نمازی اور اہلِ محلہ (تیسری اور آخری قسط)

کیسا ہونا چاہیے؟

نمازی اور اہلِ محلہ(تیسری اور آخری قسط)

*مولانا  ابو النور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر2023ء

*ویسے تو امام صاحب اور دیگر سبھی کو جماعت کے بعد سنتیں اور نوافل مسجد ہی میں ادا کرنے چاہئیں تاکہ کہیں مصروفیات کےباعث رہ نہ جائیں لیکن بعض امام صاحبان کی امامت کے علاوہ دیگر علمی مصروفیات بھی ہوتی ہیں جن کے باعث بعض اوقات فرضوں کے بعد کی سنتیں اور نوافل مسجد میں ادا نہیں کرتے، وہ یا تو گھر پر ادا کرتے ہیں یا کہیں جانا ہو تو وہاں جا کر ادا کرلیتے ہیں، اسی طرح کئی ائمہ وِتْر صبح تہجد کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں نمازیوں کو امام کے بارے میں بدگمانی نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی اس حوالے سے بَضِد ہونا چاہئے کہ وہ مکمل نماز پڑھ کر تمام نمازیوں کو مسجد سے بخیر و عافیت رخصت کرکے ہی گھر جائیں۔

*روزمَرَّہ کی ضرورتیں سب کے ساتھ ہوتی ہیں، امام و مؤذن بھی انسان ہیں، انہیں بھی اپنے بچوں اور فیملی کی ضروریات کے سلسلے میں کہیں جانے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے جیسے عام ملازمین اور ورکرز اداروں سے چھٹی لے کر اپنے پیاروں کوملنے جاتے ہیں ، اسی طرح اگر امام صاحب یا مؤذن صاحب  نماز یا اذان سے رخصت پر جاتے ہیں تو اہلِ محلہ کو بلاوجہ باتیں بنانے کی بجائے ان کا ساتھ دینا چاہئے۔

*بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کبھی اقامت میں چند سیکنڈ تاخیر ہوجائے یا اذان چند منٹ لیٹ ہوجائے تو امام و مؤذن کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا  نہیں کرنا چاہئے، چند سیکنڈ یا منٹ کی تاخیر کبھی کبھار ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں۔

*کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو امام صاحبان کے ساتھ بہت ہمدردی دکھاتے ہیں، ہر بات میں تائید کرتے ہیں، بات بات پر امام صاحب کی تعریفیں کرتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد امام صاحب سے پیسے ادھار مانگتے ہیں، ایک دو بار تو پیسے مانگ کر لوٹا دیں گے، اس کے بعدعموماً نظر نہیں آتے۔

*کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ لازماً مسجد کے معاملات میں امام صاحب اور مؤذن صاحب ہی کو کوسنا چاہتے ہیں، بالخصوص ایسی مساجد کہ جہاں  امام و مؤذن مسجد کی تعمیر وغیرہ  کے معاملے میں متحرک ہوں اور مسجد کے لئے فنڈ وغیرہ کی ترغیب دلاتے ہوں تو اکثر لوگ مسجد کی صفائی، اذان وقت پر نہ ہونے، کسی لائٹ یا پنکھے کے خراب ہونے وغیرہ کی شکایتیں امام صاحب کو کررہے ہوتے ہیں اور انداز بھی ایسا ہوتا ہے کہ جیسے سپروائزر صاحب مزدور کو اس کی بہت بڑی غلطی پر تنبیہ کررہے ہوں۔ ایسے احباب سے گزار ش ہے کہ یہ امام صاحب کا کام نہیں ہوتا ، ایسے معاملات کی خبر مسجد انتظامیہ کو دینی چاہئے۔

*اہلِ محلہ کو مسجد انتظامیہ یا  مسجد کے کسی بھی کام کے حوالے سے کوئی شکایت یا پریشانی ہو تو   چاہئے کہ مسجد انتظامیہ کے افراد سے مل کر اکیلے میں بات کی جائے، بھری مسجد میں ، مجمعِ عام کے سامنے یا جمعہ  وغیرہ کے اجتماع میں مسجد کے مسائل کا شور مچانا بھلے کا نہیں بلکہ فتنے کا کام ہے۔

*بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ عمر زیادہ ہونے کی صورت میں خود کو علم میں بھی زیادہ سمجھتے ہیں، جبکہ حالت یہ ہوتی ہے کہ حدیث کی تین کتابوں کے نام بھی معلوم نہیں ہوتے، ایسے لوگ کئی مرتبہ امام صاحب کے بیان کردہ نماز وغیرہ کے شرعی مسائل پر بھی اعتراض کررہے ہوتے ہیں، بعض تو کہتے ہیں کہ ”ہمیں 20 یا30 سال ہوگئے نماز پڑھتے ہوئے، ہم نے تو یہ مسئلہ نہیں سنا۔“ آپ نے نہیں سنایا آپ کو کسی نے بتایا نہیں تو اس میں امام صاحب کا کیا قصور ہے!!

مسجد کی کرسیاں بھی بعض اوقات اکھاڑے کا سبب بن جاتی ہیں کیونکہ  کرسی پر نماز پڑھنے والے بعض لوگ اتنے سیٹھ ہوتے ہیں کہ مسجد میں آنا بھی لیٹ ہے اور کرسی لے کر بیٹھنا بھی پہلی صف میں ہے، یوں وہ کرسی اٹھا کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے کسی کو گھٹنا مارتے تو کسی پر کرسی لہراتے پہلی صف کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں کہ جیسے ان کے پہلی صف میں نہ بیٹھنے سے کسی کی بھی نماز قبول نہیں ہوگی۔ الامان والحفیظ

نوٹ: کرسی پر  نماز پڑھنے کے حوالے سے  تفصیلی اور شرعی مسائل کی معلومات پر مشتمل انتہائی اہم رسالہ ” کرسی پر نماز پڑھنے کے احکام“ پڑھئے۔ یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.com سے یا اس کیو آر کوڈ کے ذریعے مفت ڈاؤنلوڈ کیجئے۔

اسی طرح بعض احباب اپنے بچے ساتھ لاتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بچہ ان کے ساتھ ہی بڑوں کی صف میں کھڑا ہو، حالانکہ شرعی مسئلہ ہے کہ ناسمجھ  بچوں کو بالغوں کی صف میں کھڑا کرنا منع ہے۔    بعض تو جمعہ کے دن دورانِ بیان لیٹ آتے ہیں اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے  آکر بیٹھتے ہیں اور اکیلے نہیں بلکہ نواسے یا پوتے کو بھی ساتھ ہی بٹھانا ہے، کئی دفعہ دیگر نمازیوں سے تکرار تک بھی بات پہنچ جاتی ہے۔ ایک اما م صاحب کا بیان ہے کہ ہماری مسجد میں ایک صاحب کا ایسا ہی معمول تھا،  ایک مرتبہ کسی نمازی نے ان کے بچے کو پیار سے پچھلی صف میں کھڑا کردیا، بچہ وہیں سے گھر چلا گیا، نماز سے فارغ ہوئے تو وہ صاحب امام صاحب پر بگڑنے لگے کہ لوگ بچوں کو پیچھے کیوں کردیتے ہیں، اب بتائیں کہ امام بے چارہ کیا کرے؟ امام صاحب نے بڑے پیار سے کہا کہ محترم ناسمجھ بچوں کو پچھلی صفوں میں کھڑا کرنے کا حکم ہے، تو وہ فرمانے لگے کہ فلاں مسجد میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ 

یادرکھئے کہ  ” ایسے ناسمجھ  بچے  جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتے چونکہ نماز کے اہل ہی نہیں ہوتے لہٰذا ان کے صف میں کھڑے ہونے سے ضرور صف قَطع ہوگی اور قطعِ صف ناجائز و گناہ ہے۔  لہٰذا انہیں ہرگز مَردوں کی صف میں کھڑا نہ کیا جائے تکمیلِ صف کا دھیان رکھا جائے۔“(ماہنامہ فیضان مدینہ، جنوری2018،ص13)

*مسجد میں بیٹھنا اور ذکر و اذکار میں مصروف رہنا اگرچہ ثواب کا کام ہے لیکن بعض نمازی  ایسے ہوتے ہیں کہ وہ آخر تک بیٹھے رہتے ہیں لیکن جاتے وقت  نہ مسجد کا دروازہ بند کرتے ہیں اور نہ ہی لائٹیں وغیرہ آف کرتے ہیں۔ ایسے احباب سے گزارش ہے کہ خدارا مسجد کے بارے میں صرف ایک بار اپنے گھر کی طرح سوچئے کہ اس کا بھی بجلی کا بل دیا جاتا ہے اور مسجد کے سامان وغیرہ  کی حفاظت بھی  ضروری ہوتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ، نائب مدیر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code