حضرت سیّدنا ذوالبجادین رضی اللہ عنہ

وہ خوش نصیب حضرات جن کی قبر میں حضور اَنْوَر   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بَنَفسِ نفیس اُتر ے اور اُن حضرات کو خصوصی اعزاز بخشا، اُن میں سے پانچ یہ ہیں:(1)اُمُّ المؤمنین حضرت بی بی خدیجہ (2)حضرت بی بی خدیجہ کے ایک صاحب زادے (3)حضرت بی بی عائشہ کی والدہ حضرت اُمِّ رومان (4)حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد (5) حضرت عبدُ اللہ رضی اللہ عنہ جن کا لقب ذُوالْبِجَادَیْن یعنی دو چادروں والاہے۔[1]حضرت ذُوالْبِجَادَیْن  رضی اللہ عنہ  کون تھے، کب اسلام لائے، یہ لقب کیوں ملا، شہادت کس طرح ہوئی نیز ان کی تدفین کا منظر کیسا رُوح پرور تھا؟ آئیے ملاحظہ کیجئے۔

چچا نے سب چھین لیا: آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینۂ منوّرہ کے گردو نواح میں آباد قبیلۂ مُزَ یْنَہ سے ہے، آپ چھوٹے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا، والد نے وراثت میں کوئی مال نہیں چھوڑا، چچا مالدار تھا لہٰذا اس نے آپ کی کفالت اور پرورش کی یہاں تک کہ آپ بھی مالدار ہوگئے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہجرت کرکے مدینے تشریف لائے تو آپ کا دل دینِ اسلام میں دل چسپی لینے لگا لیکن چچا کی وجہ سے قبولِ اسلام کی طاقت نہ تھی یہاں تک کہ کئی سال گزر گئے، نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 8 ہجری میں فتحِ مکّہ کے بعد مدینے واپس ہوئے تو آپ نے چچا سے کہا: میں نے تمہارے اسلام لانے کا انتظار کیا لیکن میرا خیال ہے کہ تم محمدِ عربی (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی خدمت میں حاضری نہیں دو گے، مجھے اسلام لانے کی اجازت دے دو، اس نے کہا:اگر تم نے اسلام قبول کیا تو میں تم سے اپنی دی ہوئی ہر چیز چھین لوں گا یہاں تک کہ کپڑے بھی چھین لوں گا۔ آپ نے فرمایا: میں اسلام قبول کرنے لگاہوں، میں جھوٹے معبودوں کی عبادت چھوڑتا ہوں، میرا سب کچھ لے لو،چچا نے آپ رضی اللہ عنہ سے کپڑوں سمیت سب کچھ چھین لیا۔[2] والدہ نے چادر دی: ایک روایت کے مطابق جب آپ کے دل میں محبّتِ ایمان اورمحبتِ رسول کی شمع روشن ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب روانہ ہوگئے، آپ کی والدہ اپنی قوم کے پاس گئی اور کہنے لگی:میرا بیٹا محمدِ عربی (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی جانب چل پڑا ہے، اس کے پیچھے جاؤ اور اسے واپس لے آؤ۔(جب قوم کے لوگ آپ کو پکڑ کر لائے تو) والدہ نے کہا: یہ بہت شرم و حیا والا ہے اگر اس کے کپڑے اُتار لوگے تویہ بھاگ نہیں سکے گا۔ لہٰذا قوم نے آپ کے کپڑے اُتار لئے اور برہنہ کردیا، آپ ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور کھانے پینے سے انکار کردیا، والدہ یہ دیکھ کر قوم کے پاس گئی اور کہا: میرے بیٹے نے قسم کھالی ہے کہ جب تک محمدِ عربی کے پاس نہیں پہنچے گا نہ کچھ کھائے گا نہ پئےگا، تم لوگ اس کے کپڑے دے دو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مَرنہ جائے، لیکن قوم نے کپڑے دینے سے انکار کردیا، پھر والدہ نے اپنی چادر کے دو حصّے کرکے ایک حصّہ میں بٹن لگا دئیے جسے آپ نے اوڑھ لیا جبکہ دوسرے حصے کو آپ کے سر کے اوپر ڈال دیا اور کہا:جاؤ! چلے جاؤ۔[3] بارگاہِ رسالت میں حاضری: آپ رضی اللہ عنہ سَحَرکے وقت مدینے پہنچے اور مسجدِ نبوی شریف میں ٹھہرے، جب نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز کے لئے تشریف لائے اور نظر مبارک آپ رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا: تم کون ہو؟ عرض کی: میرا نام عبدُ العزّیٰ ہے، میں فقیر اور مسافر ہوں،آپ کی محبت میں گرفتار ہوں،آپ کی صحبت میں رہنا چاہتا ہوں،ارشاد فرمایا: تمہارا نام عبدُ اللہ اور تمہارا لقب ذُوالْبِجَادَیْن ہے، ہمارے گھر کے قریب ہمارے پاس رہا کرو۔[4] معمولات: نمازِ فجر کے بعد جب سورج طلوع ہوجاتا تو آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوجاتے اور جب تک اللہ چاہتا آپ نماز پڑھتے رہتے پھر نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور سلام عرض کرتے پھر اپنی رہائش کی طرف چلے جاتے۔[5] آپ رضی اللہ عنہ نے صحبتِ رسول کو اپنے اوپر لازم کیا ہوا تھا، رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپ کو قراٰن سکھایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ نے بہت سا قراٰن پڑھ لیا،آپ مسجدِ نبوی میں قیام کرتے اور بلند آوا زسے تلاوت کرتے تھے۔ یہ ریاکار نہیں ہیں: ایک مرتبہ حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! کیا آپ اس اَعرابی (دیہاتی ) کو نہیں سُن رہے کہ بلند آواز سے قراءت کرتا ہے اور دوسروں کو تلاوتِ قراٰن سے روک دیتا ہے۔ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:عمر! اسے چھوڑ دو ،اس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں سوال کیا: کیا یہ ریا کار (دکھلاوا کرنے والا) ہے؟ ارشاد فرمایا:تم اسے چھوڑ دو، یہ اَوَّاہِین (یعنی گریہ و زاری کرنے والوں) میں سے ہے۔[6] پیارے آقا نے نکاح کروادیا: حضرت سیدنا ذُو الْبِجَادَیْن رضی اللہ عنہ  نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا مگر اس نے قبول نہ کیا، پہلے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہنے پھر حضرت عمرفاروقرضی اللہ عنہنے اس عورت کو حضرت ذُوالْبِجَادَیْن سے نکاح کرنے کی ترغیب دلائی، (مگر اس نے انکار ہی کیا) نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ خبر پہنچی تو ارشاد فرمایا: اے عبدُ اللہ! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہے؟ آپ نے عرض کی:جی ہاں، ارشاد فرمایا:میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کیا۔[7] شوقِ شہادت: سِن9 ہجری ماہ ِ رجب میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جنگِ تَبُوک کے لئے روانہ ہوئے تو آپ بھی مُجاہدین میں شامل ہو کر چل پڑے اور درخواست کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم! دعا فرمائیے کہ مجھے شہادت نصیب ہو۔ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ سے ببول کے درخت کی چھال منگوائی، آپ چھال لائے تو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے آپ کے بازو پر باندھ دیا اور دعا کی:اے اللہ! میں نے اس کے خون کو کفار پر حرام کر دیا، عرض کی: میں نے اس کی خواہش نہیں کی، ارشاد فرمایا: جب تم جہاد کے لئے نکلو، اگر بخار میں فوت ہوگے جب بھی تم شہید ہو گے۔ اگر تمہارا جانور (تمہیں گِرا کر) تمہاری گردن توڑ دے تو بھی تم شہید ہوگے کوئی حرج نہیں کہ شہادت کس طرح ملے۔[8]  خدائے پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مقامِ تبوک پہنچ کر تقریباً 20 راتیں دشمن کا انتظار کیا وہیں حضرت ذُوالْبِجَادَیْن کو بخار چڑھا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔[9] تدفین کا منظر: حضرت سیّدنا بلال بن حارث مُزَنی  رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ،میں نے دیکھا کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہاتھ میں چراغ لئے ہیں اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بَنَفسِ نفیس ان کی قبر میں تشریف فرما ہیں، حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان کو قبر میں اتار رہے ہیں،حضورِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرمارہے ہیں: اپنے بھائی کو عزت کے ساتھ لاؤ، اس کے بعد نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود ہی قبر کو کچی اینٹوں سے بند فرمایا۔ دعائے نبوی : پھر یہ دعا مانگی: الٰہی! یہ میری خدمت میں دن رات رہا ہے میں اس سے راضی ہوں تُو بھی راضی ہوجا۔[10] تمنائے صحابہ: یہ اعزاز و اکرام اور مَحبّت و شفقت دیکھ کر حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: اللہ کی قسم! میری یہ آرزو تھی کہ میں ان کی جگہ پر ہوتا حالانکہ میں حضرت ذُوالْبِجَادَیْن سے 15 بر س پہلے اسلام لایا تھا۔ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےیہ روح پرور منظر دیکھ کر اپنے جذبات کا اظہار یوں فرمایا:اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ میں اس قبر میں ہوتا۔[11] یاد رہےکہ حضرت سیدنا ذُوالْبِجَادَیْن رضی اللہ عنہکےعلاوہ غزوۂ تبوک میں کسی اور صحابی کی وفات نہیں ہوئی۔

_______________________

٭…عدنان احمد عطاری مدنی      

٭…مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مرنی مرکز فیضان مدینہ کراچی     



[1] وفاء الوفا،ج3،ص897

[2] دلائل النبوۃ،ص314

[3] سیر سلف،ص:247

[4]مدارج النبوۃ،ج2،ص351

[5]سیر سلف، ص: 248

[6]دلائل النبوۃ، ص314،اسد الغابہ،ج3،ص230

[7]سیر سلف،ص:247ملخصاً

[8]دلائل النبوۃ، ص: 314،  سبل الھدیٰ والرشاد،ج5،ص479

[9]سیرت حلبیہ،ج3،ص199تا200 ملتقطاً

[10]مدارج النبوۃ،ج2،ص351

[11]اسد الغابہ،ج3،ص231

Share

Articles

Comments


Security Code