کیا کافر جنّتی یا ولی ہوسکتاہے؟(قسط:01)

آخر درست کیا ہے؟

کیا کافر جنّتی یا ولی ہوسکتا ہے؟(قسط : 01)

* مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ اپریل 2021

دینِ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ آخرت کی نجات صرف اہلِ ایمان کو نصیب ہوگی اور دنیا میں کوئی کافر کتنا ہی اچھا عمل کرلے ، اگر وہ کفر کی حالت میں مرا ، تو آخرت میں اسے نیک اعمال کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جسے قرآن و حدیث پڑھنے والا ہر مسلمان بخوبی جانتا اور ہر صاحبِ ایمان مانتا ہے اور جس میں آج تک کسی نے شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا لیکن افسوس کہ موجودہ زمانے میں اسلام سے دوری ، عظمتِ اسلام سے بے خبری اور ایمان کی قدر و منزلت دل میں نہ ہونے کی وجہ سے کلمہ پڑھنے والے لبرل ، سیکولر لوگ اس بنیادی عقیدے سے بھی انحراف کرتے اور اس کے خلاف لکھتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ طریقۂ واردات یہ ہے کہ کسی کافر سائنسدان یا انسانیت کی خدمت کرنے والے غیر مسلم کے کارنامے بیان کرکے پہلے پوری دنیا میں اُس کے فیضِ عام کے سچے جھوٹے قصے بیان کئے جاتے ہیں اور پھر اسے کافر مانتے ہوئے بھی خدا کا مقرب ، اللہ کا ولی ، جنتی روح وغیرہ کی جھوٹی سندیں جاری کردی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ عدل سے یہ قطعی قانون بنایا ہے کہ اچھے اعمال پر آخرت میں جزا پانے کے لئے ایمان شرط ہے۔ اگر کوئی یہ شرط پوری کرتا ہے تو آخرت میں جزا کا حق دار ہے ورنہ اسے دنیا ہی میں عزت ، دولت ، شہرت ، منصب ، رزق ، سہولیات اور اس طرح کی چیزیں صلہ میں دیدی جاتی ہیں لیکن آخرت میں اس کے اعمال باطل قرار پاتے ہیں۔ ہاں کسی کے اچھے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُسے ایمان کی دولت عطا فرمادے ، خواہ اس بندے کی موت سے کچھ دیر ہی پہلے اور اگرچہ ہمیں معلوم نہ ہو تو یہ خدا کی مرضی ہے لیکن قانون وہی رہے گا کہ حقیقتاً کفر پر مرنے والا جہنمی ہے اور اسے آخرت میں اچھے اعمال کا صلہ نہیں ملے گا۔

اس قطعی عقیدے پر قرآن و حدیث سے چند دلائل پیش کرتا ہوں۔

اسلام کے علاوہ کوئی دین خدا کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔ قرآن میں فرمایا : ( وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۸۵)) ترجمہ : اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (پ3 ، آل عمران : 85)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  جو ایمان نہ لائے ان کے اعمال خدا کی بارگاہ میں باطل و مردود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اُولٰٓىٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۱۹)) ترجمہ : یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں ہیں تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (پ21 ، الاحزاب : 19)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  بلکہ جس نے حالتِ ایمان میں نیک اعمال کئے کہ اس وقت بوجہِ ایمان مقبول تھے لیکن پھر وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگیا تو پہلے کے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں چنانچہ فرمایا : (وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷)) ترجمہ : اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (پ2 ، البقرۃ : 217)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

کافروں کے بارے میں خدا کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے ، خدا کا قرب و ولایت اور آخرت کی نجات انہیں ہرگز نصیب نہیں ہوگی ، چنانچہ قرآن میں فرمایا : ( اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶)  )

ترجمہ : بیشک اہلِ کتاب میں سے جو کافر ہوئے وہ اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ، وہی تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔ (پ30 ، البینۃ : 6)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  خدا کی دوستی کا شرف صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہوتا ہے ، چنانچہ فرمایا : (اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-) ترجمہ : اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ (پ3 ، البقرۃ : 257)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  کافروں سے تو خدا نے دشمنی کا اعلان فرمایا ہے چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے : (فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)) ترجمہ : تو بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (پ1 ، البقرۃ : 98)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

کافر اپنے اعمال کے بدلے میں جس جزا کا زبانی یا دلی طور پر مطالبہ کرتے ہیں وہ دنیا ہی ہوتی ہے کہ انہیں دنیا میں عزت ، شہرت ، نام ، دولت ، منصب ، رتبہ مِل جائے۔ آخرت نہ تو اُن کی سوچ میں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی دعا کرتے ہیں لہٰذا ایسوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں چنانچہ ایسوں کے متعلق فرمایا : (فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(۲۰۰)) ترجمہ : اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دیدے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (پ2 ، البقرۃ : 200)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور خدا کا قطعی قانون یہ ہے کہ آخرت کا ثواب اُسی کو ملے گا جو مومن ہو ، آخرت کو مانتا ہو ، آخرت کی نعمتوں کا طلب گار ہو اور اس کے اچھے اعمال کے پیچھے آخرت کی جزا کا قصد و ارادہ ہو چنانچہ قرآنِ مجید میں فرمایا : (وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)) ترجمہ : اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ (پ15 ، بنی اسرائیل : 19)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : (مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-)ترجمہ : جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔ (پ25 ، الشوریٰ : 20)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جب کافر وں کا اپنا مقصود و مراد ہی دنیا ہے تو انہیں آخرت کیونکر ملے گی؟ ہاں ، جب دنیا ہی ان کا مقصود ہے تو وہ مختلف صورتوں میں انہیں دے دی جاتی ہے اور یہی اُن کے اچھے اعمال کا صلہ قرار پاتا ہے ، چنانچہ قرآن میں فرمایا : ( وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰))ترجمہ : اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے توہم اسے اس میں سے کچھ دیدیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (پ25 ، الشوریٰ : 20)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : ( مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ-یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸)) ترجمہ : جو جلدی والی (دنیا) چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموم ، مردود ہو کر داخل ہوگا۔ (پ15 ، بنی اسرائیل : 18)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : ( مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶))ترجمہ : جو دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور انہیں دنیا میں کچھ کم نہ دیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں۔ (پ12 ، ھود : 15تا16)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(مزید اگلی قسط میں)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارُ الافتاء اہل سنت ، فیضان ِ مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code