تذکرۂ صالحات

حضرت سیّدتنا زینب بنت ابو سلمہ   رضی اللہ عنہا 

* محمد بلال سعید عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

پیارے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے زیرِ تربیت رہنےوالی اور آپ کے خصوصی فیض سے وافر حصہ پانے والی ایک خوش نصیب خاتون “ حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب بنتِ ابو سَلَمہ  رضی اللہ عنہما  ہیں ، آپ  رضی اللہ عنہا  کو حضورِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سوتیلی بیٹی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ 4 سنِ ہجری میں حضرت سیِّدُنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت سیِّدتُنا اُمِّ سلمہ سے نکاح کرلیا۔ حضرت سیِّدتُنا زینب  رضی اللہ عنہا  اپنی والدۂ ماجدہ حضرت سیِّدتُنا اُمِّ سلمہ  رضی اللہ عنہا  کے ساتھ حضورِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سَرپرستی میں آئیں اور آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پرورش میں رہیں ، آپ رضی اللہ عنہا  حبشہ میں پیدا ہُوئیں ، پھر آپ نے اپنی والدۂ ماجِدہ کے ساتھ مدینۂ مُنوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً ہجرت فرمائی۔ آپ  رضی اللہ عنہا  کا تعلق قبیلہ ٔ بنی مخزوم سے تھا۔ ([i])

آپ رضی اللہ عنہا کا نام “ زینب “ کیسے ہوا؟ حضرت سیِّدتُنا زینب بنتِ ابو سلمہ  رضی اللہ عنہما  فرماتی ہیں کہ میرا نام “ بَرَّہ “ رکھا گیا (بَرَّہ کے معنی ہیں نہایت نیک صالحہ) تو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : اپنی پارسائی بیان نہ کرو اللہ پاک خوب جانتا ہے کہ تم میں سے کون زیادہ نیکو کار ہے ، زینب نام رکھو۔ ([ii])

سَرکارِ دو عالَم کی اِن پر شَفقت : حضور رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سیِّدہ زینب بنتِ ابو سلمہ  رضی اللہ عنہما  پر بہت شفقت فرماتے ، ایک مرتبہ آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کے مُنہ پر پانی چِھڑکا ، اس پانی کی برکت سے بڑھاپے تک آپ کے چہرے پر جوانی کی رونق باقی رہی۔ ([iii])

اِزدِواجی زندگی : حضرت سیِّدتُنا زینب بنتِ ابو سلمہ  رضی اللہ عنہما  کی مبارک شادی حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن زَمْعَہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ  رضی اللہ عنہا  کے ہاں 6 لڑکے اور 3 لڑکیاں پیدا ہُوئیں۔ ([iv])

آپ کابے مثال صبر : جب یومُ الحَرَّہ کے موقع پر اہلِ مدینہ شہید کئے جارہے تھے تو شہیدوں میں سیّدہ زینب بنتِ ابو سلمہ  رضی اللہ عنہما  کے دو بیٹے بھی شامِل تھے ، جب ان کی لاشیں آپ  رضی اللہ عنہا  کے سامنے لائی گئیں تو آپ  رضی اللہ عنہا  نے خوب صبر و تحمل سے کام لیا ، “ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ “ پڑھا اور بِالکل بھی واویلا نہ کیا۔ ([v])اس واقعے سے بالخصوص خواتین کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ یاد رکھئے! کسی رشتہ دار کے انتقال پر منہ پر طمانچہ مارنا اوربے صبری والے کام کرنا نوحہ ہے اور نوحہ کرنے والے سخت گنہگار ہیں ، ہاں اگر ایسے موقع پر آنکھوں سے آنسو بہیں یا معمولی آواز منہ سے نکلے اورکچھ صبر وغیرہ کے الفاظ بھی مُنہ سے نِکل جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ ([vi])

علمی وَجاہت : آپ  رضی اللہ عنہا  کی فقہی مہارت اور فضل و کمال بے مثال تھا ، شرعی مسائل میں خواتین آپ سے رُجوع کرتیں ، آپ  رضی اللہ عنہا  نے آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی چند احادیثِ کریمہ بھی روایت کیں۔ ([vii])

وصالِ پُر ملال : آپ  رضی اللہ عنہا  کی وفات واقعۂ حَرَّہ کے بعد ہوئی۔ ([viii])آپ کو جنّتُ البقیع شریف میں دفن کیا گیا۔ ([ix])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت ، المدینۃالعلمیہ ، کراچی



([i])اسد الغابہ ، 7 / 145

([ii])مسلم ، ص911 ، حديث : 5609 ملتقطا

([iii])الاستیعاب ، 4 / 411

([iv])طبقات ابن سعد ، 8 / 337

([v])الاستیعاب ، 4 / 411

([vi])اسلامی زندگی ، ص117

([vii])الاصابہ ، 8 / 160 ملخصاً

([viii])اکمال فی اسماء الرجال ، ص596

([ix])طبقات ابن سعد ، 8 / 337

Share

Articles

Comments


Security Code