Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2457

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَعَوَّذُوا بِاللّٰهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «تعوذوا بالله من جهد البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء، وشماتة الأعداء »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اللّٰہ کی پناہ مانگو آفت کی مشقتوں سے ۱؎اور بدبختی کے پہنچنے سے اور برے فیصلے سے ۲؎اور دشمنوں کے طعنوں سے ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱؎آفتوں کی مشقت سے مراد وہ دنیاوی یا دینی مصیبتیں ہیں جن کے دفع پر انسان قادر نہ ہو حضرت عبداللّٰه ابن عمر فرماتے ہیں کہ کثرت عیال و قلت مال جہد بلا ہے کہ اس سے انسان کبھی کفر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔حدیث شریف میں ہے"کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّکُوْنَ کُفْرًا
۲
؎دوزخ کے کام کر بیٹھنا درک شقاء ہے اصل بدبختی دوزخ کا داخلہ ہے دوزخی عرض کریں گے"رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیۡنَا شِقْوَتُنَا"اور دوزخ میں پہنچانے والے عقیدے یا اعمال اختیار کرلینا شقاء بدبختی کا پانا ہے۔اس سے اللّٰه کی پناہ!بُرے فیصلہ سے مراد ہے کفر پر مرنے کا فیصلہ یعنی میرے مولا میں دوزخیوں کے کاموں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں کہ تو میری بدکاریوں کی وجہ سے میرے دوزخی ہونے کا فیصلہ کردے۔اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ فیصلہ الٰہی تو پہلے ہوچکا اب اس سے پناہ مانگنے کے کیا معنی کیونکہ یہاں وہ فیصلہ مراد نہیں۔
۳
؎یعنی مولٰی مجھے ایسی دینی و دنیاوی مصیبتوں میں نہ پھنسا جن سے میرے دشمن خوش ہوں اور مجھ پر طعنے کریں،آوازے کسیں،اس سے بھی تیری پناہ ،یہ دعا بہت جامع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2457