Main Icon

باب:وعدے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4882

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيْهِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُّ أَنْ أُعْطِيَهٗ تَمَرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيْهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عبد الله بن عامر قال: دعتني أمي يوما ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في بيتنا فقالت: ها تعال أعطيك. فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أردت أن تعطيه؟ قالت: أردت أن أعطيه تمرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما إنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة . رواه أبوداود والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ بن عامر سے ۱∞؎فرماتے ہیں مجھے میری ماں نے ایک دن بلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے وہ بولیں آتجھے دوں گی۲؎ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں کیا دینا چاہتی ہو۳؎بولیں میں نے اسے کھجوریں دینے کا ارادہ کیا تب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر جھوٹ لکھا جاتا ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبداللہ ابن عامر ابن کریز ابن حبیب ابن عبدشمس ابن عبدمناف ہیں،قرشی ہیں،جناب حضرت عثمان غنی کے ماموں ہیں،تیرہ برس کی عمر شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے،خلافت عثمانی میں بصرہ خراسان کے حاکم رہے،امیر معاویہ نے آپ کو اس عہد پر قائم رکھا،خراسان کے فاتح آپ ہی ہیں فارس، اصفہان،کرمان،حلوان وغیرہ آپ نے ہی فتح کیے،بصرہ کی نہر آپ نے ہی کھدوائی،بڑے عالم سخی عابد تھے ۵۹؁∞ انسٹھ میں وفات پائی۔(مرقات واشعہ)۲؎چھوٹے بچے ضدکرکے گھر سے بھاگ جاتے ہیں جب ماں کچھ دینے کا بہانہ کرکے بلاتی ہے تب آتے ہیں یہ ہی واقعہ یہاں ہوا تھا۔
۳
؎یعنی تم نے جو کہا کہ تجھے کچھ دوں گی یہ جملہ خبریہ ہے جس میں سچ کا بھی احتمال ہے جھوٹ کا بھی بتاؤ تم اس بچہ کو کچھ دو گی یا نہیں اگر دینا نہیں ہے تو یہ کلام جھوٹا ہوا۔
۴
؎یہ فرمان عالی بہت ہی سبق آموز ہے کہ ماں چھوٹے بچوں کو جھوٹے بہانے سے نہ بلائے غلط خبر نہ دیں کہ یہ بھی جھوٹ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4882