ادرک  کےچندفوائد

اللہ پاک کی لاتعداد نعمتوں میں سے ایک نعمت ادرک (Ginger) بھی ہے۔ اس کی تاثیر گرم تر ہوتی ہے۔ مختلف کھانوں میں اس کا استعمال کھانے کی لذّت اور غذائیت کو بڑھا دیتا ہے۔ اس کے بےشمارفوائد میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:

ادرک کےچندفوائد

٭ادرک سے معدے (Stomach) کی تیزابیت (Acidity)کم ہوتی اور کھانا جلد ہضم ہوتا ہے ٭یہ دماغی کام کرنے والے افراد کےلئے بہت مفید ہے ٭اس سے خون کی روانی دُرُست رہتی ہے ٭سینے کے بلغم اور دائمی کھانسی کی صورت میں ادرک کا استعمال مفید ہے ٭دائمی قبض اور شوگر کے مریضوں کے لئے فائدہ مندہے ٭جگر کی خرابی میں تازہ ادرک کاپانی پینا مفید ہے ٭جوڑوں کےدرد میں ادرک بُھون کر کھانا اچھا ہے ٭مچھلی کے ساتھ ادرک کھانے سے پیاس کم لگتی ہے ٭ادرک فالج کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے ٭ادرک کاٹ کر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں بنا لیجئے اور اُس پر نمک چھڑک کر ایک یا دو گرام کھا لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ چمک کر بھوک لگے گی، گیس خارِج اور قبض دور ہوگی۔(گھریلوعلاج، ص78) ٭کان میں درد کی صورت میں ادرک کے رَس کا ایک قطرہ کان میں ٹپکانے سے آرام ملتا ہے۔(گھریلوعلاج، ص85ماخوذاً) ٭کاہلی، سُستی اور نزلہ سے بچاؤکے لئےادرک کی چائے مفید ہے ٭تازہ ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا اور دارچینی کے دو چھوٹے ٹکڑے ایک کپ پانی میں ابال کر دوچمچ شہد ملا کر پینا یا 5گرام سونٹھ(خشک ادرک)، 5 گرام دارچینی اچھی طرح پیس کر 50گرام شہد میں ملا کر صبح و شام ایک چمچ کھانا دَمہ اور کالی کھانسی سے آرام دیتا ہے ٭چھوٹے اور شیرخوار بچوں کی ہچکی روکنے کےلئے پِسی ہوئی سونٹھ (خشک ادرک) خالص شہد میں ملاکر چٹانے سے فائدہ ہوتا ہے ٭سُونٹھ کو تھوڑے سے پانی میں گِھس کر اس کا گِھسا ہوا حصّہ پیشانی پر ملنے سے آدھے سر کا دَرْد جاتا رہے گا۔(گھریلو علاج، ص49مفہوماً)

ادرک کی چائے بنانے کا طریقہ

کھانسی اور بلغم کی صورت میں ادرک کی چائے پینا مفید ہے۔ تازہ ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا کوٹ کر ایک کپ پانی میں اچھی طرح ابالیں، پھراس میں دودھ ڈال لیں، ذائقہ کے لئے چائے کی پتی بھی ڈالی جاسکتی ہے البتہ سبزچائے ہرگز نہ ڈالیں، چینی حسبِ ذائقہ ملائیں۔ نوش کیجئے اور بےشمار فوائد سے مالامال قدرت کی اس نعمت کی کرشمہ سازی ملاحظہ کیجئے ۔

انسان کے کاٹنے کی ابتدائی طبی امداد

بعض اوقات بچے لڑتے ہوئے یا ضِد میں اپنے دانتوں سے ایک دوسرے کو کاٹ لیتے ہیں، کبھی کاٹنے کی وجہ سے خون نکل آتا ہے اور زخم ہوجاتا ہے ایسی صورت میں انسان کے منہ کے جراثیم انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ایسی صورتِ حال میں درجِ ذیل ابتدائی طبّی امداد سے کام لیجئے:کسی صاف کپڑے کی مدد سے دباکر رکھیں تاکہ خون نکلنا بند ہو جائے٭زخم کو صابن والے پانی سے اچھی طرح دھوئیں ٭متاثرہ جگہ کو کسی صاف اور جراثیم سے پاک پٹی سے ڈھانپ دیں٭ اگر زخم بڑا اور گہرا ہے تو اپنے معالج کو ضرور چیک کروائیں تاکہ مناسب علاج ہو سکے ٭اپنے معالج کے مشورے سے TETNUS کا انجکشن لگوائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ، باب المدینہ کراچی

٭…مستشفٰی (کلینک )فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

ادرک  کےچندفوائد

دیہی علاقوں میں جب  چاول اور گندم وغیرہ کی فصل کٹتی ہے توگھریلواستعمال کےلئے کئی مہینوں تک اسے اسٹور کیا جاتاہے، اسی طرح شہروں میں بھی دالیں، چاول اور دیگر مسالا جات وغیرہ ہفتے ، 15دن یا مہینے بھر کے لئے ایک ہی بار خرید لئے جاتے ہیں اوّلاً تو چاہئے کہ صرف ضرورت کے مطابق ہی خریداری کی جائے ثانیاً یہ کہ ان کی حفاظت کی جائے، کیونکہ ایسی صورت میں اگرحفاظتی تدابیراختیارنہ کی جائیں تو خراب ہونےاور سُرسُری وغیرہ لگنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، گندم، چاول، دالیں اوردیگراس طرح کے راشن میں اگر سُرسُری وغیرہ لگ بھی جائے تو اسے ضائع نہ کریں بلکہ مناسب دھوپ لگوا کر صاف کرکے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہاں انہیں خراب ہونے اور سُرسُری وغیرہ پڑنے سے محفوظ رکھنے کے لئے چند گھریلو طریقے پیش کئے جاتے ہیں:

٭آٹے، چاول،دالوں، بیسن اور میدے وغیر ہ کو جلد کیڑا لگ جاتا ہے یہ مسئلہ برسات کے موسم میں زیادہ ہوتا ہے، اس لئے ان کے ڈبے اور پیکٹ وغیرہ اچھی طرح بند کرکے رکھیں اور ان میں چند تیز پات( Bay - leaf ) یا نیم کے پتے رکھ دئیے جائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیڑا نہیں لگے گا۔ ٭ہلدی،مرچ اور دیگر مسالے وغیرہ جن ڈبوں میں رکھتے ہیں انہیں ہر دو ماہ بعد ضرور صاف کرلیں، بہتر ہے کہ دھو کر اچھی طرح سکھا لیں اور کپڑے سے صاف کرکے مسالے ڈالیں۔ ٭دالیں، چنے، سوجی اور بیسن وغیرہ کے پیکٹ فریزر میں بھی محفوظ کئے جاسکتے ہیں، جتنی ضرورت ہو نکال لیجیے البتہ یہ خیال رہے کہ فریزر سے نکال کر زیادہ دیر تک باہر نہ رکھیں کیوں کہ نمی کی وجہ سے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٭جو دالیں وغیرہ فریزر سے باہر محفوظ کریں انہیں بھی نمی و پانی سے بچا کر رکھیں۔ ٭دالیں پکانے سے پہلے پانی میں بھگو کر رکھی جاتی ہیں، بعض تو رات ہی کو بھگو دیتے ہیں تاکہ صبح تک نرم ہوجائیں، موسم کے لحاظ سے پانی کا تبدیل کرنا ضروری ہے، گرمیوں میں 4سے5گھنٹے جبکہ سردیوں میں 10سے 11گھنٹے کے اندر پانی لازمی تبدیل کردیں وگرنہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٭چاولوں کو نمک اور ہلدی مل دی جائے یا بورک ایسڈ پاؤڈر (Boric acid powder) ملا دیا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خراب نہیں ہوں گے۔ ٭سوجی کو ہلکا سا بھون کر رکھ لیں تو اس میں کیڑے نہیں پڑتے۔ ٭چینی کے ڈبہ میں چار پانچ لونگ ڈال دیں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چیونٹیوں سے بچاؤ رہے گا۔ ٭مسالوں میں گیلا چمچہ مت ڈالیں۔ ٭کچن کی الماریاں ہر ماہ صاف کرکے کیوپیکس پاؤڈر جو کہ کیڑے وغیرہ مارنے کے لئے ہوتا ہے چھڑک دیں اور اس کے اوپر خاکی کاغذ بچھادیں یا ایک اسپرے بوتل میں سرکہ ڈال کر الماری میں اسپرے کریں، چوبیس گھنٹے بعد خشک کپڑے سے اچھی طرح صاف کرکے سامان رکھ دیں،مسالا جات اور دالیں چیک کرلیں کہ اُن میں کیڑانہ لگا ہو اِس کے علاوہ کیبنٹ میں چند تیز پات ضرور رکھیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّالماری کیڑوں سے محفوظ رہے گی۔٭کوشش کریں کہ معیاری مسالا جات خریدیں جن مسالوں میں ملاوٹ ہوتی ہے وہ جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔

اللہ کریم ہمیں اپنی ان نعمتوں کی حفاظت کی توفیق بخشے اور ان سے بڑھ کر اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

Articles

Comments


Security Code