Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 451

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِيْ فَمَشَيْتُ مَعَهٗ حَتّٰى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ ، فَقُلْتُ لَهٗ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهٖ: فَقُلْتُ لَهٗ: لَقَدْ لَقِيْتَنِيْ وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتّٰى أَغْتَسِلَ،وَكَذَا البُخَارِيُّ فِيْ رِوَايَةٍ أُخْرٰى.

عن أبي هريرة قال: لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا جنب، فأخذ بيدي فمشيت معه حتى قعد، فانسللت فأتيت الرحل فاغتسلت، ثم جئت وهو قاعد، فقال: أين كنت يا أبا هريرة؟ ، فقلت له، فقال: سبحان الله إن المؤمن لا ينجس. هذا لفظ البخاري ولمسلم معناه، وزاد بعد قوله: فقلت له: لقد لقيتني وأنا جنب فكرهت أن أجالسك حتى أغتسل،وكذا البخاري في رواية أخرى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ملے ۱؎حالانکہ میں ناپاک تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا ۲؎میں آپ کے ساتھ چلاحتی کہ آپ بیٹھ گئے میں چپکے سے نکل گیامنزل میں آیاغسل کیا پھر حاضر ہوا حالانکہ آپ تشریف فرما تھے۳؎فرمایا اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے واقعہ عرض کیا فرمایاسبحان اﷲ!مؤمن گندہ نہیں ہوتا۴؎یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم کی روایت میں اس کے معنی ہیں اورقُلْتُکے بعد یہ بھی ہے کہ آپ مجھے ملے حالانکہ میں جنبی تھا میں نے غسل کے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا ناپسند کیا۵؎بخاری کی دوسری روایت میں ایسے ہی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ نہ فرمایا کہ میں حضور سے ملا کیونکہ آپ کا ارادہ ملنے کا نہ تھا اتفاقًا ملاقات ہوگئی،آپ تو غسل کرنے جارہے تھے۔
۲
؎محبت اورشفقت کی بنا پر نہ کہ چلنے میں امداد لینے کے لیے جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔
۳
؎یہ ہے صحابہ کا انتہائی ادب،اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ ناپاکی کی حالت میں مصافحہ وغیرہ سب ممنوع ہے مگر حیاء اور ادب کی وجہ سے اس وقت عرض نہ کرسکے،خیال تھا کہ بعد میں مسئلہ پوچھ لوں گا چونکہ اس کے ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا،اس لئے خاموشی اختیار کی۔
۴
؎یعنی جنابت نجاست حقیقیہ نہیں تاکہ جنبی سے مصافحہ وغیرہ منع ہو۔خیال رہے کہ کافر بھی نجس نہیں قرآن کریم میں جو مشرکوں کو نجس فرمایا گیا اس سے گندگی اعتقاد مراد ہے۔اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جنبی کا پسینہ یا جھوٹا نجس نہیں۔دوسرے یہ کہ غسل جنابت میں دیر لگانا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ جنابت کی حالت میں ضروری کام کاج کرنا جائز ہے۔چھوتھے یہ کہ جنبی سے مصافحہ،معانقہ بلکہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز۔
۵
؎احتیاطًا یہ سمجھے ہوئے کہ شاید جنبی پر نجس حقیقی کے احکام جاری ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 451