Main Icon

باب:وعدے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4881

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهٖ أَنْ يَّفِيَ لَهٗ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن زيد بن أرقم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له فلم يف ولم يجئ للميعاد فلا إثم عليه . رواه أبوداود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کرسکے وعدہ پر نہ آسکے تو ا س پر گناہ نہیں ۱∞؎(ابوداؤد ،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎جائز وعدہ پورا کرنا عام علماء کے نزدیک مستحب ہے وعدہ خلافی مکروہ،بعض علماء کے نزدیک ایفاء وعدہ واجب ہے وعدہ خلافی حرام ہے یہ حدیث ان ہی حضرات کی دلیل ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گنہگار نہیں،یوں ہی اگر کسی کی نیت وعدہ خلافی کی ہو مگر اتفاقًا پورا کردے تو گنہگار ہے اس بدنیتی کی وجہ سے ہر وعدہ میں نیت کو بڑا دخل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4881