Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3005

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتّٰى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلَ الْأَعْلَى عَلَى الأَسْفَلِ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في السيل المهزور أن يمسك حتى يبلغ الكعبين ثم يرسل الأعلى على الأسفل.رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مہزور کے پانی کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ۱؎کہ یہاں تک پانی آنے دیا جائے کہ ٹخنوں کو پہنچ جائے پھر اوپر والا نیچے پر چھوڑ دے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎مہزور مدینہ منورہ کے ایک جنگل کا نام ہے جس کے پانی سے وہاں کی زمین کاشت کی جاتی ہے،مہزول لام سے وہ بھی ایک وادی ہی کا نام ہے مگر وہ وادی جبل یثرب کے دامن میں ہے،یہ اور وادی ہے وہ اور وادی مہزور ہے،رسےمہزور عَلم ہے اس لیے اس پر الف لام نہ آنا چاہیے تھا مگر یہاں وصفی معنے میں ہے اسی لیے الف لام آگیا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بغیر الف لام ہے۔
۲
؎یعنی اس پانی سے تمام کھیت والے اپنی زمین سیراب کریں،ترتیب یہ ہوگی اوپر والا پہلے پانی سے لے اور نیچے والا بعد میں اور اوپر والا اتنا پانی لے کہ ٹخنوں ٹخنوں پانی کھڑا ہوجائے،پھر نیچے والے کی طرف چھوڑ دے،یہ ترتیب و پیمائش نہایت موزوں ہے جسے کاشتکار لوگ بخوبی سمجھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3005