Main Icon

باب:وعدے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4878

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جابرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاء أَبَابَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ. فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهٗ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهٗ قِبَلَهٗ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: وَعَدَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَنِي هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا. فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ جَابِرٌ: فَحَثَی لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن جابر قال: لما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاء أبابكر مال من قبل العلاء بن الحضرمي. فقال أبو بكر: من كان له علی النبي صلى الله عليه وسلم دين أو كانت له قبله عدة فليأتنا. قال جابر: فقلت: وعدني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعطيني هكذا وهكذا وهكذا. فبسط يديه ثلاث مرات. قال جابر: فحثی لي حثية فعددتها فإذا هي خمسمائة وقال: خذ مثليها. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے جابر سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر کے پاس علاء بن حضرمی کے پاس سے مال آیا ۱∞؎تو جناب ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض ہو یا اس سے حضور کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۲؎حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے اتنا اور اتنا اور اتنا دیں گے ۳؎آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے تھے۴؎حضرت جابر کہتے ہیں کہ جناب صدیق نے مجھے ایک لپ بھردیا ۵؎میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے فرمایا اس کے دوگنے اور لے لو ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎علاء ابن حضرمی صحابی ہیں،حضر موت کے رہنے والے ان کا نام عبداللہ ہے،حضور انور نے انہیں یمن کا حاکم مقرر فرمایا عہد صدیقی وفاروقی میں بھی اسی عہدے پر رہے حتی کہ ۱۴؁∞ چودہ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی،یہاں یمن سے مال آنے کا ذکر ہے۔(مرقات)۲؎اور ہم سے حضور کا قرض وصول کرے حضور کا وعدہ پورا کرائے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وعدہ مثل قرض کے ہے۔دوسرے یہ کہ مرحوم کی طرف سے اس کے قرض ادا کردینا اس کے وعدے پورے کرنا سنت ہے خواہ کوئی میت کا عزیز کرے یا کوئی اور اس وجہ سے حضرت صدیق باغ فدک کی آمدنی حضور کے اہل پر خرچ کرتے تھے۔(مرقات)۳؎یعنی تم کو تین لپ بھر کر درہم دینار عطا فرمائیں گے یہ وعدہ عطیہ خسروانہ عنایت شاہانہ کے طور پر تھا۔
۴
؎یعنی حضور انور نے اپنے لپ بھر کر عطا کا وعدہ فرمایا تھا نہ کہ میرے لپ بھر کر۔
۵
؎معلوم ہوا کہ حضور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ کرم تھا کہ حضور انور نے اپنے لپ بھر دینے کا وعدہ فرمایا تھا حضرت صدیق اکبر نے اپنا ہاتھ بھر کر انکی جھولی میں ڈالا تھا۔
۶
؎آپ نے خود تین لپ بھر کر نہ دیئے تاکہ اصل اور نائب کے لپ میں فرق رہے۔خیال رہے کہ آپ نے حضرت جابر سے اس وعدہ پر گواہی نہیں مانگی نہ قسم لی کیونکہ معاملات میں گواہی منکر کے مقابل ہوتی ہے یہاں کوئی منکر تھا نہیں اور حضرات صحابہ ثقہ عادل ہیں ان کے قول بغیر قسم قبول ہیں،وہ حضرات حضور سے احادیث روایت کرتے ہیں تو ان پر نہ جرح ہوتی ہے نہ ان سے قسم لی جاوے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کی تقسیم نہیں ورنہ حضرت جابر جناب فاطمہ زہراحضرت عباس سے یہ وعدہ پورا کراتے۔دوسرے یہ کہ جو ذاتِ کریم ایسی دیانتدار ہو وہ خلافت جیسی اہم چیز کبھی غصب نہیں کرسکتی حضرت صدیق اکبر خلیفہ برحق ہیں،دیانتدار ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین اسلام کے پہلے تاجدار ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4878