اشعار کی تشریح

Image
اللہ پاک کا اپنے مُقرَّب بندوں پر ایسا خاص کرم ہے کہ اُن کی زبان سے نکلنے والے اَلفاظ اور قلم سے ظاہر ہونے والے نُقوش میں بھی برکت رکھ دیتا ہے۔
Image
اور مجھ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رضا مندی و خوشنودی والی نگاہِ خاص رکھئے۔ اور اپنے فضل و اِحسان سے میری کوتاہیوں (غفلتوں) کو سَدا کے لئے چُھپائے ہی رکھئے۔
Image
سیِّدِ کائنات ، فخرِ موجودات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس اور صِفات مبارَکہ کی خوبیوں کو تقریباً ہر زمانےاور ہر زبان ہی کے شاعروں نے مختلف نعتیہ کلاموں
Image
سیِّدُالکُل ، امامُ الرُّسل صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دونوں مبارَک شانوں کے درمیان کبوتری کے اَنڈے کے برابر ایک پیاری اور نُورانی مُہرِ نُبُوَّت تھی۔
Image
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اِس شعر میں اِیمان کی حقیقت اور  اَصل رُوح کو بڑےواضح  اَلفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
Image
غوثُ الاَغواث ، قُطبُ الاَقطاب ، غوثِ اعظم سیِّدنا شیخ عبدُالقادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنے والدِ ماجد کی نسبت سے حَسنی اور والدہ مُحترمہ کی طرف سے حُسینی سیّد ہیں۔
Image
یہ کائنات حسین مناظر سےبھری ہوئی ہے ، ان مناظر اور نظاروں کو ہر کوئی اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے ،
Image
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  چودھویں صدی ہجری کے مُجدّد ، بہت بڑے عالِم ا ور مفتی ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجے کے نعت گو شاعر بھی تھے ،
Image

الفاظ ومعانی : سَمْت : جانب ، طرف۔ وَسیلہ : ذریعہ ، واسطہ۔