Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2414

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَالْكِبْرِيَاءُ وَالْعَظَمَةُ لِلّٰهِ وَالْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلّٰهِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هٰذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهٗ نَجَاحًا وَآخِرَهٗ فَلَاحًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» . ذَكَرَهٗ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السِّنِّيِّ.

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أصبح قال: «أصبحنا وأصبح الملك لله والحمد لله والكبرياء والعظمة لله والخلق والأمر والليل والنهار وما سكن فيهما لله اللهم اجعل أول هذا النهار صلاحا وأوسطه نجاحا وآخره فلاحا يا أرحم الراحمين» . ذكره النووي في كتاب الأذكار برواية ابن السني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو یوں کہتے ہم نے اور اللّٰه کے ملک نے سویرا پالیا اللّٰه کی ہی حمد اور بڑائی ہے اور عظمت اللّٰه کے لیے ہے ۱؎اور خلق،حکم اور رات دن اور جو ان میں رہیں سب اللّٰه کے لیے ہیں۲؎الٰہی اس دن کا اول درستی بنا اور درمیان کو کامیابی اور آخر کو چھٹکارا بنا اے تمام رحم والوں سے بڑے ۳؎اسے امام نووی نےکتاب الاذکارمیں ابن سنی کی روایت سے بیان کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎کبریائی سے مراد رب تعالٰی کے صفات ذاتیہ ہیں اور عظمت سے مراد صفات فعلیہ ان دونوں کے صفات کا فرق علم کلام میں تفصیل وار مذکور ہے۔ صفات ذاتیہ کا تعلق ذات رب سے ہے اور فعلیہ کا تعلق مخلوق سے،سورج کا چمکنا اس کا وصف ذاتی ہے اور دوسروں کو چمکانا صفت فعلیہ۔
۲
؎آہستگی سے پیدا فرمانا خلق ہے اور ایک دم پیدا فرمادینا امر یا مادیات کو پیدا فرمانا خلق ہے اور مجردات کی پیدائش امر،یا بالواسطہ پیدا فرمانا خلق ہے اور بلاواسطہ پیدائش امر،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ"یعنی روح عالم امر سے ہے یا صرف کلمۂکُنسے بنی ہے کسی مادہ وغیرہ سے نہیں بنی،آسمان اور ان کے نیچے کی چیزیں دن رات میں رہتی ہیں مگر جنت دوزخ عالم انوار کی خبریں دن رات میں نہیں رہتیں کہ وہاں تک دن رات کی پہنچ نہیں،چونکہ ہماری نظر ان ہی چیزوں پر ہے اس لیے ان کا ہی ذکر فرمایا ورنہ ہر مخلوق اللّٰه کی ہے۔
۳
؎سبحان اللّٰه! کیسی جامع دعا ہے۔دن کے تین حصے ہیں:اول،درمیان،آخری،ان تینوں حصوں میں تین نعمتیں مانگی اول دن میں دین و دنیا کی درستی اور درمیان میں دین و دنیا کی کامیابی اور آخر میں وہ ظفر جو اچھا خاتمہ نصیب کرے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں دن کے تین حصوں سے مراد سارے اوقات ہیں،چونکہ دن کا م کا وقت ہے جب اس کے ہر حصے میں ہر نعمت مانگ لی تو رات جو آرام کا وقت ہے اس میں بھی ہر نعمت مانگ لی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2414