Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 786

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهٖ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِي وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: وَ الْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيْحُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عائشة قالت: كنت أنام بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجلاي في قبلته فإذا سجد غمزني فقبضت رجلي وإذا قام بسطتهما قالت: و البيوت يومئذ ليس فيها مصابيح (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے کی جانب ہوتے ۱؎جب آپ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی؎اور جب کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھیلا دیتی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہ تھے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبلہ کی طرف پاؤں نہیں پھیلاتی تھیں کہ وہ منع ہے بلکہ آپ کے پاؤں حضور صلی الله علیہ وسلم کے سامنے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز میں تھوڑا عمل جائز ہے ۔دوسرے یہ کہ عورت کو چھونا وضو نہیں توڑتا اگرچہ بغیر آڑ کے ہو کیونکہ یہاں آڑ کی قید نہیں آئی۔ تیسرے یہ کہ عورت کا نمازی کے آگے ہونانماز خراب نہیں کرتا،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔
۲
؎یہ بالکل ابتدائی حالت کا ذکر ہے جب کہ ضرورت کے وقت لکڑیاں جلا کر روشنی کی جاتی تھی بعد میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں چراغ رائج ہوگئے تھے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کے سامنے سے ایک چوہا چراغ کی جلتی بتی کھینچ کر لے گیا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ چراغ گل کرکے سویا کروکیونکہ چوہا اس کے ذریعے گھرمیں آگ لگادیتا ہے لہذا یہ حدیث چراغ والی احادیث کے خلاف نہیں۔؎یعنی جب تک حضور صلی الله علیہ وسلم تہجد کا قیام و رکوع فرماتے ہیں اطمینان سے پاؤں پھیلائے سوئی رہتی اور جب حضور کے سجدہ کا وقت ہوتا تو مجھے دبا کر اشارہ کردیتے جب میں پاؤں سمیٹتی تب سجدہ کے لیے جگہ بنتی اور آپ سجدہ کرتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 786