فرض نماز کے دوران اگر جماعت شروع ہوجائے تو

دارالافتاء اہل سنت

ماہنامہ فروری 2021

(1)فرض نماز کے دوران اگر جماعت شروع ہوجائے تو ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسجد میں اپنی فرض نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہوجائے تو اس میں کب شریک ہو ، تفصیلاً بتا دیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :

(1)اگر تو پہلی رکعت میں ہے اور جماعت شروع ہوئی تو کھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے۔ (2)اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا اور جماعت شروع ہوئی تو فجر اور مغرب میں سجدوں کے بعد ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے اور ظہر ، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کرکے جماعت میں شامل ہوجائے۔ (3)اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا اور جماعت شروع ہوئی تو فجر اور مغرب میں نماز مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو اور ظہر ، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کرکے جماعت میں شامل ہو۔ (4)اگر تیسری رکعت میں ہے اور جماعت کھڑی ہوئی تو ظہر ، عصر اور عشاء میں تو کھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو اور مغرب میں نماز پوری پڑھے اور جماعت میں شامل نہ ہو۔ (5)اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرلیا اور جماعت شروع ہوئی تو ظہر اور عشاء میں چار رکعتیں مکمل کرکے نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو اور عصر میں چار رکعتیں مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مجیب                                                                                                                                                                                                                  مصدق

ابو احمد محمد انس رضا عطّاری مفتی محمد ہاشم خان عطّاری

(2)میڈیکل کے طلبہ کا انسانی لاشوں پر تجربہ کرنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میڈیکل کے طلبہ سیکھنے کے لئے انسانی لاشوں پہ تجربات کرتے ہیں۔ ان کا یہ تجربات کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سیکھنے کے لئے انسانی لاشوں پر تجربات کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے کیونکہ یہ میت کو تکلیف دینا ہے کہ جس طرح زندہ انسان کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح مردہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اور اس میں میت کی توہین و تذلیل بھی ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کی تعظیم و تکریم باقی رہتی ہے۔ اس کی توہین کی اجازت نہیں۔ نیز یہ انسان کا مثلہ کرنا ہے جو کہ ناجائز ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں حربی کافر کا بھی دورانِ جنگ مثلہ کرنے سے منع فرمایا گیا۔ نیز اس طرح میت کی تجہیز و تدفین میں بلاوجہ کی تاخیر ہے جو کہ ممنوع ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

مفتی محمد ہاشم خان عطّاری

(3)کمپنی  منیجر کا مال نکالنے کیلئے دوسروں سے کمیشن لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مختلف کمپنیوں میں مال دیتا ہوں تو کمپنی کے مینجر  ہم سے ڈیل کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اپنا مال نکلوانا ہے تو ہمیں بھی کچھ کمیشن دو ورنہ ہم اس مال میں نقص وغیرہ بتا کے روک دیں گےحالانکہ مینجرکمپنی سے اسی کام کی  تنخواہ لیتا ہے کہ مینجرہر وہ مال جو کمپنی کےمتعلق اور اُس کےلیے نفع بخش اور اُس کے وارے میں ہو اُسے پاس کرے ، تو اس کا ایسا کرنا کیسا اور اس کو پیسے دینا کیسا؟اس کاشرعی حکم کیا ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مال اوکے(ok)کرنا ، پاس کرنا مینجرز کے اجارے میں شامل ہے لہٰذا ان پرلازم ہے کہ یہ دیانت داری کے ساتھ درست مال کوپاس کریں اورنادرست مال کورجیکٹ کردیں۔ جومال اوکےہونےکےلئے ان کےپاس آئےگااس کی دو صورتیں ہوں گی :

(1)یاتووہ مال نادرست ہوگا۔ (2) یا درست  ہوگا۔

(1)جونادرست ہے اس کو قصداًپاس کرنااپنے عہدے سے خیانت ، جھوٹ اوراپنی کمپنی کو دھوکہ دیناہے اوریہ سب  ناجائزوحرام ۔ اوراگرپیسے لے کر ایسے مال کوپاس کرے گاتویہ رشوت ہوگی کہ مال پاس کروانے والا اپناکام نکلوانے کے لئے پیسے دے رہاہے  اور یہ لے رہا ہےاور رشوت دینا لینا باعث لعنت ، ناجائز و حرام ہے۔

(2) جودرست مال ہےوہ ایسا ہے کہ کمپنی کے متعلق ہے ، اُس کے لیے نفع بخش ہے اور اُس کے وارے میں بھی ہے۔ اُسےپاس کرنے کے لئے پیسے لینابھی رشوت ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ اوصاف والا مال پاس کرنے پراِن کااجارہ ہے تو یہ  کام  دیانتداری سے کرنا ویسے ہی اِن پرواجب ہے ،  اوراپنا واجب ادا کرنے کے لئے پیسے وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مال تو درست ہے لیکن کمپنی کو درست مال دینے والے زیادہ ہیں ، اور مال دینے والا یہ چاہتا ہے کہ میرا مال پہلے نکل جائے یا ان میں سے میرا ہی مال لیا جائے ، اس لیے مینجر کو پیسے دیتا ہے تو یہ بھی پہلی صورت میں داخل ہو گا کہ اب وہ جو پیسے دے رہا ہے اپنا کام نکلوانے کے لیے ہیں اور یہ بھی رشوت ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

مفتی محمد ہاشم خان عطّاری

(4)اسمگل شدہ موبائل کی خریدوفروخت کرنا کیسا؟

سوال : کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ موبائل کی ایک مارکیٹ میں اسمگل شدہ موبائل آتے ہیں جب یہ موبائلز مارکیٹ میں آجاتے ہیں تو ان پرقانونی سختی نہیں ہوتی اور ان کی خرید و فروخت سرعام ہوتی ہے اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی طرف سے قانونی طور پر پکڑ وغیرہ نہیں ہوتی۔ ان موبائلز کو خریدنا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اسمگلنگ کرنا ناجائز ہے کیونکہ یہ غیرقانونی ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں بڑی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ کو ذلت اور ہلاکت پر پیش کرنے سے ربِّ قدیر نے منع فرمایاہے۔

مارکیٹ میں موبائل آنے کے بعد اس کی سرعام خریدو فروخت میں اگر واقعی قانونی سختی اور گرفت نہیں ہوتی تو اس کی خرید و فروخت میں شرعاً حرج نہیں ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

مفتی محمد ہاشم خان عطّاری


Share