تفسیر قراٰنِ کریم

Image
 اللہ تعالیٰ  کی اپنی مخلوق پر نعمتوں کی بارش ہرآن تَواتُر سے بَرس رہی ہے۔
Image
یہ آیت حضرتِ ابوبکر صِدیق  رضی اللہ عنہ  کے بارےمیں نازل ہوئی ، واقعہ یوں ہے کہ حضرت مِسطَح  رضی اللہ عنہ  حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی خالہ کے بیٹے تھے ، نادار ، مہاجر اور بدری صحابی تھے۔ 
Image
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور عبادت کے جملہ طریقے اسی کےلئے خاص کردئیے جائیں یعنی جانی ، 
Image
اور انہیں تسکین دی گئی کہ منزلوں کے فرق کے باوجود فرمانبرداروں کو نبیِّ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں حاضری اور مَعِیَّت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا
Image
وہ جو اس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں ، جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں ،
Image
اس آیت مبارکہ میں اللہ کی رحمت ، نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تربیت ، صحابہ کی عظمت کی روشن دلیل اور علم کے بہت سے موتی ہیں۔
Image
متقیوں کی تعریف : عوام کا حرام اور شبہ والے کام چھوڑ دینا ، خواص کا نفس کی خواہشات چھوڑ دینا اور اخص الخواص یعنی بہت ہی خاص ہستیوں کا خدا کے علاوہ سب سے دل پھیر لینا تقویٰ ہے۔ اس تیسری قسم کے متعلق  قرآنِ پاک میں ہے :
Image
انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ وہ بہت جلد خواہشاتِ نفسانی کی طرف  مائل ہو جاتا ہے
Image
میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔