حضرت سیّدتنا حوا بنتِ یزید رضی اللہ عنھا

تذکرۂ صالحات

حضرت  سیّدتنا حوا بنت یزید   رضی اللہ عنہا 

*   محمد بلال سعید عطاری  مدنی

ماہنامہ ربیع الاول1442ھ

عہدِ رسالت کی برکات حاصل کرنے والی ، دینِ اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والی اور اللہ پاک کی راہ میں آنے والی مشکلات کا ہمت سے سامنا کرنے والی خوش نصیب صحابیات میں ایک روشن نام حضرت سیّدتنا حَوّا بنتِ یزید   رضی اللہ عنہا  کا بھی ہے۔

نام ونسب : آپ   رضی اللہ عنہا  مدینۂ مُنَوَّرَہ کی رہنے والی تھیں ، آپ کا نام “ حوا بنتِ یزید بن سِنان “ ہے ، آپ کا تعلق خاندانِ بنو عَبْدُ الاَشْہَل سے تھا ، آپ کی والدۂ ماجدہ عَقْرَب بنتِ مُعاذ ہیں جو جلیلُ القدر صحابی حضرت سعد بن مُعاذ  رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، یوں رشتے میں حضرت سعد بن مُعاذ حضرت سیّدتنا حَوَّا کے ماموں لگتے ہیں۔ آپ   رضی اللہ عنہا  کے بھائی حضرت سیّدُنا رافع بن یزید  رضی اللہ عنہ  بھی جلیلُ القدر صحابی ہیں ، جو جنگِ بدر میں شہید ہوگئے تھے۔ ([i])

اسلام اور بیعت : حضرت سیدتنا حَوَّا بنتِ یزید انصاریہ ہجرتِ نَبَوی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے پہلے ہی اسلام کے دامن سے وابستہ ہو کر سب سے پہلے اسلام لانے والے خوش نصیبوں میں شامل ہوگئی تھیں ، آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے مدینے تشریف لانے کے بعد جن صحابیات کو سب سے پہلے آپ سے بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا ، ان میں سیّدتنا حوا بنتِ یزید کا نام بھی سرِفہرست ہے۔ ([ii])

دینِ اسلام کی خاطر تکالیف پر صبر : آپ   رضی اللہ عنہا  کا شوہر قیس جو کہ اسلام نہ لایا تھا اسے جب آپ کے اسلام لانے کا علم ہوا تو وہ آپ سے بہت سخت ناراض ہوا اور اس نے آپ کو اذیتیں دینا شروع کردیں ، آپ نماز پڑھنے لگتیں تو آپ کو نماز پڑھنے سے روک دیتا ، لیکن آپ صبر و شکر سے زندگی گزارتی رہیں۔ ([iii])

آقا کریم کی شَفقت کا عالَم : ہمارے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو جب ان کے  حالات کی خبر ہوئی کہ ان کا شوہر ان پر اس طرح ظلم و سِتم ڈھا رہا ہے تو آپ کو اس بات سے سخت رنج پہنچا اور آپ ناراض ہوئے ، اتفاق سے انہی دنوں حضرت حوا  کا شوہر کسی کام سے مکۂ مکرمہ آیا ہوا تھا اور ایک مقام پر اس کی ملاقات رحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے ہوگئی ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس کو بھرپور انداز میں اسلام کی دعوت دی ، اس نے مہلت طلب کی ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مہلت عطا فرمائی ، لیکن پھر بھی اس نے  اسلام قبول نہ کیا ، آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس سے فرمایا : تم اسلام کے بارے میں خوب غور و فکر کرلو  اور یہ بھی فرمایا کہ تم اپنی بیوی پر اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ظلم و ستم نہ کرو بلکہ اُس کے ساتھ بھلائی اور حُسن ِسلوک کا مظاہرہ کرو ، آپ کی اس وصیت پر قیس نے اچھے انداز میں عمل کیا اور اپنی بیوی پر ظلم و ستم کرنا بند کردیا ، جب حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو ان کے اس معاملے کی خبر ہوئی کہ اب یہ اپنی بیوی پر ظلم نہیں کرتا اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آرہا ہے تو اس بات پر آپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : “ قیس نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ “ ([iv])

اللہ کریم ہمیں صحابیات و صالحات کا خصوصی فیضان نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت ، المدینۃالعلمیہ ، باب المدینہ کراچی



([i])طبقات ابن سعد ، 8 / 247

([ii])الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، 8 / 91 مفہوما

([iii])اسد الغابۃ ، 7 / 83

([iv])اسد الغابۃ ، 7 / 83

Share

Articles

Comments


Security Code