باتیں میرے حضور کی

 جنّت اور دنیا کے مالک   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  

* کاشف شہزاد عطاری  مدنی

ماہنامہ فروری 2021

اللہ کریم کی طرف سے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو عطا کردہ خصوصی اختیارات (Special Authorities) میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو جنّت اور دنیا کی تمام زمین کا مالک بنا دیا گیا ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جسے چاہیں جنّت عطا فرما دیں اور جسے چاہیں دنیا کی زمین مَرحمت فرما دیں۔

جنّت اور دنیا کی تمام زمین کے مالک : امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اللہ تعالٰی نے دنیا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حُضور ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کو مالک کردیا ہے ، حُضور جنّت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں۔ (جب جنّت کی زمین کا یہ معاملہ ہے) تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر۔ ([i]) ایک مقام پر فرماتے ہیں : رسولُ اللہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم  اپنے رب کی عطا سے مالکِ جنّت ہیں ، مُعْطِیِ جنّت ہیں ، جسے چاہے عطا فرمائیں۔ ([ii])

جنّت کے وارث : اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے : ( تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا(۶۳) )  تَرجَمۂ کنز العرفان : یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہو۔ ([iii](اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مقدسہ کا ایک معنی یہ بیان کیا  گیا  ہے : اَیْ نُوْرِثُ تِلْکَ الْجَنَّۃَ مُحَمَّدًا صلَّی اللہ علیہ وسلَّم فَیُعْطِیْ مَن یَّشَاءُ وَیَمْنَعُ عَمَّن یَّشَاءُ یعنی ہم اس جنّت کا وارث محمدِ عربی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو بناتے ہیں کہ وہ جسے چاہیں جنّت عطا فرمائیں اور جسے چاہیں محروم  رکھیں۔ ([iv])

جسے چاہیں جنّت عطا فرمائیں : اللہ کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے کثیر مواقع پر مختلف لوگوں کو جنّت کی بشارت عطا فرمائی یا کسی بات پر ان کے لئے جنّت کی ضمانت (Guarantee) لی۔ ذیل میں 3 روایات ملاحظہ فرمائیے :

 (1)حضرت سیّدُنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  نے نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے 2 مرتبہ جنّت خریدی : رُومہ نامی کنواں وَقف کرکے اور غزوۂ تبوک کے لئے اپنا مال پیش کرکے۔ ([v])

(2)ایک موقع پر مالکِ جنّت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت سیّدُنا طلحہ  رضی اللہ عنہ  سے ارشاد فرمایا : لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ يَاطَلْحَةَ غَدًا یعنی اے طلحہ! کل (بروزِ قیامت) تمہارے لئے جنّت میرے ذمہ ہے۔ ([vi])

(3)فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے : مَن یَّضْمَنْ لِیْ مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ یعنی جو میرے لئے اپنی زبان اور شرمگاہ کا ضامن ہوجائے (کہ ان سے میری نافرمانی نہ کرے) میں اس کے لئے جنّت کا ضامن ہوں۔ ([vii])

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا

ہم مُفْلِس کیا مَول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے([viii])

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  ایسی کئی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : وہ (یعنی حُضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) بَتَمْلِیْکِ اِلٰہی عزوجل (یعنی اللہ پاک کے مالک بنانے سے) جنّت کے مالک ، کارخانۂ الٰہی کے مُختار ہیں ، ضمانتیں فرماتے ہیں ، اپنے ذمے لیتے ہیں ، عطا فرماتے ہیں ، بَیْع (Sale) کردیتے ہیں ، ہر عاقل جانتا ہے کہ بیع وہی کرے گا جو خود مالک ہویا مالک کی طرف سے ماذُون و مُختار (یعنی اجازت یافتہ اور اختیار دیا ہوا ہو)۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اہلِ حق کے نزدیک نبی  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم  کو نِفاذِ تَصَرُّف کی دونوں وَجہیں (یعنی خود مالک ہونا اور مالکِ حقیقی اللہ پاک کی طر ف سے اجازت یافتہ ہونا دونوں) حاصل ، حقیقتِ عطائیہ لیجئے تو وہ ضرور مالکِ جِنان (جنّت کے مالک) بلکہ مالکِ جَہان (Owner of Universe) ہیں۔ اور ذاتیہ لیجئے تو مالکِ حقیقی (یعنی اللہ پاک) کے ماذُونِ مُطْلَق و نائبِ کامل۔ ([ix])

جنّت کی تقسیم : رَحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی کنیت “ اَبُو الْقَاسِم “ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے : لِاَنَّهٗ يَقْسِمُ الْجَنَّةَ بَيْنَ الْخَلْقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کیونکہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  قیامت کے دن مخلوق کے درمیان جنّت تقسیم فرمائیں گے۔ ([x])

دنیا کی زمین کے مالک : سیِّدِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دنیا کی زمین کا مالک ہونے سے متعلق2فرامینِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ملاحظہ فرمائیے :

(1)مَوْتَانُ الْاَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهٖ یعنی جو زمین کسی کی مِلک نہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ ([xi])

(2)عَادِيُّ الْاَرْضِ لِلّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ یعنی قدیم زمینیں اللہ اور اس کے رسول کی مِلک ہیں۔ ([xii])

اے عاشقانِ رسول! اُفتادَہ غیر مَملُوکہ زمین (یعنی بنجر زمین جو کسی کیPropertyنہ ہو اس) کو شرع میں “ عَادِیُّ الْاَرْض “ جبکہ عرفِ حال میں “ سرکاری زمین “ کہتے ہیں۔ ([xiii])

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اَقُول (یعنی میں کہتا ہوں) بَن (جہاں کثرت سے درخت ہوں) ، جنگل ، پہاڑوں اور شہروں کی مِلک اُفتادہ (یعنی جو کسی کی Property نہ ہوں ایسی) زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ اُن پر ظاہری مِلک بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص مِلکِ خدا و رسول ہیں جَلَّ جلالہٗ و  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ، ورنہ محلوں ، اِحاطوں ، گھروں ، مکانوں کی زمینیں بھی سب اللہ و رسول کی مِلک ہیں اگرچہ ظاہری نام مَن و تُو (یعنی ہم لوگوں) کا لگا ہوا ہے۔ یہ تخصیص مَکانی ایسی ہے جیسے آیۂ کریمہ : ( وَ الْاَمْرُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِ۠(۱۹) )  ([xiv])   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  میں تخصیص زَمانی کہ حکم اس دن (یعنی قیامت کے دن) اللہ کے لئے ہے ، حالانکہ ہمیشہ اللہ ہی کا ہے ، مگر وہ دن روزِ ظُہورِ حقیقت و اِنقطاع ِاِدِّعا (یعنی قیامت کا دن حقیقت ظاہر ہونے اور لوگوں کے دعوے ختم ہونے کا دن) ہے۔ لَاجَرَم (یعنی بلا شک) صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بِلا تخصیص اللہ و رسول کی مِلک بتائی وہ کہاں؟ وہ اس حدیث آئندہ میں ، فرماتے ہیں  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم : اِعْلَمُوْا اَنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ و رسول ہیں جلَّ وعلا و  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ۔ ([xv])

بَیْتُ اللَّحْم نامی بستی عطا فرما دی : حضرت سیّدُنا تمیم داری  رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئے : یارسولَ اللہ! بے شک اللہ پاک آپ کو ساری دنیا پر غلبہ عطا فرمائے گا ، میری (آبائی) بستی بَیْتُ اللَّحْم([xvi]) مجھے عطا فرما دیجئے۔ سرکارِ نامدار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : هِيَ لَك یعنی یہ بستی تمہاری ہے ، پھر یہ بات انہیں لکھ کر بھی عطا فرما دی۔

حضرت سیّدُنا عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  کے دورِ خلافت میں جب شام فتح ہوا تو حضرت سیّدُنا تمیم داری  رضی اللہ عنہ سرکارِ مدینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تحریر لے کر ان کے پاس آئے۔ حضرت سیّدُنا عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  نے ارشاد فرمایا : میں اس بات کا گواہ ہوں ، پھر یہ بستی ان کے سپرد کردی۔ ([xvii])

تُو ہی ہے مُلکِ خدا مِلکِ خدا کا مالک

راج تیرا ہے زمانہ میں حکومت تیری([xviii])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i]) فتاویٰ رضویہ ، 14 / 667 ، فیض القدیر ، 3 / 226

([ii]) فتاویٰ رضویہ ، 14 / 667

([iii]) پ16 ، مریم : 63

([iv]) اخبار الاخیار ، ص216

([v]) کنزالعمال ، جز13 ، 7 / 20 ، حدیث : 36197

([vi]) معجم اوسط ، 2 / 249 ، حدیث : 3172

([vii]) بخاری ، 4 / 240 ، حدیث : 6474 ، فتاویٰ رضویہ ، 30 / 632

([viii]) حدائقِ بخشش ، ص186

([ix]) فتاویٰ رضویہ ، 30 / 633

([x]) عمدۃ القاری ، 11 / 287

([xi]) جمع الجوامع ، 7 / 310 ، حدیث : 23389

([xii]) کنزالعمال ، جز3 ، 2 / 362 ، حدیث : 9088

([xiii]) فتاویٰ رضویہ ، 17 / 168 ، بتغیر

([xiv]) پ30 ، انفطار : 19

([xv]) فتاویٰ رضویہ ، 30 / 445 ، بخاری ، 2 / 365 ، حدیث : 3167

([xvi]) بَیْتُ اللَّحْم وہ بستی ہے جس میں حضرت سیّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی ولادت ہوئی تھی۔ (نسائی ، ص81 ، حدیث : 448)

([xvii]) کتاب الاموال ، ص288 ، حدیث : 682

([xviii]) ذوقِ نعت ، ص247۔

Share

Articles

Comments


Security Code