حضرت سیدناعبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ / جنت کے خریدار حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ

حضرت سیّدنا ابنِ عمر     رضی اللہ عنہما   کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارگاہِ فاروقی میں کچھ لباس لائے گئے ، حضرت سیّدنا عمر فاروق   رضی اللہ عنہ   نے ان کو لوگوں میں بانٹنا شروع کیا ، تقسیم کے دوران ایک بہت ہی نفیس اور عمدہ پوشاک سامنے آئی تو حضرت عمرفاروق   رضی اللہ عنہ   نے وہ پوشاک اپنی ران کے نیچے رکھ لی (اور کسی کو نہیں دی ) حضرت ابنِ عمر     رضی اللہ عنہما   کہتے ہیں کہ تقسیم میں جب میرا نام لیا گیا تو میں نے کہا : آپ مجھے وہی پوشاک دیجئے ، اس پر حضرت عمر فاروق   رضی اللہ عنہ   نے فرمایا : اللہ کی قسم! میں یہ پوشاک اس شخص کو دوں گا جو تم سے بہتر ہے اور اس کا باپ تمہارے باپ سے بہتر ہے ، پھر حضرت عمر فاروق   رضی اللہ عنہ   نے ایک صحابیِ رسول کو بلوایا اور وہی عمدہ پوشاک انہیں پہنادی۔ ([i])

 پیارے اسلامی بھائیو! یہ نفیس اور عمدہ پوشاک پہننے والے اعلیٰ اور عمدہ اوصاف کے مالک ، بارگاہِ فاروقی میں بلند مقام پانے والے ، غَسِیْلُ المَلَائِکَہحضرت سیّدنا حَنْظَلَہ کے صاحب زادے حضرت سیّدنا عبداللہ بن حنظلہ انصاری   رضی اللہ عنھما   ہیں ، ان کے والدِ ماجد حضرت حَنْظَلَہ   رضی اللہ عنہ   نے شوال 3 ہجری غزوۂ اُحُد میں تاجِ شہادت اپنے سر پر سجایا تھا اور فرشتوں نے انہیں غسل دیا تھا۔ ([ii])  حضرت عبدُاللہ   رضی اللہ عنہ   اپنے والدِ ماجد کی شہادت کےنو ماہ بعد سِن 4 ہجری میں پیدا ہوئے۔

ذکرِ مصطفےٰ : نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی ظاہری وفات کے وقت آپ   رضی اللہ عنہ   کی عمر سات سال تھی اس لئے آپ کا شمار کم سِن صحابہ میں ہوتا ہے([iii])مگر آپ کے سینے میں مَحَبّتِ رسول کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جن لمحات میں پیارے آقا   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی زیارت کی یا صحبت پائی ان لمحات کو آپ کے دل و دماغ نے محفوظ کرلیا تھا چنانچہ فرماتے ہیں : میں نے حضور نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو اونٹنی پر طواف کرتے دیکھا ہے ، اس وقت کسی کو مارا گیا نہ دھکا دیا گیا اور نہ ہی “ ہٹ جاؤ ، ہٹ جاؤ “ کی آوازیں تھیں۔([iv])

بستر نہ تھا : حضرت عبدُ اللہ   رضی اللہ عنہ   نہایت عالم فاضل ، نیکوکار ، عظمت وشان والے اور عالی نسب ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ طبیعت اور عبادت گزار بھی تھے ، آپ کے خادم کہتے ہیں : حضرت عبدُاللہ   رضی اللہ عنہ   کے پاس کوئی ایسا بستر نہیں تھا کہ جس پر سوتے ، جب نماز پڑھتے پڑھتے تھک جاتے تو اپنے آپ کو زمین پر ڈال دیتے اور اپنی چادر اور زرہ کا تکیہ بنالیتے اور تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے۔ ([v])

 دوزخ کی یاد : ایک مرتبہ آپ   رضی اللہ عنہ   بیمار تھے کہ کسی شخص نے قراٰن کی یہ آیت پڑھی : لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍؕ-  (ترجمۂ کنزالایمان : اُنھیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا) ([vi]) تو رونے لگے ، اتنا روئے کہ لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ اب آپ کی روح جسم سے نکل جائے گی ، پھر آپ کھڑے ہوئے تو کسی نے کہا : آپ بیٹھے رہئے ، فرمایا : دوزخ کی یاد مجھے بیٹھنے سے روک رہی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ شاید میرا شُمار ان جہنمیوں میں ہو۔ ([vii])

یزید کے خلاف اعلانِ جنگ : آپ کے سات یا آٹھ بیٹے تھے  جب آپ اپنے بیٹوں کولے کر یزید کے پاس پہنچے تو اس نے آپ کو ایک لاکھ درہم اور آپ کے ہر بیٹے کو 10 ہزار درہم دئیے ، قیمتی ملبوسات اور عمدہ سواریاں اس کے علاوہ تھیں ، یہ سب لے کر آپ مدینے پہنچے تو لوگوں نے پوچھا : آپ نے یزید کو کیسا پایا؟ارشاد فرمایا : میں اس شخص کے پاس سے آیا ہوں کہ خدا کی قسم!اگر میرے ساتھ صرف میرے بیٹے ہوں تو بھی میں اس سے ضرور جہاد کروں گا ، لوگوں نے پھر کہا : ہمیں معلوم ہوا کہ یزید نےآپ کو بہت مال و دولت اور خادم دیئے ہیں ، فرمایا : میں نے مال اس لئے لیا ہے تاکہ اسی مال کے ذریعے اس سے مضبوط جنگ کروں ، ([viii]) اس کے بعد آپ نے جہاد کی ترغیب دلائی : اے میری قوم اللہ سے ڈرو ، خدا کی قسم! ہم یزید کے خلاف اس لئے جہاد کر رہے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ یزید کی بُری حرکات اور بدکاریوں کی وجہ سے کہیں آسمان سے پتھر نہ برس جائیں وہ شراب پیتا ہے اور نمازیں قضا کردیتا ہے اللہ کی قسم! اگر کوئی میرا ساتھ نہیں دے گا تو پھر بھی میں رضائے الٰہی کے لئے اس آزمائش کو ضرور جھیلوں گا ، یہ سنتے ہی لوگ آپ کی بیعت کرنے لگے۔ ([ix])

 سر اُٹھانا چھوڑ دیا : ایک روایت کے مطابق (واپس آنے کے بعد) آپ   رضی اللہ عنہ   مسجد میں ہی اپنی راتیں گزارنے لگے ، مسلسل روزہ رکھتے اورصرف سَتّو پی کر روزہ افطار کرتے ، آپ نے اپنے سر کو (شرم ساری کی وجہ سے) آسمان کی طرف اٹھانا چھوڑ دیا تھا۔ ([x])

یزیدی لشکر : یزید کو خبر پہنچی تو اس نے مُسلم بن عُقْبہ کی سربراہی میں ایک لشکر بھیجا اس میں دس ہزار یا بارہ ہزار گُھڑ سوار تھے جبکہ ایک قول کے مطابق 12 ہزار گھڑسواروں کے ساتھ 15 ہزار پِیادہ فوج بھی تھی۔([xi])

جنگ اور نماز : لڑائی شروع ہوئی تو اس وقت آپ    رضی اللہ عنہ   اتنے پُر سکون تھے کہ لوگ جنگ لڑ رہے تھے اور اونگھنے کی وجہ سے آپ کا سر ڈھلک رہا تھا۔ جنگ اپنے زوروں پر پہنچی تھی کہ ظہر کا وقت ہوگیا آپ نے خادم سے فرمایا : میری پیٹھ کی جانب سے میری حفاظت کرو تاکہ نماز پڑھ لوں۔ آپ نے ظہر کی 4 رکعتیں نہایت توجہ کے ساتھ پڑھیں۔

شہادت : پھر لڑائی میں مصروف ہوگئے آٹھوں بیٹوں میں سے ایک کے بعد ایک راہِ خدا میں اپنا سر کٹواکر شہادت کا لباس پہنتا رہا آپ کو بھی بے شمار زخم لگ چکے تھے آخر کار آپ نے جذبۂ شہادت میں اپنی زرہ اتار پھینکی اور تلوار کی نیام توڑ ڈالی (کہ تلوار واپس نیام میں نہیں رکھوں گا) اور جواں مردی سے دشمنوں کا مقابلہ کرتے کرتے شہادت کا تاج پہن کر اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ اس جنگ کو تاریخ میں واقعہ حَرّہ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ افسوس ناک واقعہ سِن 63 ہجری بروز بدھ کو پیش آیا جبکہ ماہِ ذُو الحجّہ ختم ہونے میں ابھی تین دن باقی تھے۔ ([xii])

ظلم و ستم کا بازار : اس کے بعد یزیدی فوج نےقتل و غارت گری اور ظلم وستم کا ایسا بازار گرم کیا کہ اللہ کی پناہ !یزیدی فوج تین دن تک مدینے میں لوگوں سے مال و دولت لوٹتی رہی اور پاکباز عورتوں کی عصمت دری کرتی رہی ، 700 مہاجر و انصار صحابہ   علیہمُ الرِّضوان   کو شہید کیا ، عام باشندے ملاکر دس ہزار سے زیادہ شہیدکئے گئے ، جن میں 700 حُفّاظ ِقراٰن بھی تھے یزیدی لشکر نے مسجدنبوی کے ستونوں سے گھوڑے باندھے ، تین دن تک مسجد نبوی میں لوگ نماز سے مُشرّف نہ ہوسکے۔ ([xiii])

قیامت تک کا ساتھ : بعد میں کسی نے حضرت عبدُاللہ   رضی اللہ عنہ   کو خواب میں بہترین صورت میں دیکھا تو پوچھا : کیا آپ شہید نہیں ہوئے ، آپ   رضی اللہ عنہ   نے فرمایا : کیوں نہیں! میں اپنے رب سے مل چکا ہوں اس نے مجھے جنّت میں داخل کردیا ہے اور جہاں چاہتا ہوں جنّت کے پھلوں کو کھاتا ہوں ، خواب دیکھنے والے نے پھر پوچھا : آپ کے ساتھیوں کا کیا بنا؟ فرمایا : وہ سب میرے جھنڈے تلے میرے ساتھ ہیں اور یہ ساتھ قیامت تک نہیں چھوٹے گا۔ ([xiv])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*مُدَرِّس مرکزی جامعۃالمدینہ ،  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i] )    مصنف ابن ابی شیبہ ، 17 / 244 ، رقم : 32990

([ii] )    تاریخ ابن عساکر ، 27 / 422

([iii] )   الاصابہ ، 4 / 58 ملخصاً

([iv] )    کنز العمال ، جز5 ، 3 / 66 ، رقم : 12493

([v] )    اسد الغابہ ، 3 / 221

([vi] )    پ8 ، اعراف : 41

([vii] )    تاریخ ابن عساکر ، 27 / 426

([viii] )    البدایۃ والنھایہ ، 5 / 733

([ix] )    تاریخ ابن عساکر ، 27 / 429

([x] )    سابقہ حوالہ ، 27 / 429

([xi] )    عمدۃ القاری ، 12 / 192 ، تحت الحدیث : 4167

([xii] )    تاریخ ابن عساکر ، 27 / 430 تا 432 ، اسد الغابہ ، 3 / 221 ملخصاً

([xiii] )    عمدۃ القاری ، 12 / 192 ، تحت حدیث : 4167 ، سوانح کربلا ، ص 178 ملخصاً

([xiv] )    اسد الغابہ ، 3 / 221۔

Share

حضرت سیدناعبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ / جنت کے خریدار حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ

یوں توہر صحابیِ رسول جنّتی ہے مگر کئی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے زبانِ رسالت سے جنّت کی خوش خبریاں بطورِ خاص پائی ہیں ان میں عشرۂ مُبشّرہ سرِفہرست ہیں ان دس صحابہ میں شامل خلیفۂ ثالث ، ذوالنّورین ، حضرت سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں : میں نے دس ہزار درہم کے بدلے جنّت خریدلی ہے۔ ([i]) آئیے زبانِ رسالت سے جاری ہونے والے چند مبارک کلمات پڑھتے ہیں جن میں حضرت عثمان ِ غنی رضی اللہ عنہ کو جنّت کی نویدِ پُربہار سنائی گئی یا آپ رضی اللہ عنہ کو جنّت میں ملنے والے اعلیٰ انعامات اور بلند مقامات کا ذکر کیاگیا ہے ۔

رَفاقتِ نبی : ایک موقع پر نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا : کیا میں تمہیں خوش خبری نہ دوں؟ انہوں نے عرض کی : کیوں نہیں یَارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! فرمایا : تمہارے والد (ابوبکر) جنّتی ہیں اور جنّت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السَّلام ہوں گے ، اور عمر جنّتی ہیں ان کے رفیقِ جنّت حضرت نوح علیہ السَّلام ہوں گے ، اور عثمان جنّتی ہیں ان کارفیق میں خود ہوں ، اور علی جنّتی ہیں ان کے رفیق حضرت یحیٰی بن زکریا علیہما السَّلام ہوں گے۔ ([ii])

جنّت کا ساتھی : ایک مرتبہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے طلحہ! ہر نبی کے لئے جنّت میں اس کا ایک اُمّتی رفیق (ساتھی ) ہوتا ہے اور جنّت میں

عثمان بن عفان میرے رفیق اور میرے ساتھ ہوں گے۔ ([iii])

جنّتی درخت کی شاخ : ایک بار پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوں فرمایا : سخاوت ایک جنّتی درخت ہے اور حضرت عثمان اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہیں۔ ([iv])

جنّت کی خوش خبری : حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدینہ کے ایک باغ میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری دو ، دروازہ کھولا گیا تو حضرت سیّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ تھے پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو جانِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری دو ، دروازہ کھولاگیا تو حضرت سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو نورِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری کے ساتھ امتحان اور آزمائش میں مبتلا ہونے کی خبر بھی دو ، دروازہ کھولاگیا تو حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ ([v])

حُور سے نکاح : ایک مرتبہ خلافتِ صدیقِ اکبر میں زبردست قحط پڑا ، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار اونٹ مدینے پہنچے جن پر کھانے پینے کی اشیاء لَدی ہوئی تھیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینے کے تاجروں سے فرمایا : اے تاجروں کی جماعت! اس بات پر گواہ ہوجاؤ کہ میں نے یہ تمام اشیاء مدینے کے ضرورت مندوں کے لئے صدقہ کردی ہیں۔ حضرت سیدنا عبدُ اللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں جب رات کو سویا تو خواب میں سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی ، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نور کی چادر پہن رکھی تھی ، مبارک ہاتھوں میں نور کی چھڑی اور پاؤں مبارک میں جو نعلین تھے ان کے تسمے بھی نورانی تھے ، ارشاد فرمارہے تھے : میں جلدی میں ہوں ، عثمان نے ایک ہزار اونٹ کا بوجھ گندم وغیرہ صدقہ کیا ہے۔ اللّٰہ پاک نے عثمان کا یہ عمل قبول فرماکر جنّتی حور سے ان کا نکاح فرمایا ہے۔ ([vi])

جنّتی مرد : ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے مُصافَحَہ فرمایا اور جب تک اس شخص نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اس شخص نے پوچھا : یَارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! حضرت عثمان کیسے ہیں؟ ارشاد فرمایا : وہ جنّتی مردوں میں سے ایک مرد ہیں۔ ([vii])

جنّتی حور : ایک مرتبہ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : میں جنّت میں داخل ہوا تو ایک سیب میرے ہاتھ پر رکھ دیا گیامیں اسے الٹ پلٹ رہا تھا کہ وہ سیب پھٹ گیا اور اس میں سے ایک حور نکلی جس کی بھنویں گدھ کے پروں جیسی تھیں میں نے پوچھا : تو کس کے لئے ہے؟ اس نے کہا : ظلماً شہید ہونے والے حضرت عثمان بن عفان کےلئے۔ ([viii])

جنّتی محل : نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : میں جنّت میں داخل ہوا تو سونے ، موتی اور یاقوت سے بناہوا ایک محل دیکھا ، میں نے پوچھا : یہ کس کے لئے ہے؟ بتایا گیا کہ آپ کے بعدظلما ً شہید ہونے والے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے  لئے ہے۔  ([ix])

جنّتی بشارتوں کی تصدیق : جب امیرُ المؤمنین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ  کو خارجیوں نے گھر میں محصور ہونے پر مجبور کردیا توحضرت سیّدنا عثمانِ غنی نے دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کو بلوایا اور خارجیوں کے سامنے ان واقعات کی تصدیق کروائی جن میں آپ رضی اللہ عنہ کو نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جنّت کی بشارتیں عطا کی تھیں۔

 مسجد میں اضافہ اور جنّت : آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہو کہ جو (اونٹوں کے) اس باڑے کو خریدے گا اور ہماری مسجد میں اضافہ کردے گا اس کے لئے جنّت ہے اور دنیا میں اس کےلئے یہ اجر ہے کہ جب تک مسجد باقی رہے گی اس شخص کے درجات بلند ہوں گے ، تو میں نے وہ باڑا 20 ہزار درہم میں خرید کر مسجد کے لئے وقف کردیا تھا۔

 لشکر کی مدد اور جنّت : پھر فرمایا : کیا کوئی ایسا ہے جس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہو کہ جو اس جَیْشِ عُسْرہ (بے سروسامان لشکر ) کو سامانِ ضرورت دے گا تو اس کيلئے جنّت ہے تو میں نے اس لشکر کو سازو سامان سے لیس کردیا تھا۔

کنویں کے بدلے جنّت : پھر فرمایا : کیا کسی نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے یہ سنا ہے کہ جو رُومَہ کنواں خریدے گا اس کے لئے  جنّت ہے ، میں نے اسے خرید ا تو میرے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اسے غریبوں کے لئے کردو ، تمہیں اس کا ثواب بھی ملے گا اور جنّت بھی ، حضرت عثمان کی گفتگو سُن کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : ہاں ہم نے ایسا ہی سُنا ہے ، لیکن اس پر خارجیوں نے کہا : یہ سچ کہہ رہے ہیں مگر آپ بدل چکے ہیں۔ ([x])

تاریخ شہادت : حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ  کی باتوں کا بےحِس خارجیوں پر کچھ اثر نہ ہوا آخر کار جھوٹے الزامات لگاکر آپ رضی اللہ عنہ کو بحالتِ روزہ بروز جمعہ 18 ذوالحجہ سِن 35 ہجری کو شہید کردیا گیا ، مزارِ مبارک جنّتُ البقیع میں ہے۔  ([xi])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i] )   تاریخ ابن عساکر ، 39 / 172

([ii] )   الریاض النضرۃ ، 1 / 35

([iii] )   کنز العمال ، جز : 11 ، 6 / 273 ، حدیث : 32854

([iv] )   کنز العمال ، جز : 11 ، 6 / 273 ، حدیث : 32849

([v] )   مسلم ، ص1004 ، حدیث : 6212 ملخصاً

([vi] )   الریاض النضرۃ ، 2 / 43ملخصاً

([vii] )   معجم کبیر ، 12 / 405 ، حدیث : 13495

([viii] )   کنز العمال ، جز : 13 ، 7 / 29 ، حدیث : 36257

([ix] )   تاریخ ابن عساکر ، 39 / 109

([x] )   کنز العمال ، جز : 13 ، 7 / 44 ، حدیث : 36332

([xi] )   معرفۃ الصحابہ ، 1 / 264 ، 271 ، الاصابہ ، 4 / 379۔

 

Share

Articles

Comments


Security Code