احسانات کا بدلہ

گزارش

احسانات کا بدلہ

* امّ میلاد عطاریہ

ماہنامہ ربیع الاول1442ھ

مُعاشرے کو بہتر سے بہترین بنانے والے سنہری اُصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے محسن ، خیر خواہ اور غم و خوشی میں یاد کرنے والی شخصیت کو کبھی بھلایا نہیں جاتا ، اسے بھی راحت و مصیبت میں یاد رکھا جاتا ہے اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ناراضی سے بچا جاتا ہے۔

پیاری بہنو! ایک عام انسان کے ساتھ اس سنہرے اصول کا جب یہ تقاضا ہے تو وہ جو ہمارے آقا ہیں ، سب کے مولیٰ ہیں بلکہ اس اُمّت کے نبی و رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہیں جو اپنی عالی شفقت ، کامل رَحمت کے سبب اُمّت کو ، ہم سب کو ہر مقام پر یاد رکھتے رہے یہاں تک کہ معراج  کی رات بھی نہ بھولے ، اپنے رب سے دعائیں کرتے رہے اور ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہے ، عذاب سے بچایا اور بہت سی مصیبتوں سے نجات دلائی۔ یہاں تک کہ خود ربِّ کریم نے آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس فکرِ امّت کو قراٰن پاک میں یوں بیان فرمایا : (عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)) تَرجَمۂ کنزُ الایمان : جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ ( پ11 ، التوبۃ : 128(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مُحدِّثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولاناسردار احمد  رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حُضُورِ پاک  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تو ساری عمر ہمیں اُمَّتی اُمَّتی کہہ کر یاد فرماتے رہے ، قبر ِانور میں بھی اُمَّتی اُمَّتی فرما رہے ہیں اور حشر تک فرماتے رہیں  گے یہاں  تک کہ محشر کے روز بھی اُمَّتی اُمَّتی فرمائیں گے۔ حق یہ ہے کہ اگر صِرف ایک بار بھی اُمّتی فرما دیتے اور ہم ساری زندگی یانبی یانبی ، یارسولَ اللہ یَاحبیبَ اللہ کہتے رہیں  تب بھی اُس ایک بار اُمّتی کہنے کا حق ادا نہیں  ہو سکتا۔ ( عاشق اکبر ، ص 53)

پیاری اسلامی بہنو! رحیم آقا ، کریم مولیٰ محمد مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بے شمار احسانات  کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کی یادوں کو دل میں بساتے ، ان کے ذکر سے اپنے دل و دماغ کو معطر کرتے ، گلدستۂ فرامین سے عملی زندگی سجاتے ، ان پر نازل ہونے والے قراٰن کے احکامات کو بجالاتے ، فرائض و واجبات کو لازم پکڑتے ، حقوقُ العِباد کی ادائیگی کرتے ، لیکن!  ہوا کیا؟ ہم تو نفس و شیطان کے ہاتھوں مغلوب ہوگئے ، اور گویا اپنے کھلے دشمن شیطان کو ہی اپنا دوست بنا بیٹھے ، اور اپنے محسن کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ، کیا ایسا ہوتا ہے احسان کا بدلہ؟ ہرگز نہیں!  ہرگز نہیں!

پیاری اسلامی بہنو! ابھی بھی وقت ہے ، سانسیں چل رہی ہیں ، فانی زندگی فنا نہیں ہوئی ،  جلدی کیجئے اپنے مولیٰ محمد مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو راضی کیجئے ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا شروع کیجئے ، سابقہ غلطیوں پر معافی مانگئے ، بیشک وہ بڑے کریم ہیں ، ان کا بابِ رحمت ہر وقت کھلا رہتاہے ، ضرور وہ معاف کریں گے ،  خوش ہوں گے ، اپنے رب کے ہاں سے بخشوائیں گے ، دنیا بھی سنواریں گے ، آخرت میں بھی جہنم سے بچائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی ) اسلامی بہن

Share

Articles

Comments


Security Code