Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2991

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ . قَالَ عُرْوَةُ: قَضٰى بِهٖ عُمَرُ فِي خِلَافَتِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من عمر أرضا ليست لأحد فهو أحق . قال عروة: قضى به عمر في خلافته . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایاجو کسی ایسی زمین کو آباد کرے ۱؎جو کسی کی ملک نہ ہو تو وہ ہی اس کا حقدار ہے،عروہ فرماتے ہیں کہ جناب عمر نے اپنی خلافت میں اسی پر فیصلہ کیا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بادشاہ کی اجازت سے آباد کرے۔(احناف)
۲
؎ہمارے ہاں یہ دونوں فرمان سیاسی تھے یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے زمانہ پاک میں اورحضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں قانون نافذ فرمادیا تھا،اب بھی اگر سلطان یہ قانون نافذ کردے تو یہ ہی حکم ہوگا کہ جو ایسی زمین آباد کرے گا وہ مالک ہوگا،امام شافعی کے ہاں یہ حکم شرعی تھا اب بادشاہ اسلام یہ قانون بنائے یا نہ بنائے زمین آباد کرنے والا اس کا مالک ہوگا۔لَیْسَت لِاَحَدٍکے معنی یہ ہیں کہ نہ تو وہ زمین کسی کی ملک ہو نہ شہر کی ضروریات کے لیے ہو لہذا حدیث ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2991