غیر مسلم مردے کو دفن کرنے کے لئے صندوق بیچنا کیسا؟

غیر مسلم مردے کو دفن کرنے کے لئے صندوق بیچنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ غیر مسلم مردے کو دفن کرنے کے لیے صندوق بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : جی ہاں!غیر مسلم مردے کو دفن کرنے کے لیے صندوق بیچ سکتے ہیں۔ البتہ اس میں کفارکی اعانت کی نیت نہ کرے بلکہ اپنا ایک مال بیچے اور دام لے۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت شاہ امام احمد رضا خان   علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن   فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : “ غیر ذمی سے بھی خرید و فروخت ، اجارہ و استیجار ، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز اور خریدنا مطلقاً ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانتِ حرب یا اہانت اسلام نہ ہو۔ “  (فتاویٰ رضویہ ، 14 / 421)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان   علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن   سے سوال ہواکہ “ مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لئے لکڑیاں بیچنا جائز ہے یانہیں؟ “ تو اس کے جواب میں فرماتے ہیں : “ لکڑیاں بیچنے میں حرج نہیں لان المعصیۃ لاتقوم بعینھا (کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی ) مگر جلانے میں اعانت کی نیت نہ کرے اپنا ایک مال بیچے اور دام لے۔ “ (فتاوی رضویہ 17 / 168)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

کتبــــــــــــــــــــــہ

مفتی ابومحمد علی اصغر عطاری مدنی

خریداری کا وکیل اپنے لئے مال خریدے تو نئے قبضے کی صورت کیا ہوگی؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو اس بات کا وکیل کیا کہ وہ اس کے لئے مطلوبہ مقدار میں دھاگا خرید ے ، بکر نے مقررہ مقدار میں دھاگہ خریدلیاابھی وہ دھاگا بکر کے قبضہ میں ہی ہے ، اگر بکر خریدا ہوا دھاگا زید سے خود اپنے لئے خریدنا چاہے تو کیایہ جائز ہے؟ اور اس خریداری کیلئے اسے جدید قبضے کی ضرورت ہوگی یا نہیں؟واضح رہے کہ زید بیرونِ ملک رہتا ہے اور بکر اس سے فون ہی پر معاملات طے کرتا ہے ۔

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : جی ہاں! بکر کا زید سے وہ دھاگا خریدنا تو جائز ہے

البتہ دوسری خریداری سے پہلے بکر کا جو دھاگے پر قبضہ ہے وہ خریداری کے قبضہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتا بلکہ خریداری کے بعد بکر کو جدید قبضہ کی ضرورت ہوگی ، کیونکہ بکر کے پاس جو دھاگا ہے وہ امانت ہے توبکر کا اس پر قبضہ امانت کا قبضہ ہے ، اب جب بکر زید سے وہ دھاگا خریدے گا تو خریدنے میں قبضہ ضمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ضمان کا قبضہ تو امانت کے قبضہ کے قائم مقام ہوجاتا ہے لیکن امانت کا قبضہ ضمان کے قبضہ کے قائم مقام نہیں ہوتا بلکہ اس میں جدید قبضہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے ’’مبیع پر مشتری کا قبضہ عقدِبیع سے پہلے ہی ہوچکا ہے ، اگر وہ قبضہ ایسا ہے کہ تَلَف ہونے کی صورت میں تاوان دینا پڑتا ہے تو بیع کے بعد جدید قبضہ کی ضرورت نہیں مثلا وہ چیز مشتری نے غصب کر رکھی ہے یا بیع فاسد کے ذریعہ خرید کر قبضہ کر لیا اب اسے عقد صحیح کے ساتھ خریدا تو وہی پہلا قبضہ کافی ہے کہ عقد کے بعد ابھی گھر پہنچا بھی نہ تھا کہ وہ شے ہلاک ہوگئی تو مشتری کی ہلاک ہوئی اور اگر قبضہ ایسا نہ ہو جس سے ضمان لازم آئے مثلا مشتری کے پاس وہ چیز امانت کے طور پر تھی تو جدید قبضہ کی ضرورت ہے یہی حکم سب جگہ ہے ، دونوں قبضے ایک قسم کے ہوں یعنی دونوں قبضۂ ضمان یا قبضۂ امانت ہوں تو ایک دوسرے کے قائم مقام ہوگا اور اگر مختلف ہوں تو قبضۂ ضمان ، قبضۂ امانت کے قائم مقام ہوگا مگر قبضۂ امانت ، قبضۂ ضمان کے قائم مقام نہ ہوگا۔ “  (بہارشریعت ، 2 / 645)

جدید قبضہ کس طرح ہوگا اس کی مختلف صورتیں ہیں ، پوچھی گئی صورت کے مطابق قبضہ جدید کی ایک صورت یہ ہے کہ بکر ، زید سے جب دھاگا خریدنے کیلئے ایجاب وقبول کرے گا تو وہ دھاگا وہاں موجود ہو ایسی صورت میں یہ موجودگی اورمال حاصل کرنے کی قدرت قبضہ جدید کہلائے گی جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے “ ولو کان فی یدہ عاریۃ أو ودیعۃ او رھنا لم یصر قابضا بمجرد العقد الا ان یکون بحضرتہترجمہ : اگر چیز مشتری کے ہاتھ میں عاریت یا امانت یا رہن کے طور پر تھی تو صرف عقد کے ذریعے وہ قبضہ کرنے والا نہیں کہلائے گا سوائے یہ کہ اس وقت مبیع بھی مشتری کے پاس موجود ہو (توقبضہ ہوجائے گا)۔  (فتاوی عالمگیری ، 3 / 23)

دوسری صورت یہ ہے کہ دھاگا خرید و فروخت کے وقت اس جگہ موجود نہ ہو جس جگہ خرید و فروخت کا عقد ہورہا ہے بلکہ کسی اور جگہ ہوتو اب بکر کو اتنی مہلت ملے کہ وہ جا کر دھاگے پر قبضہ کرسکے تو تب بھی جدید قبضہ ہوجائے گا ، جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے “ وان کانت یدالمشتری ید امانۃ کید الودیعۃ والعاریۃ لایصیر قابضا الا ان یکون بحضرتہ او یذھب الی حیث یتمکن من قبضہ بالتخلیترجمہ : اور اگر مشتری کے ہاتھ میں مبیع امانت کے طور پر ہو جیسے ودیعت کے طور پر یا عاریت کے طور پر تو (وہی چیز خریدنے کی صورت میں ) وہ اس پر قبضہ کرنے والا نہیں کہلائے گا سوائے اس کے کہ عقد مبیع کی موجودگی میں ہو یا مشتری اس جگہ تک پہنچ جائے کہ وہ تخلیہ کے ذریعے مبیع پر قبضہ کرنے پر قادر ہوجائے۔ (بدائع الصنائع ، 5 / 248)

اسی طرح عنایہ میں ہے “ ومعنی تجدید القبض ان ینتھی الی موضع فیہ العین ویمضی وقت یتمکن فیہ من قبضھاترجمہ : جدید قبضہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس جگہ تک پہنچ جائے جہاں وہ چیز موجود ہے اور اتنا وقت گزر جائے کہ وہ اس چیز پر قبضہ کرنے پر قادر ہوجائے۔ (عنایہ ، 7 / 493)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

کتبــــــــــــــــــــــہ

مفتی ابومحمد علی اصغر عطاری مدنی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code