Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 772

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَى المُصَلّٰى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلّٰى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّيْ إِلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن ابن عمر : كان النبي صلى الله عليه وسلم يغدو إلى المصلى والعنزة بين يديه تحمل وتنصب بالمصلى بين يديه فيصلي إليها. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم صبح کے وقت عید گاہ تشریف لے جاتے ۱؎ آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا اور آپ کے آگے عید گاہ میں گاڑ دیا جاتا حضور (صلی الله علیہ وسلم) اس کی طرف نماز پڑھتے ۲؎ (بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نماز عیدین کے لیے عیدالاضحی کے لیے بہت جلدی تاکہ بعد میں قربانیاں کی جاسکیں اور عید الفطر میں کچھ دیر سے تاکہ مسلمان کچھ کھا کر اور فطرہ ادا کرکے آسانی سے پہنچ سکیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عید کی نماز جنگل میں پڑھنا سنت ہے اگرچہ شہر میں بھی جائز ہے۔
۲
؎تاکہ گزرنے والوں کو سامنے سے گزرنے میں رکاوٹ نہ ہو اس زمانہ میں عید گاہ کی عمارت نہ تھی، میدان میں نماز پڑھی جاتی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 772