Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2399

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَمْسٰى وَإِذَا أَصْبَحَ ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُرْضِيَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من عبد مسلم يقول إذا أمسى وإذا أصبح ثلاثا رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا إلا كان حقا على الله أن يرضيه يوم القيامة» . رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی بندہ مسلمان نہیں جو شام اور صبح تین بار یہ کہہ لیا کرے میں اللّٰه کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے نبی ہونے سے راضی ہوا ۱؎مگر اللّٰه کے ذمہ کرم ہوگا کہ قیامت میں اسے راضی فرمالے ۲؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اللّٰه سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قضاء سے راضی رہے،رضاء بالقضاء خاص بندوں ہی کو نصیب ہوتی ہے اور اسلام سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کے تمام احکام پر خوش ہو سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نبوت سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حضور کو اپنے جان مال اولاد کا صحیح معنی میں مالک جانے اور حضور کو تمام چیزوں سے پیارا جانے،اللّٰه تعالٰی اس قال کو حال کردے اور حقیقت یہ ہے کہ جب حضور پیارے توحضور کی ہر چیز پیاری،حضور کا قرآن،حضور کا اسلام،بلکہ حضور کا رب بھی پیارا،عشق مصطفویٰ تمام محبتوں کا ذریعہ ہے۔شعر
محمد از تومے خواہم خدا را خدایا از تو عشق مصطفٰے را
اکثر دعائیں تین بار پڑھی جاتی ہیں تاکہ جماعت ہوجائے اور جماعت پر اللّٰه کی رحمت ہے اسی لیے یہ کلمات بھی تین تین بارکہے۔
۲
؎یعنی قیامت میں رب اسے اتنا دے گا کہ بندہ خوش ہوجائے گا۔خیال رہے کہ یہ صفت کہ ر ب بندے کو راضی کرے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَلَسَوْفَ یُعْطِیۡكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی"پھر حضور کے صدقہ سے حضرت صدیق اکبر کو یہ وصف ملا کہ رب تعالٰی نے ان کے متعلق فرمایا "وَلَسَوْفَ یَرْضٰی"پھر ان سرکار کے صدقے سے یہ کلمات پڑھنے والے کو بھی عطا ہوا،حضرت صدیق اکبر عملی طور پر اللّٰہ ،اسلام اور حضور سے راضی تھے انہوں نے یہ کرکے دکھا دیا ر ضی اللّٰہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2399