نصائح و ہدایات اور رسائل امیر اہلسنت (قسط: 01)

نصائح وہدایات اور رسائل امیرِ اہلِ سنّت(قسط:01)

امیرِ اہلِ سنّت، عالمی مبلغِ اسلام، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ موجودہ دَور کے ان ممتاز علمائے کِرام میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ انجام دیا بلکہ ہر طبقۂ زندگی کے افراد کی اصلاح و تربیَت کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان آپ کے بیانات، مدنی مذاکرے، تحریری رسائل اور روح پرور نصیحتوں سے دینی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔ آپ نے بچّوں، نوجوانوں، خواتین، مردوں، تاجروں، علما، طَلَبہ الغرض ہر فرد کے لیے اصلاحی عنوانات پر سادہ، دلنشین اور عام فَہْم انداز میں درجنوں رسائل تحریر فرمائے ہیں، جن میں عقیدہ، عِبادت، اَخلاق، سیرت، معاشرت اور اصلاحِ نفس جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان رسائل میں نہ صرف قراٰن و سنّت سے دلائل دیے گئے ہیں بلکہ حِکایات، اقوالِ بُز ُرگانِ دین اور مدنی پھولوں کی صورت میں عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔ یہ کتابیں اور رسائل زندگی کے ہر مرحلے میں قاری کو نیکی کی طرف بلانے، اخلاقیات سنوارنے اور بگاڑ سے بچانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ کے انہی رسائل میں سے نصائح و ہدایات پر مشتمل 6رسائل کا شماریاتی جائزہ ذیل میں ملاحظہ کیجیے:

مدنی وصیت نامہ(صفحات:16): وصیّت نامہ تیّار رکھنا مستحب ہے۔اس میں عموماً اپنےکفن ودفن،اپنے مال سے کچھ حصّہ کسی کو دینے اور اپنے متعلقین کو وصیت ونصیحت کی جاتی ہے۔ بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِاہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اپنا یہ وصیت نامہ مسجِدِ نبوی شریف میں بیٹھ کر تحریر فرمایا، لہٰذا اس کا نام ”اَرْبَعِیْن وَصَایَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ الْمُنَوَّرَۃ“ رکھا۔آپ نے اپنے متعلقین کووصیت فرمائی ہے کہ میرے کفن دفن کے معاملات سنّت کے مطابق کیے جائیں،ترکہ حکْمِ شریعت کے مطابق تقسیم ہو، مریدین اور دعوتِ اسلامی والے اسلام و مسلَکِ اہلِ سنّت و جماعت پر قائم رہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی دیگر حُقوق کے متعلّق نصیحتیں فرمائی ہیں۔

شیطان کے بعض ہتھیار(صفحات:52):دین کی خدمت کرنے والوں پرشیطان طرح طرح کے ہتھیاروں سے وار کرکے انہیں راہِ راست سے بھٹکاتا اور اپنے جال میں پھانس لیتا ہے۔ اس رسالے میں ایسے ہی بعض ہتھیاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جیسے ریاکاری،خود پسندی، بدگمانی اور فتنہ بازی وغیرہ۔ ان سب شیطانی ہتھیاروں کی وضاحت، مذمّت و قَباحت اور شرعی حیثیت بیان کی گئی ہے۔ 6آیاتِ مبارکہ، 17احادیْثِ شریفہ، 18فقہی اقوال،29فرامینِ اسلاف اور 5واقعات پر مشتمل اس رسالے میں ضمنی طور پر تعزیت کے فوائد،اخلاص کی اہمیّت و برکت، نیک بننے کی ترغیب اور شخصیات سے تعلّقات کے متعلق اہم وضاحتیں وغیرہ بھی درج ہیں۔

انمول ہیرے(صفحات:26):وقت جیسی نعمت کی قدر بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ لمحات ہماری زندگی کے انمول ہیرے ہیں، کہیں نادانی وجہالت کے سبب یہ ہیرے ضائع نہ ہوجائیں۔ اس رسالے میں6آیاتِ طیبہ،14احادیْثِ کریمہ، 17اقوال، 12 شرعی مسائل اور 3حکایات کی روشنی میں وقت کی قدر و منزلت بیان کی گئی ہے۔موت کے اچانک آنے، حساب قریب ہونے، اسلاف اور وقت کی قَدر دانی،قیمتی سیکنڈز اور انمول لمحات کا استعمال،وقت کے قدر دانوں کے ارشادات،نظامُ الاوقات کی ترتیب، فضول شب بیداریوں کی مذمّت، علمی مشاغل اورصبح کے اوقات کی اہمیّت وغیرہ تحریر کیے گئے ہیں۔ نیز سنّتوں اور آداب پر مشتمل سونے جاگنے کے 15نِکات بھی  رسالے کی زینت ہیں۔

غفلت(صفحات:25):نیک اعمال نہ اپنانا اور گُناہوں کے انجام سے غافل رہنا بندے کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ یقیناً غفلت قابِلِ مذمّت ہے۔اس رسالے میں غفلت کے نقصانات، اس کے اسباب،نیک ہونے کے دعویداروں اور غفلت شعاروں کے اَحوال، موت کے قاصدوں کا ذِکْر، بدنِگاہی کی سزاؤں، داڑھی منڈانے کی مذمّت اور بےپردگی و ناجائز فیشن کی قباحت بیان کی اور اس سے توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ 4آیاتِ طیبہ، 13احادیْثِ کریمہ،4اقوال، 14 شرعی احکام اور 5حکایات پر مشتمل رسالے کے آخر میں عقیقے کی سنتوں، مسائل اورآداب پر مبنی 25مدنی پھول درج ہیں۔

میں سدھرنا چاہتا ہوں(صفحات:40):اپنے نفس کی اصلاح کے لیے اپنا مُحاسبہ بہت ضَروری ہے۔ اسلاف کی سیرتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے نفوس کا بہت زیادہ مُحاسبہ کرتے تھے۔ اس رسالے میں 5آیاتِ طیبہ،17احادیثِ کریمہ، 8اقوال، 4شرعی احکام اور 9حکایات کی روشنی میں ”محاسبَۂ نفس“ کی اہمیّت وضَرورت،محاسبہ کی تعریف،اس کا طریقہ، اسلاف کا اندازِ مُحاسبہ، بُز ُرگوں کا خوفِ خدا،عاجزی و انکسار، بچپن کے گناہوں پر خوف وخشیت، بتقاضائے بشریت صادر ہونے والی خطاؤں پر خود کو سزائیں دینے اور مصائب و آلام پر صبر وغیرہ کا بیان ہے اور آخر میں اچّھی نیتیں اور سُرمہ لگانے کی سنتیں اور آداب شامل ہیں۔

بادشاہوں کی ہڈیاں(صفحات:24):قبر اور قِیامت کے ہولناک معاملات پیش نظر رہیں تو بندہ نیکیوں کی طرف راغب اور گُناہوں سے دُور رہتا ہے۔اس رسالے میں موت، قبر وحشر کی سختیوں،سَفَرِآخِرت کی طوالت اور پیش آنے والی ہوش رُبا حالت کا رقت انگیز بیان ہے۔2آیاتِ کریمہ، 10احادیْثِ شریفہ، 4فقہی احکام، 3اقوالِ بزرگانِ دین اور 2واقعات و حکایات کی روشنی میں موت کی سختی، روح کی درد ناک باتیں، ملک الموت علیہ السّلام کی خوف ناک صورت، قبر کی تاریکی، دنیاوی محلّات ومکانات کا فنا ہونا،دنیا کی بے ثباتی، آخِرت کی تیّاری،قیامت کی ہولناک منظرکشی اور 50ہزار سال کا قِیام وغیرہ بیان ہوا ہے اورآخر میں قبرستان کی حاضری کے16 مدنی پھول شامل ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ تراجم، اسلامک ریسرچ سنٹر المدینۃ العلمیہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code