اشعار کی تشریح

Image
شرح:اس شعر میں اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت   رحمۃ اللہ  علیہ نےبڑی فصاحت کےساتھ ایک حدیثِ پاک اوراسلامی عقیدے کی بہترین ترجُمانی فرمائی ہے۔اللہ پاک نے اپنے محبوبِِ اکبر صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دنیا و آخرت میں یہ مقام و اِعزاز عطا فرمایا
Image
نور (Light) کی وجہ سے اِس کے سامنے آنے والی مُجسَّم (Solid) شے کا سایہ تو بنتا ہے مگر نُور اور روشنی کی اپنی ذات کا سایہ نہیں ہوتا کیونکہ روشنی اور سایہ(تاریکی) ایک دوسرے کی ضد (یعنی اُلٹ) ہونے کی وجہ سے
Image
شرح:یہ بات تجرِبہ شدہ ہے کہ اِخلاص کے ساتھ نمازِ غوثیہ پڑھنا رائیگاں نہیں جاتا بلکہ جس مقصد کیلئے پڑھی جائے وہ پورا ہو جاتا ہے۔
Image
 یوں تو ہر دَور میں سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعریف و توصیف میں دنیا کی مختلف زبانوں میں  بے شمار کلام لکھے گئے لیکن  چند کلام ایسے ہیں کہ وقت گزرتا رہا مگر ان کی مقبولیت
Image
امامِ اہلِ سنّت ایک ایسی ہَمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کہ جب کوئی آپ کی شخصیت سے متعلق لکھنا چاہے تو وہ یقیناًسوچنے پرمجبورہوتا ہوگا کہ کس پہلو سے متعلق لکھوں اور کسے ترک کروں! بقولِ شاعر:
Image
حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بھوک کی حالت میں راستے میں موجود تھے کہ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور چہرہ دیکھ کر ان کی حالت سمجھ گئے۔ انہیں ساتھ لے کر اپنے مکانِ عالی شان پر تشریف 
Image
غزوۂ حُنین کے دوران ایک موقع پر تھوڑی دیر کے لئے کفار نے غَلَبہ پایا اور رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ صرف چند جانثار رہ گئے۔ اس وقت اللہ غَالِب کے رسولِ غالب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر شانِ جلال طاری تھی
Image
سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نامِ نامی، اسمِ گرامی ”محمد“ کے کثیر فضائل و خصائص میں سے ایک یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت سیّدُنا نوح نَجِیُّ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی کشتی اس مبارک نام کی بدولت جاری ہوئی۔