انسان کی فطری کمزوری کوطاقت میں بدلنے کا نسخہ

اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا : وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸)  تَرجَمۂ کنز العرفان : اور آدمی کمزور بنایا گیا ہے۔ (پ5 ، النساء : 28)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ وہ بہت جلد خواہشاتِ نفسانی کی طرف  مائل ہو جاتا ہے خواہ ان سے کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ انسان  کے لئے نفس کے تقاضوں سے صبر دشوار ہے اگرچہ وہ تقاضے اس کے لئے کتنے ہی ضَرر رَساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  کی کمزوری پر رحم فرماتے ہوئے  کثیر معاملات میں حدود و قُیود کے ساتھ انہیں نفع اٹھانے کی اجازت دی اور صرف ان صورتوں سے منع کیا   جن سے نفع اٹھانے میں اُس فرد کے لئے یا مجموعی طور پر معاشرے کے لئے فسادِ عظیم اور بڑے نقصان کا خدشہ تھا۔ انسان کی کمزوری کے بہت سے پہلو اور مَظاہر ہیں جنہیں قرآن نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ربِّ کریم کا احسان ِ عظیم ہے کہ اس نے قرآن کی صورت میں ان تمام کمزوریوں کا علاج اور قابلِ تقلید نمونے کے طور پر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے احوال و واقعات بیان فرمائے اور خصوصاً سیِّد الانبیاء ، افضل الخلق ، سیِّد البشر ، انسانِ کامل ، حضورِ پرنور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ کو ہمارے لئے اُسوۂ حسنہ یعنی بہترین نمونہ قرار دیا۔

 آئیے!قرآن کی روشنی میں انسان کی کمزوری اور اس کا علاج دریافت  کرتے ہیں :  

انسان کی  کمزوری ہے کہ  پریشانی میں جلد ناامید ہو جاتا اور ناشکری پر اتر آتا ہے جبکہ راحت و نعمت کے وقت  شیخی ، تکبر ، تَعَلّی اور غفلت  کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کمزوری کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ(۹) وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ(۱۰) ترجمہ : اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں  پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں تو بیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہو جاتا) ہے۔ اور اگر ہم مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں بیشک وہ (اس وقت) بہت خوش ہونے والا ، فخر و تکبر کرنے والا ہو جاتا ہے۔ (پ12 ، ہود : 9 ، 10)    (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قرآن نے اس کمزوری کا حل یہ بیان فرمایا کہ مصیبت میں مایوس ہونے کی بجائے رحمتِ الٰہی پر نظر رکھیں ، بے صبری کی بجائے صبر کا راستہ اختیار کریں ، توکل کو اپنا شیوہ بنائیں اور ناشکری کی بجائے موجود نعمتوں پر بارگاہِ خدا میں شکر کا نذرانہ پیش کریں۔

مایوسی کی بجائے رحمت پر اس لئے نظر رکھیں کہ وہ رحمٰن و رحیم ہے اور اس کی رحمت ہر شے سے وسیع ہے۔ چنانچہ فرمایا : وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-  ترجمہ : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (پ9 ، الاعراف : 156)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ- ترجمہ : اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ (پ24 ، الزمر : 53)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا : وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ(۲۰۷) ترجمہ : اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ (پ2 ، البقرۃ : 207)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مشکل میں صبر کریں کیونکہ صبر سے خدا کا ساتھ اور مدد ملتی ہے جس سے دل کو قوت و ہمت و حوصلہ حاصل ہوتا ہے اور یہ قوتِ قلبی مشکلات و آلام سے مقابلہ میں نہایت معاون ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

 ترجمہ : بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2 ، البقرۃ : 153)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   اور صبر و ہمت کے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ  ترجمہ : تو  تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا۔ (پ 26 ، الاحقاف : 35)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  یونہی توکل نہایت مضبوط سہارا ہے جو بندے کے معاملات کو سدھار دیتا اور اسے خدا کی حفاظت و  کفایت میں لے آتا ہے چنانچہ فرمایا : وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ  ترجمہ : اوراس زندہ پر بھروسہ کرو جو کبھی نہ مرے گا۔ (پ19 ، الفرقان : 58)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- ترجمہ : اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (پ28 ، الطلاق : 3)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مشکلات میں ایمان و توکل کی قوت سے  حوصلہ  پانے کے لئے قرآن کی روشنی میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  کی سیرت کا واقعہ پیش نظر رکھیں کہ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام  اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ پیچھا کرتے ہوئے آپ کے قریب پہنچ گیا۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ ایک طرف بنی اسرائیل بغیر سامانِ جنگ کے کھڑے تھے جبکہ دوسری طرف  سامنے فرعون اپنی فوج ، اسلحے ، طاقت ، شان و شوکت اور کروفر کے ساتھ غضبناک حالت میں  موجود تھا۔ ایسی ظاہری بے سروسانی اور کمزوری کے عالم میں موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھیوں کی کیفیت کیا تھی ، قرآن اس کی منظر کشی یوں فرماتا ہے : فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ(۶۱) ترجمہ : پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا : بیشک ہمیں پا لیا گیا۔ (پ19 ، الشعراء : 61)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  لیکن اسی کٹھن حالت میں خدا کے باہمت پیغمبر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  کا طرزِ عمل اور توکل دیکھئے کہ آپ  نے بے قراری و پریشانی ظاہر کرنے کی بجائے فرمایا : اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲)  ترجمہ : بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔ (پ 19 ، الشعراء : 62)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور پھر یہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر میں راستہ بنا دیا چنانچہ فرمایا : فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَؕ-فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ(۶۳) وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ(۶۴) وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ(۶۵) ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ(۶۶) اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۶۷)   ترجمہ : تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو تو اچانک وہ دریا پھٹ گیا تو ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہو گیا۔ اور وہاں ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور ہم نے موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو بچا لیا۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان (فرعونیوں) میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ (پ19 ، الشعراء : 63تا67)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اور اسی توکل کی بنا پر دل میں پیدا ہونے والے  ہمت و حوصلے کو جاننے کے لئے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہجرت کا واقعہ ذہن میں لائیں کہ سیِّدِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے ساتھی حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے ساتھ رات کی تاریکی میں مکۂ مکرمہ سے روانہ ہو کر غارِ ثور میں جلوہ فرما ہوئے  لیکن کفار پیچھا کرتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے اور اتنے قریب  ہو گئے کہ تھوڑا سا سر جھکا کر غار میں جھانکتے تو نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو دیکھ سکتے تھے  اور اگر دیکھ لیتے تو جان لئے بغیر نہ رہتے۔ اس مشکل کے وقت میں صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کے لئے اپنی بے قراری کا اظہار کیا تو مولائے کل ، سیِّدُ الرُّسُل ،  عَالِیُ الْھِمَم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صبر ، ہمت ، حوصلے ، قوتِ ایمان ، یقینِ کامل اور اعتماد و توکل پر مبنی جو جواب دیا وہ دل کے کانوں سے سنیں ، فرمایا : لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-  ترجمہ : غم نہ کر ، بیشک اللہ  ہمارے ساتھ ہے۔ (پ10 ، التوبہ : 40)   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  چنانچہ پھر اسی یقین و توکل کی برکت سے  نصرتِ خداوندی اور تائیدِ الٰہی کا شان دار ظہور ہوا کہ غار کے کنارے پر موجود کفار کے دِلوں میں یہ خیال تک نہ آیا کہ جب یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو  تھوڑا سا جھک کر غار کے اندر بھی جھانک لیں۔ وہیں سے کھڑے کھڑے واپس چلے گئے اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم محفوظ رہے۔

قرآن کی آیات اور انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مبارک سیرت کو سامنے رکھ کر یقین کیجئے کہ  قرآن کے فرمان اور خارجی دنیا کے حقائق کے پیشِ نظر  انسان کا کمزور ہونا ضرور واضح و معلوم ہے لیکن قرآن نے اس کمزوری کو طاقت میں بدلنے کا نسخہ عطا فرمایا ہے اور وہ نسخہ صبر ، ہمت ، حوصلہ ، قوتِ ایمان ، یقینِ کامل اور اعلیٰ درجے کا توکل ہے لہٰذا انسان کی فطری کمزوری کا حل یہی ہے کہ مصیبت میں مایوس ہونے کی بجائے رحمتِ الٰہی پر نظر رکھے ، بے صبری کی بجائے صبر کا راستہ اختیار کرے ، توکل کو اپنا شیوہ بنائے اور ناشکری کی بجائے موجود نعمتوں پر بارگاہِ خدا میں شکر کا نذرانہ پیش کرے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code