مؤذن کو کیسا ہونا چاہئے؟ (قسط:02)

کیسا ہونا چاہئے

مؤذن کے اوصاف(دوسری اور آخری قسط)

*   ابوالنّور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الاول1442ھ

گزشتہ سے پیوستہ :

* اگر علاقے میں لائٹ آف ہوتی ہو اور واقعی اندیشہ ہو کہ نماز کے دوران لائٹ آف ہوجائے گی تو مؤذن صاحب کو چاہئے کہ اقامت سے پہلے چارجنگ لائٹ وغیرہ آن کردیں تاکہ اگر لائٹ آف ہوجائے تو یک لخت اندھیرا نہ چھا جائے۔ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ مسجد میں چند ایسی چارجنگ لائٹس لگائی جائیں جو بجلی آف ہونے پر خود ہی روشن ہوجاتی ہیں۔

  * اگر مسجد میں جنریٹر کا انتظام ہو اور لائٹ آف ہونے کا وقت مقرر ہو یا کسی فنی خرابی کے باعث بار بار لائٹ آن آف ہو رہی ہو تو بالعموم جماعت اور بالخصوص جمعہ کے وقت جنریٹر آن کرلینا چاہئے تاکہ  جمعہ کے بیان اور نماز کا لطف برقرار رہے

 * اسی طرح اس بات پر بھی خاص توجہ رکھیں کہ نماز کے بعد جیسے ہی لائٹ آن ہوجائے یا جنریٹر کی ضرورت پوری ہو جائے  تو فوراً جنریٹر آف کردیں۔

 * مسجد کھولنے اور بند کرنے کے حوالے سے بھی مؤذن صاحب کو بہت پابندی اور توجہ کی ضرورت ہے ، اس حوالے سے اہلِ محلہ اور انتظامیہ کی مشاورت سے کوئی وقت طے کرلینا چاہئے اور مقررہ وقت پر مسجد کو بند کردینا چاہئے۔ اگر کوئی نمازی چند منٹ زیادہ بھی مسجد میں عبادت میں مصروف ہو تو ناراضی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے نیز اگر اس ٹائم سے ہٹ کر بھی کوئی نماز ، نوافل یا تلاوتِ قراٰن وغیرہ کیلئے مسجد میں آجائے تو ممکنہ صورت میں اسے عبادت کا موقع دینا چاہئے ، ہاں البتہ اگر کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو طے شدہ اصول پر عمل کرنا چاہئے۔

 * مؤذن صاحب کو چاہئے کہ گرمی کے موسم میں اذان سے پہلے یا فوری بعد مسجد کی کھڑکیاں وغیرہ کھول دیں تاکہ حبس وغیرہ کم ہوجائے اور نمازیوں کے جانے کے بعد پھر سے بند کردیں تاکہ باہر سے دُھول مٹی نہ آئے اور اگلے وقت صفائی میں دِقّت نہ ہو۔

  * بعض مؤذن صاحبان کی عادت ہوتی ہے کہ اذان دیتے ہی فوراً ساری لائٹیں اور پنکھے چلا دیتے ہیں چاہے ایک بھی نمازی موجود نہ ہو ، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے ، آخر مسجد کا بھی بِل آتاہے جو کہ بڑی محنت سے جمع کئے گئے چندے میں سے ادا کیا جاتا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ جیسے جیسے نمازی آتے جائیں اسی حساب سے پنکھے چلائے جائیں۔

 * بعض نمازیوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک پنکھے کے نیچے ایک بندہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس کے پاس نماز پڑھنے کے بجائے اپنے لئے الگ پنکھا چلائیں گے ، ایسی صورت میں مؤذن صاحب کو چاہئے کہ پیار محبت سے سمجھا دیں ، ایک آدھ بار کہنے سے نہ مانیں تو الجھنے اور تکرار کرنے سے بالکل پرہیز رکھیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں یا ضرورتاً مسجد انتظامیہ سے بات کرلیں ، اِنْ شَآءَ اللہ  آج نہیں تو کل وہ خود ہی نادِم ہوگا جبکہ تکرار کے باعث ممکن ہے کہ وہ بدتمیزی کرے یا مسجد میں آنا ہی چھوڑ دے۔

 * مؤذن صاحب کو چاہئے کہ بزرگ نمازیوں کے حوالے سے زیادہ احتیاط برتیں ، کبھی صفائی کرتے ہوئے یا کسی بھی معاملے میں وہ کچھ کہہ دیں تو ناراض ہونے یا اُلٹا جواب دینے  کے بجائے مسکرا کر موقع گزار دیں۔

 * اہلِ محلہ اگرکبھی کھانا وغیرہ مسجد میں بھیجیں تو بھی نفاست کا مظاہرہ کریں ، ہر چیز مسجد میں رکھ لینا اور پھر خراب ہونے اور سڑنے کے بعد برتنوں کی صفائی کرنا یا کسی کے آئے ہوئے برتن وغیرہ واپس دینے کی زحمت نہ کرنا  انتہائی  غیرمناسب ہے بلکہ تقاضے کے بعد بھی نہ دینا ناجائز و حرام ہے

  * رمضانُ المبارک میں اکثر لوگ افطاری کیلئے شربت اور فروٹ وغیرہ مساجد میں بھیجتے ہیں ، مؤذن صاحب کو چاہئے کہ جس قدر مسجد میں استعمال ہو سکتاہو اتنا ہی رکھیں اور بقیہ  کے بارے میں لوگوں کو پیار محبت سے سمجھا دیں کہ یہاں ضائع   ہوگا کسی غریب مسلمان کے گھر دے دیں ۔

* محلے میں کسی مسلمان کی میّت ہوجائے تو اس موقع پر بھی مؤذن صاحب کو توجہ رکھنی چاہئے یعنی جنازہ والی چارپائی وغیرہ وقت پر مہیا کرنا ، میّت اور جنازہ کا اچھے انداز میں اعلان کرنا اور سوئم وغیرہ کے دن وقت پر ہی اہتمام رکھنا جہاں اخلاقی اعتبار سے اہم ہے وہیں مؤذن صاحب کی کارکردگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

 * مسجد کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ مؤذن صاحب کو  چاہئے کہ امام صاحب کے معاملات کا بھی خیال رکھیں مثلاً جائے نماز وغیرہ جھاڑ کر بچھائیں ، خطبہ و بیان وغیرہ میں پانی اور کتابیں وغیرہ جو ان کی ضرورت کی ہوں ان کے پاس رکھ دیں ، اور کسی بھی معاملے میں امام صاحب کے ساتھ نہ اُلجھیں ۔

* مسجد انتظامیہ یا امام صاحب مسجد کے حوالے سے کوئی کام  بولیں تو تکرار یا انکار ہرگز نہ کریں ، اگر کرنا ممکن ہو تو کردیں نہ ہوسکتا ہو تو پیار محبت سے بتادیں کہ اس میں یہ پرابلم ہے۔

  * بعض مساجد میں مسجد انتظامیہ کے افراد خوب ایکٹو ہوتے ہیں اور بخوبی خدمت انجام دیتے ہیں ، جبکہ بعض جگہ انتظامیہ کی سُستی یا ذاتی مصروفیات کے باعث مسجد کے چھوٹے موٹے کام مؤذن صاحب ہی کے ذمہ ہوتے ہیں اور اگر مؤذن صاحب بھی توجہ نہ دیں تو یہ کام اکثر اِلتِوا کا شکار رہتے ہیں ، مثلاً کوئی لائٹ یا پنکھا وغیرہ خراب ہوجائے یا خادمِ مسجد کو صفائی کے لئے کوئی سامان درکار ہو تو مؤذن صاحب کو چاہئے کہ انتظامیہ سے بات کرکے ضروریات کو پورا کریں۔

 * مسجد کی دریوں اور دیگر سامان کا استعمال شریعت کے مطابق کرناچاہئے ، بعض مؤذن صاحبان پُرانی دری صفائی کے لئے خادم صاحب کو دے دیتے ہیں جو اسے کاٹ کر وائپر پر لگا لیتے ہیں ، اسی طرح بعض تو مسجد کی دریاں کھانا وغیرہ کھانے کے لئے بچھا لیتے ہیں ، یاد رکھئے کبھی بھی مسجد کی چیز کسی دوسرے کام میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ، اگر وہ استعمال کے بالکل بھی قابل نہ رہی ہو تو بھی مفتیانِ کرام سے راہنمائی لینے کے بعد ہی اسے دیگر استعمال میں لایا جائے۔

 * بارش ، آندھی طوفان ، مسجد کی تعمیرات اور دیگر مواقع  پر دریوں وغیرہ کو توجہ کی بہت حاجت ہوتی ہے ، بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ جب بارش دریاں وغیرہ بھگو دیتی ہے اور آندھی وغیرہ دھول مٹی سے بھر دیتی ہے تو ان کی طرف توجہ کی جاتی ہے ، یہ انداز سراسر مسجد کے لئے نقصان دہ ہے  ۔

* اسی طرح مسجد میں رکھا دیگر سامان جیسے لائٹس ، پنکھے ، کتابیں وغیرہ سب چیزوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ مؤذن صاحب کو چاہئے کہ بَروقت اقدام سے ان چیزوں کی حفاظت کریں ، اگر یہ کام بَروقت کئے جائیں تو مشقت کم ہوتی ہے لیکن اگر بے توجہی اور سُستی کا مظاہرہ ہو تو کام اکٹھا ہوتا رہتا اور مشقت کا باعث بنتاہے جس کے نتیجےمیں  اکثر مسجد کی چیزیں  ضائع ہوجاتی ہیں ۔

*  بارش وغیرہ کے موسم میں یا ویسے ہی کسی سبب سے اگر چھت پر پانی جمع ہوجائے تو اسے نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بالخصوص کہ جب چھت ٹپکنے کا اندیشہ ہو تو ضرور توجہ دینی چاہئے لہٰذا اس موقع پر مسجد انتظامیہ سے کہہ کر یا خادمِ مسجد کو بول کر پانی لازمی نکالنا چاہئے۔

 * پیارے مؤذن صاحبان! اگر مسجد کی انتظامیہ ایکٹو نہ ہو ، مسجد کی چھوٹی موٹی ضروریات بلاوجہ اِلتِوا کا شکار ہوں تو ہمیں چاہئے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ، ثواب کی نیّت سے مسجد کی خدمت کرتے ہوئے ان کاموں کو انجام دے دیں ، ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ “ یہ میرا کام نہیں “ ، مسجد انتظامیہ  مساجد سے کوئی تنخواہ نہیں لیتی ، بلکہ وہ  فِی سَبِیلِ اللہ کام کرتے ہیں اور ثواب کماتے ہیں ، اگر ہم بھی  فِی سَبِیلِ اللہ اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ مسجد کی خدمت کرلیں گے تو ہماری ہی آخرت سنورے گی اور  نمازی حضرات مسجد سے دور نہیں ہوں گے ۔

* مسجد انتظامیہ یا دیگر کسی بھی حوالے سے کوئی شکایت یا پریشانی ہو تو عام لوگوں کے سامنے ہرگز تذکرہ نہیں کرنا چاہئے  بلکہ اولاً امام صاحب سے مشورہ کریں پھر اگر مناسب ہو تو مسجد انتظامیہ سے بات کریں ، بِلاوجہ عوامُ الناس کے سامنے اپنے مسائل بیان کرنا عزّت و وقار کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسجد انتظامیہ کو بھی بلاضرورت تشویش میں مبتلا کرے گا

 * لَین دَین کے معاملات ، اُدھار ، لوگوں سے فضول تعلقات ،  بلاضرورت مسجد سے باہر گھومنے پھرنے ، مسجد میں ہونے والی محافل و اجتماعات وغیرہ میں مصروفیات نبھانے  اور لوگوں کے گھروں میں جا کر بچّوں کو پڑھانے وغیرہ کے معاملات میں مؤذن صاحب اور امام صاحب دونوں کو ہی بہت زیادہ  احتیاط کی ضرورت ہے اس کی تفصیل کے لئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ (شوال المکرم 1441ھ)  کا مضمون “ امام کو کیسا ہونا چاہئے؟ “ لازمی پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ناظم ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code