- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2381
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2381
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَن عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسٰى قَالَ: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسٰى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ»وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّار وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عن عبد الله بن مسعود قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمسى قال: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم وسوء الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر»وإذا أصبح قال أيضا: «أصبحنا وأصبح الملك لله» . وفي رواية: «رب إني أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللّٰه بن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب شام پاتے تو فرماتے ہم نے شام پائی اور اللّٰه کے ملک نے شام پائی سب تعریفیں اللّٰه کو ہیں ۱؎اس اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اس کا ملک ہے،اس کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎الٰہی میں تجھ سے اس رات کی اور جو اس رات میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی اور جو اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ لیتا ہوں۳؎خدایا میں سستی،بڑھاپے اور زیادتی عمر کی برائیوں سے۴؎اور دنیا کے فتنوں سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎اور جب سویرا پاتے تو ساتھ یہ بھی کہتے ہم نے سویرا پایا اور اللّٰہ کے ملک نے سویرا پایا ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ یارب میں آگ میں عذاب اورقبر میں عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی خدا کا شکر ہے کہ ہم نے بخیریت دن گزار لیا اور شام پالی،ہمارے ساتھ رب تعالٰی کے ملک نے بھی شام پالی،یہ دونوں چیزیں اللّٰه کی نعمتیں ہیں،اگر ملک تباہ ہوجاتا صرف ہم ہی رہ جاتے تب بھی مصیبت تھی۔یہاں ملک سے مراد عالم اجسام سفلی ہے جہاں دن رات ہوتے ہیں۔عالم انوار، عالم امر،جنت دوزخ وغیرہ میں نہ دن ہو نہ رات وہاں تو رب کی تجلی ہے نہ کہ سورج کی جیسے قیامت میں ہوگا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّھَا"۔
۲؎یعنی ان دن رات کے آنے جانے صبح و شام کی تبدیلیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو گردش دینے والا اکیلا معبود ہے جس کا کوئی ساتھی نہیں اور ہر چیز پر قادر ہے۔سبحان اللّٰه! کیسا پیارا استدلال ہے کہ گھومنے والی چیزوں سے گھمانے والے کی قدرت کا پتہ لگاؤ۔
۳؎ہر وقت اپنے ساتھ خیر یا شر لاتا ہے،کسی وقت میں خطرناک حادثے ہوجاتے یا ہم سے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں اور کسی وقت میں اچھے واقعات رونما ہوتے ہیں یا ہم کو اچھے اعمال کی توفیق ملتی ہے۔اس دعا میں عرض کیا گیا ہے کہ خدایا اس وقت کے حادثات،برے اعمال سے تیری پناہ اور اس وقت کے اچھے واقعات اورنیک اعمال کی توفیق کی تجھ سے طلب ہے۔معلوم ہوا کہ اوقات کو حادثات و اعمال میں دخل ہے۔
۴؎کسلکے معنی ہیں طبیعت کا بوجھ جس سے عبادات بخوبی ادا نہ ہوسکیں اگرچہ جسم میں طاقت ہو۔ہر م وہ بڑھاپا جس سے زندگی کا اصل مقصود فوت ہو جائے یعنی علم و عمل جاتے رہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لِكَیۡ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْـًٔا"اور بڑھاپے کی برائی سے مراد سٹھ جانا ہے کہ مت کٹ جائے اور انسان دوسرو ں پر بوجھ بن جائے کہ اپنے عزیز اس کی موت کی تمنا کرنے لگیں۔معلوم ہوا کہ شیخوختہ،ہرم اور کبر اگرچہ تینوں کے معنی بڑھاپا ہی ہیں مگر ان تینوں کا آپس میں بڑا فرق ہے،یہ بھی معلو م ہوا کہ یہاںھرم و سوءکبرمیں تکرار نہیں بلکہ ان کے معنی جدا جدا ہیں۔
۵؎دنیا کے فتنے،محبت دنیا اور غفلت عیش ہیں،یہ دونوں چیزیں تمام گناہوں کی خبر ہیں۔عذاب قبر سے مراد یا تو خود وہاں کا عذاب ہے یا اس عذاب کے اسباب جیسے چغل خوری یا پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنا وغیرہ بہرحال یہ دعا بہت نفیس ہے۔
۶؎باقی تمام وہ الفاظ کہتے جو شام کے وقت کی دعا میں گزر گئے اور ان کی وہ ہی تفسیر ہے جو ابھی عرض کردی گئی۔
۷؎خیال رہے کہ دوزخ کا عذاب آگ میں عذاب ہے کہ بندہ آگ میں داخل ہو کر عذاب پائے گا اور قبر میں عذاب آگ کا عذاب ہے کہ قبر میں دوزخ نہیں آجاتی بلکہ دوزخ کی کھڑکی کھل جاتی ہے جس سے وہاں کی لپٹ،گرمی،دھواں،بدبو وغیرہ آتی رہتی ہے،رب تعالٰی دونوں سے بچائے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2381