رسولُ اللہ اور بچّے

ماں باپ کے نام

رسولُ اللہ اور بچے

شاہ زیب عطاری مدنی

ربیع الاول1442ھ

محترم والدین! بچّوں کی صحت اور تربیّت کا کس طرح خیال رکھا جاتا ہے ، آدابِ زندگی سے کس طرح ان کے چال چلن کو آراستہ کیا جاتا ہے ، کیسے ان کے دِلوں کو عِلم کے نور سے مُنوَّر اور عمل کی مہک سے مُعطَّر بنایا جاتا ہے ، یہ سب کریم آقا ، چھوٹوں پر شفقت سکھانے والے رحیم مولیٰ محمد مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنی باتوں سے بتایا اور عمل کرکے دکھایا ہے۔ آئیے! اپنی زندگی میں شامل کرنے کی نیّت سے آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سیرتِ طیبہ سے اس طرح کے چار واقعات ملاحظہ کرتے ہیں :

(1)کھانے میں شریک کرتے بلکہ تربیت بھی  فرماتے : اُمُّ المؤمنین اُمِّ سَلَمہ   رضی اللہ عنہا  کے بیٹے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پاس آیا ، آپ کے پاس کھانا موجود تھا تو فرمایا : بیٹے! قریب آؤ ، بِسْمِ اللہ پڑھو اور سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ ([i])

ایک اور روایت میں ہے کہ کھانے کے دوران میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں ہر طرف گھوم رہا تھا تو رسولِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا کہ اپنے آگے سے کھاؤ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں اپنے آگے سے ہی کھانا کھاتا تھا۔ ([ii])

(2)مقابلے کرواتے بلکہ انعام سے بھی نوازتے : حضرت عبدُاللہ بن حارث  رحمۃ اللہ علیہ  كہتے ہیں کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے چچا حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  کے تینوں بیٹوں کی صف بناکر ایک لائن میں کھڑا کرتے پھر فرماتے کہ جو دوڑ کر میرے پاس پہلے آئے گا اس کے لئے انعام ہے ، پھر وہ تینوں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے  اور قریب آ کر آپ کے سینے اور پیٹھ سے چمٹ جاتے ، آپ بھی انہیں گلے لگاتے اور پیار کرتے۔ ([iii])

(3)شفقت فرماتے بلکہ دعائیں بھی دیتے : صحابۂ کرام میں سے حضرت سائب بن یزید  رضی اللہ عنہ  بھی ہیں ، آپ کے سَر کے درمیان کے بال بالکل سیاہ تھے جبکہ باقی ماندہ سر اور داڑھی کے تمام بال سفید تھے۔ پوچھنے پر آپ نے فرمایا : میں بچپن میں دیگر بچّوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ حُضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میرے پاس سے گزرے اور مجھ سے میرا نام پوچھا : میں نے اپنا نام بتایا ، تو رحمت والے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے میرے سر پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا ، اور دعا دی : بَارَکَ اللہُ فِیْکَ یعنی اللہ تجھے برکت دے۔ اور جہاں تک حضورِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا دستِ مبارک پہنچا وہ بال سفید نہیں ہوئے ، اور اللہ کی قسم! یہ حصہ کبھی سفید نہ ہوگا اور ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔ ([iv])

(4)ڈانتے نہیں بلکہ ناراض بھی نہ ہوتے : خادمِ رسول حضرت انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی میں نے نو سال خدمت کی ، سفر و حضر میں آپ کے ساتھ رہا  لیکن کبھی بھی آپ نے مجھے ڈانٹا نہیں اور کسی کام پر یہ نہیں کہا کہ “ ایسے کیوں کیا “ ، “ ایسے کر لیتے “ وغیرہ۔ “ ([v])



([i])   التوضیح  لشرح الجامع الصحیح ، 26 / 72 ، تحت الحدیث : 5376

([ii])   بخاری ، 3 / 521 ، حدیث : 5376

([iii])   مسند احمد بن حنبل ، 1 / 459 ، حدیث : 1836

([iv])   معجم کبیر ، 7 / 160 ، حدیث : 6693

([v])   مسند احمد بن حنبل ، 4 / 203 ، 201 ، حدیث : 11974 ، 11988

Share

Articles

Comments


Security Code