اہلِ  مکہ میں سے کچھ لوگ ان کے پاس آئیں گے (وہ لوگوں سے چھپے ہوئے مکۂ مکرمہ کے کسی گھر میں تشریف فرما ہوں گے مگر مکہ والے ان کے دروازے پر پہنچ کر ان سے گزارش کریں گے اور) انہیں باہر لائیں گے (اور انہیں اپنا خلیفہ مان کران کے ہاتھ  مبارک پر بیعت کریں گے) حالانکہ وہ  صاحب اسے ناپسند کرتے ہوں گے یہ لوگ اُن سے مقامِ ابراہیم اور حجرِ اَسْوَد کے درمیان بیعت کریں گے (اس وقت شام کا بادشاہ کافر ہوگا، جب اسے ان کی خلافت کا پتا لگے گا تو وہ ان سے جنگ کرنے کے لئے) ان کی طرف شام سے ایک لشکر بھیجے گا (جس کا نام لشکرِ سفیانی ہوگا)۔ اُس لشکر کو مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جائے گا (اس لشکر میں صرف ایک شخص بچے گا جو ان کی ہلاکت کی خبر لوگوں تک پہنچائے گا) جب حضرت امام مہدی کی یہ کرامت لوگوں میں مشہور ہوگی تو ان کے پاس شام کے اَبْدال اورعراق والوں کی جماعتیں آئیں گی تو اُن کو بیعت کرلیں گے پھر قریش کا ایک شخص نکلے گا جس کے ماموں بنو کَلْب سے ہوں گے (یہ خبیث انسان اپنے ماموؤں کی مدد سے) حضرت امام مہدی کے مقابلہ میں ایک لشکر بھیجے گا امام مہدی کا لشکراُن پر غالب آئے گا۔[10] دوسری روایت میں ہے:نقصان میں ہوگا وہ شخص جو بنی کَلْب سے حاصل شدہ مالِ غنیمت میں شریک نہ ہو۔ خلیفہ مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّت پر چلائیں گے اور اسلام مکمل طور پر زمین میں مستحکم ہوجائے گا۔[11]

کتنے سال  حکومت فرمائیں گے؟حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہسات یا نو سال تک حکومت فرمائیں گے جیسا کہ حضرت سیّدُنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں ہے:يَمْلِكُ سَبْعًا اَوْ تِسْعًایعنی وہ سات یا نو سال تک حکومت فرمائیں گے۔[12]

_______________________

٭…محمد عدنان چشتی عطاری  مدنی      

٭…رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی     



([1]) التذکرۃ باحوال الموتی و امور الاخرۃ،ص 565ملخصاً

([2])ابوداؤد،ج4،ص144،حدیث:4282، 4283ملخصاً

([3])مراٰۃ المناجیح،ج7،ص266ملخصاً

([4])مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص274ملخصاً

([5])مراٰۃ المناجیح،7/274ملخصاً

([6])ابوداؤد،ج4/145، حدیث:4285مختصراً

([7])مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص266 ملخصاً

([8])کتاب العقائد،ج ص31،30

([9]) الحاوی للفتاویٰ،ج 2،ص73

([10]) ابوداؤد،ج 4،ص145، حدیث: 4286 ملخصاً،مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص267تا 269ملخصاً

([11])مسنداحمد،ج10،ص216،حدیث:26751ملخصاً

([12])مسند احمد،ج4،ص56،حدیث:11223

Share

Articles

Comments


Security Code