آئیے سیرتِ رسول پڑھئے

العلم نور

آئیےسیرتِ رسول پڑھئے

* ابو الحسن عطّاری مدنی

ربیع الاول 1442ھ

کسی بھی فرد یا قوم کو جب اُصولوں اور قوانین کے مطابق ڈھالنا مقصود ہو اور ان کی اخلاقی تربیت کسی خاص نظامِ فکر کے مطابق کرنا مطلوب ہو تو ان کے سامنے ایک ایسے کامل و اَکمل انسان کےعملی نمونے کو رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس کے شب و روز ان  تمام اصول و قوانین کی زندہ تصویر ہوں۔ محض اصول و ضوابط اور اَفکار و تعلیمات کو خواہ کتنی ہی تفصیل کے ساتھ پیش کر دیا جائے  کافی نہیں ہوتا۔ جب ایک شخصیت ان اصول و تعلیمات کا عملی پیکر بن کر سامنے آتی ہے تو  انسانی ذہن خود بخود ان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور ان کے قابلِ عمل ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہ یا اعتراض و تنقیص کا شکار نہیں ہوتا۔

قراٰنِ کریم  مکمل ضابطۂ حیات ہے ، رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت و راہنمائی کا سَرچشمہ ہے ، انسانی حیات کے روز و شب کے ہر ہر لمحہ کے لئے ایک قانونی دستاویز ہے ، انسان کے اخلاقی ، علمی ، عملی ، انفرادی ، اجتماعی ، اقتصادی اور معاشرتی غرض کہ ہر ہر پہلوئے حیات کا کامل راہنما ہے۔

اس کامل رہنمائے حیات نے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مبارک سیرت کو ہمارے لئے کامل عملی نمونہ قرار دیا ہے اور جب ہم رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک اخلاق و کردار کے بارے میں جاننے کی طرف بڑھتے ہیں تو اُمُّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ  رضی اللہ عنہا  کا مبارک فرمان : كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی قراٰن ان کے خُلق ہی کا تو بیان ہے۔ (مسنداحمد ، 9 / 380 ، حدیث : 24655) سامنے آتا ہے۔

خلاصہ یہ نکلا کہ اگر رسولِ کائنات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک  اَخلاق و سیرت کو جاننا اور سمجھنا ہے تو  قراٰنِ کریم  کا پڑھنا ضروری ہے اور اگر قراٰنِ کریم  پر عمل کرنا ہے تو رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت و زندگانی جو کہ کامل نمونہ ہے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ ویسے تو ہر اس شخص کے لئے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مبارک سیرت کا مطالعہ اَز حد ضروری ہے جو دینِ اسلام کو جاننے ، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے تو سیرت کا مطالعہ ایک اہم دینی ضرورت ہے۔

سیرتِ رسولِ  کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اِفادیت و اہمیت اس سے سمجھئے کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک حیات میں اس قدر اعجاز ہے کہ اعلانِ نبوت سے وصالِ ظاہری تک  23سال کے مختصر عرصہ میں حضور نبی ِّکریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک ذات ان کثیر حالات و کیفیات سے گزر چکی جن سے عمومی طور پر لوگوں کا واسطہ پڑ سکتا ہے۔

آج ہماری زندگی اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہے ، ہمارے معاشرے سے اچھے خصائل ختم ہوتے جارہے ہیں ، کون سا  ایسا عیب ہے جو ہمارے اندر نہ ہو ، کوئی ایسی بُرائی نہیں جس میں معاشرے  کاایک بہت بڑاطبقہ   مبتلا نہ ہو۔ غور کیا جائے تو اس گمراہی اور پستی کا شکار ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ہم مسلمانوں کی  اپنے دین اور سرورِ کائنات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت سے لاعلمی اور غیروں کے طریقوں کو اپناتے چلے جانا ہے۔ ہم سولہ سولہ بیس بیس سال تک دنیوی نصابی  کتابیں تو  پڑھتے رہے ، غیر نصابی مطالعہ بهی اتنا کیا کہ سینکڑوں رسالے ، ناول چاٹے لیکن کبھی اپنے پیارے و محسن نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی کو مکمل نہیں پڑھا۔ یادرکھئے! سیرتِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مطالعہ جہاں ہمیں اخلاقی پستیوں سے نکالے گا وہیں اس کے دیگر بھی بہت سے انفرادی و اجتماعی اور اقتصادی و معاشرتی   فوائد ہیں چنانچہ

مطالعۂ سیرتِ مصطفےٰ کے عمومی فوائد

سب سے عظیم تَر فائدہ یہ کہ سیرت کا مطالعہ دل میں عشقِ رسول کی شمع جلاتاہے اور   یہی وہ شمع ہے جو تاریک قبر و پل صراط پر کام آئے گی۔

معاشرے کی ہدایت و راہنمائی ، اصلاحِ احوال اور تربیت کے لئے ایک مبلغ ، مصلح اور راہنما کو تربیت کے میدان میں جس جس چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے اس کا ایک پورا نصاب سیرت میں موجود ہے۔ اپنی اور دوسروں کی ا صلاح کی  کوشش کرنے والا سیرتِ محمدِ عربی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مطالعہ کرتا ہے تو ایک ایسے مبلغ کانمونہ سامنے آتا ہے جو لوگوں کو حکمت اور عمدہ نصیحت سے اللہ پاک کی طرف بلاتا ہے ، نیز لوگوں تک پیغامِ الٰہی پہنچانےمیں اپنی پوری جدّ و جہد صرف کردیتا ہے۔

مطالعۂ سیرت سے پتا چلتا ہے کہ وہ کیسی تربیت تھی جس کی بدولت مختصر ترین عرصے میں عرب کے ناخواندہ لوگ عظیم اسکالر اور آسمانِ ہدایت کے تارے بن گئے اور راستوں اور بازاروں میں سامان رکھ کر بیچنے والے چھوٹے تاجر  ساری دنیا کے اقتصادی نظام میں انقلاب لے آئے۔

اگر ایک باپ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ  بیٹیوں کی تربیت کیسے کرنی ہے؟  شادی شدہ بیٹی کے گھر جانے کا انداز  کیا رکھنا ہے؟ بیٹی کے شوہر  کے ساتھ کیا انداز رکھنا ہے؟ اولاد کو  دشمن ستائیں تو صبر کیسے کرنا ہے؟

اگر ایک بیٹا سیرتِ مصطفےٰ کو پڑھتا ہے تو اسے درس ملتاہے کہ سگی ماں تو سگی ماں ، صرف دودھ پلانے والی ماں کی تعظیم کیسے کرنی ہے؟  ماں باپ کے وِصال کے بعد بھی ان کے حقوق کا خیال رکھنے  کا فرمایا گیا ہے۔

اگر ایک شوہر سیرتِ رسول سے راہنمائی طلب کرتاہے تو اسے پتا چلتاہے کہ سرورِ کائنات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  کیسے ایک ہی وقت میں  کئی ازواجِ مطہرات کے حقوق کی ادائیگی کا کامل خیال رکھا ، یہی وہ انداز تھا کہ جس کے بارے میں خود فرما دیا : خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ ، وَاَنَا خَيْرُكُمْ لِاَهْلِي یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے  لئے بہترین  ہو اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لئے تم سب سے  بہترین ہوں۔   ( ترمذی ، 5 / 475 ، حدیث : 3921)

نوجوان نسل حُضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک جوانی کے حالات کو پڑھتی ہے تو ایک ایسے نوجوان کی زندگی کا بلند پایہ نمونہ سامنے آتا ہے جو اپنے کردار میں پاکیزہ اور صاف ، اپنوں اور غیروں سبھی کے ساتھ امانت داری کا معاملہ برتنے والا بلکہ دشمنوں کی زبان سے بھی صادق و امین کہلانے والا ہوتا ہے۔

اگر آپ ایک خاندان ، ادارے ، قبیلے یا علاقے کی قیادت کر رہے ہیں تو مطالعۂ سیرتِ نبوی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آپ کو ایک مضبوط نظام اور مستحکم اسلوب ملے گا۔

مطالعۂ سیرت سے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی “ اَوامر و نَواہی “ پر پابندی کے ساتھ ساتھ  آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تعلق مَعَ اللہ و ذِکْرُ اللہ ، توکل و یقین ، عاجزی و انکساری ، مخلوق پہ شفقت ، زہد و استغنا ، عزم و استقلال ، جد و جہد و شوقِ شہادت کا بھی پتا چلتا ہے۔

لہٰذا حقیقی عاشقِ رسول ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اور اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت کا مطالعہ کرے اور اس پر دل و جان سے عمل کرے۔

سیرتِ طیبہ کے حوالے سے معلومات کے لئے مستند علمائے اہلِ سنّت کی دیگر کتب پڑھنے کے ساتھ ساتھ مکتبۃُ المدینہ سے جاری ہونے والی کتب اور رسائل سیرتِ مصطفیٰ ، فیضانِ معراج ، مدنی آقا کے روشن فیصلے ، نور کا کھلونا ، صبحِ بہاراں ، بھیانک اونٹ ، بُڈھا پُجاری ، ابو جہل کی موت ، سیاہ فام غلام ، دودھ پیتا مدنی منا ، نور والا چہرہ اور “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ کے ربیع الاوّل کے شماروں   کابھی مطالعہ کیجئے۔

اللہ کریم ہمیں اپنے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ پاک کوپڑھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔       اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code