Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 780

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلیٰ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلٰى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَين يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذٰلِكَ عَلِيَّ أَحَدٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: أقبلت راكبا علی أتان وأنا يومئذ قد ناهزت الاحتلام ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بمنى إلى غير جدار فمررت بين يدي بعض الصف فنزلت وأرسلت الأتان ترتع ودخلت في الصف فلم ينكر ذلك علي أحد(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آیا حالانکہ میں اس دن قریب بلوغ تھا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو بغیر دیوار کی آڑ کے نماز پڑھا رہے تھے ۱؎میں بعض صف کے آگے سے گزرا پھر اتر پڑا گدھی کو چھوڑ دیا کہ چرتی تھی اور خود صف میں داخل ہوگیا اس کا مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کے سامنے دیوار نہ تھی میدان میں نماز پڑھا رہے تھے لاٹھی وغیرہ کا سترہ ضرور تھا،چونکہ امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہوتا ہے اس لیے حضرت ابن عباس رضی الله عنہ یہاں سب کے سامنے سے گزر گئے لہذا یہ حدیث سترہ کے خلاف نہیں اسی لیے امام بخاری رحمۃ الله تعالٰی علیہ یہ حدیث اس باب میں لائے کہ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آگے دیوار کے سوا کوئی اور سترہ ضرور تھا دیوار کی نفی فرمائی ہے نہ کہ سترہ کی۔
۲
؎یہ حدیث اس حدیث کی تفسیر ہے کہ نماز کو کتا،گدھا،عورت توڑ دیتے ہیں یعنی وہ حکم جب ہے کہ سترے کے بغیر سامنے سے گزریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 780