Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2998

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ حُضْرَ فَرَسِهٖ فَأَجْرٰى فَرَسَهَ حَتّٰى قَامَ ثُمَّ رَمٰى بِسَوْطِهٖ فَقَالَ: أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم أقطع للزبير حضر فرسه فأجرى فرسه حتى قام ثم رمى بسوطه فقال: أعطوه من حيث بلغ السوط. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت زبیر کو ان کے گھوڑے کی حد دوڑ تک جاگیر بخشی ۱؎زبیر نے اپنا گھوڑا چھوڑا حتی کہ ٹھہر گیا پھر اپنا کوڑا پھینکا حضور نے فرمایا جہاں کوڑا پہنچا وہاں تک کی زمین انہیں دے دو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرح کے پیش ضاد کے سکون سے بمعنی دوڑ،یہاں قدر پوشیدہ ہے یعنی گھوڑے کی دوڑ کی بقدر کو گھوڑا چھوڑو جہاں رک جائے وہاں تک کی زمین تمہاری۔
۲
؎یعنی پہلے گھوڑا چھوڑا جہاں وہ رکا وہاں سے کوڑا پھینکوایا،جہاں کوڑا پہنچا وہاں تک کی یہ مجموعہ زمین حضرت زبیر کو بخش دی۔ظاہر یہ ہے کہ بالکل ہی بخش دی،مالک بنادیا کہ نسلًا بعد نسل ان کی ہی ہو،صرف رہنے کے لیے عارضی طور پر نہ دی،امام شافعی فرماتے ہیں کہ جیسے بادشاہ بیت المال کا روپیہ کسی کو دے سکتا ہے ایسے ہی بیت المال کی زمین بھی کسی کو بخش سکتاہے،یہ زمین بیت المال کی ملکیت تھی جو حضور انور نے حضرت زبیرکو بخش دی۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ زمین موات تھی جو حضرت زبیر کو احیاء یعنی آباد کرنے کے لیے عطا ہوئی اسی لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیثاحیاءمواتکے باب میں لائے۔بادشاہ اعلان بھی کرسکتا ہے کہ جو جس زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہےاور اس طرح بخش بھی سکتا ہے ہر طرح سے اختیار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2998