Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2382

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهٗ تَحْتَ خَدِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» . وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: « الْحَمْدُ للّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن حذيفة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أخذ مضجعه من الليل وضع يده تحت خده ثم يقول: «اللهم باسمك أموت وأحيا» . وإذا استيقظ قال: « الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات میں اپنا بستر لیتے تو اپنا ہاتھ ر خسار کے نیچے رکھتے ۱؎پھر کہتے الٰہی میں تیرے نام پر مروں گا اور جیوں گا ۲؎اور جب بیدار ہوتے تو کہتے شکر ہے اس اللّٰه کا جس نے ہمیں مر جانے کے بعد زندہ کیا اسی کی طرف اٹھنا ہے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎∞آپ کا بستر شریف قبر کے رُخ بچھایا جاتا ہے کہ قبلہ کے داہنے سر مبارک ہوتا اور قبلہ کے بائیں پاؤں شریف حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سیدھی کروٹ پر لیٹتے،داہنا ہاتھ داہنے رخسار ہ کے نیچے رکھتے تھے۔قبر میں میت کی ہیئت بھی یہ ہی ہوتی ہے،چونکہ نیند موت کا نمونہ ہے اسی لیے حضور علیہ السلام کا بستر قبر کے نمونہ کا ہوتا تھا تاکہ لیٹنے کے وقت موت یاد آئے کہ کبھی قبر میں بھی لیٹنا ہے۔
۲∞
؎∞یہاں موت و زندگی سے مراد سونا جاگنا ہے،رب تعالٰی کا نام شریفممیتبھی ہے اورمحییبھی یعنیممیتکے نام پر مروں گا اورمحییکے نام پر جیوں گا یعنی بیدار ہوں گا کہ میرے یہ دو حال تیرے ان دو ناموں کا مظہر ہیں۔(مرقات)
۳∞
؎∞یعنی یہ جاگنا یہ کل قیامت میں اٹھنے کی دلیل ہے۔∞نشور نشرسے بنا بمعنی متفرق ہونا،پھیل جانا،اسی سےانتشاراورمنتشربنا،جاگنے کونشوراسی لیے کہتے ہیں کہ بندے جاگ کر طلب رزق وغیرہ کے لیے پھیل جاتے ہیں اور بکھر جاتے ہیں۔خیال رہے کہ عربی میں نیند،سکون،بے عقلی،جہالت،بھیک مانگنے،گناہ،بڑھاپے،ناگوار حالت جیسے ذلت،فقر و غیرہ کو موت کہہ دیتے ہیں اور ان کے مقابل کو حیات یعنی زندگی،یہاں موت بمعنی نیند ہے اور احیاء بمعنی بیداری،رب تعالٰی فرماتا ہے:"∞اَوَ مَن كَانَ مَیتًا فَاَحْیَیۡنٰهُ"اور فرماتا ہے:"∞اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"ان دونوں آیتوں میں موت سے مراد جہالت ہے اور میت سے مراد جاہل و کافر۔(مرقات و لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2382