امیرُ المومنین فی الحدیث

اسلام کے گلشن میں علم وحکمت کے بےشمار ایسے پھول کِھلے ہیں کہ جنہوں نے اپنی خوشبو سے معاشرے کی ترقی و خوش حالی میں بھرپور کردار ادا کیا، اِن پھولوں میں محدثینِ عظام کو گلاب جیسا امتیاز حاصل ہے۔محدثین کا شمار اُن ہستیوں میں ہوتا ہے جو گلستانِ علم میں گلاب کی طرح ایسے مہکے کہ ان کی مہک جہاں جہاں پہنچی وہاں سے جہالت کی بو دور ہوتی گئی۔ دیگر علوم و فنون کی طرح علمِ حدیث میں مہارت رکھنے والوں کے لئے نہایت خوب صورت القاب (Titles) استعمال کئے گئے ہیں جن سے ان حضرات کی فنِ حدیث میں مہارت کا بھی اندازہ ہوتاہے اوردل میں ان کی عظمت کا سکہ بیٹھ جاتا ہے۔ آئیے! ان پاکیزہ نفوس کی خدمات کےاعتراف میں دیئےجانے والے القاب کامختصرتعارف پڑھتےہیں: (1)حافظ الحدیث ایک لاکھ احادیث یاد کرنے والا نیز حدیث اور فنونِ حدیث کا وسیع علم اور حدیث و عللِ حدیث کی کامل معرفت رکھنے والا ”حافظ“ کہلاتا ہے۔ (شرح نخبۃ الفکر، ص121، منھج النقد فی علوم الحدیث، ص76) (2)حُجّت تین لاکھ احادیث کا حافظ اور سند و متن پر گہری نظر رکھنے والا ”حجت“ کہلاتا ہے۔ یادرہے کہ ”حجت“ کا مرتبہ حافظ سے بڑھ کرہے۔ (شرح نخبۃ الفکر، ص121، التاصیل لقواعدِ المحدثین، ص180) (3)مُفِید جس میں محدث کی تمام شرائط جمع ہوں اس کے علاوہ وہ اپنی مجلس میں حاضر ہونے والے طلبہ تک احادیث پہنچانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ (الرفع و التکمیل، ص60) (4)حاکِم جوتمام احادیث کے متن، سند، جرح وتعدیل اور تاریخ کا عالم ہو۔ (شرح نخبۃ الفکر، ص121، التاصیل لقواعد المحدثین، ص180) ہماری معلومات کے مطابق یہ لقب دو ہستیوں حاکمِ کبیر ابو احمد محمد بن احمد نیشاپوری کرابیسی اور صاحب ِ مستدرک حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ نیشاپوری کے علاوہ کسی اور کیلئے استعمال نہیں کیا گیا، لطف کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کا شہر بھی ایک ہے اور صاحب مستدرک، حاکم کبیر کے شاگرد ہیں۔ (مستدرک، ترجمۃ ابی عبداللہ الحاکم،ج1،ص45) حاکم کا مرتبہ حجت اور حافظ سے بڑا ہے۔ (5)امیرُ المومنین فی الحدیث جو اپنے زمانے میں علمِ حدیث کوسب سے زیادہ جاننے والا ہواور مہارت کا یہ عالَم ہو کہ حفاظ اور محدثین اس کی بارگاہ میں رجوع کریں۔ (منھج النقد، ص77) امام شعبہ بن حجاج، امام سفیان ثوری، امام بخاری، امام مسلم، امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم کواس لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ (6)مُسْنِد سند کے ساتھ حدیث روایت کرنے والا ”مُسنِد‘‘ کہلاتا ہے۔ (تیسیرمصطلح الحدیث، ص11) (7)محدِّث روایت ودرایت کے اعتبار سے کامل عبور اور اپنے زمانے میں کثیرراویوں اور روایات سے آگاہی رکھنے والے کو ”محدِّث“ کہتے ہیں۔ آج کے دور میں محدث کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ علم حدیث پڑھنے پڑھانے اور اس کی بحث و تمحیص میں مشغول ہو، رجال (حدیث روایت کرنے والوں) کی بحث و تفتیش، جرح و تعدیل کی اہلیت رکھتا ہو، حدیث، شروحات ِ حدیث اور اسمائے رجال میں تصنیف شدہ کتب کی وسیع معلومات رکھتاہو، احادیث کے اسباب، علتوں، مختلف اور مشکلُ الحدیث پر مکمل عبور رکھتا ہو۔(تیسیرمصطلح الحدیث، ص11، تدریب الراوی، ص20)

علم ِحدیث کے ماہرین کی بدولت آج ہمارے پاس کتبِ احادیث کی صورت میں بہت بڑا علمی خزانہ موجود ہے، ہمیں چاہئے کہ ان عاشقانِ حدیث کی سیرت کا مطالعہ کریں، طلبِ حدیث کے سلسلے میں ان حضرات کی کوششوں اور کاوشوں کودیکھ کرہمت باندھیں اوران کے فیضانِ علم سے خوب خوب برکتیں حاصل کریں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ذمہ دار شعبہ فیضان اولیا وعلما،المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code