Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2472

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ عَلِّمْنِي تَعْوِيذًا أَتَعَوَّذُ بِهٖ قَالَ: «قُل اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّسَمْعِي وَمن شَرّ بَصَرِي وَشَرِّ لِسَانِي وَشَرِّ قَلْبِي وَشَرِّ مَنِيِّي» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

وعن شتير بن شكل بن حميد عن أبيه قال: قلت: يا نبي الله علمني تعويذا أتعوذ به قال: «قل اللهم إني أعوذ بك من شرسمعي ومن شر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے شتیر ابن شکل ابن حمید سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے کوئی تعویذ سکھایئےجس سے میں تعویذ کیا کروں ۱؎فرمایا کہو الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں اپنے کان اپنی آنکھ زبان دل اور منی کی شر سے ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ دعائیہ کلمات سکھائیے جن کے ذریعہ برائیوں سے رب تعالٰی کی پناہ لوں،تعویذ اس کاغذ کے پرزے کو بھی کہتے ہیں جس میں قرآنی آیت یا دعائیں لکھ کر اپنے پاس ر کھیں کہ اس سے مقصود بھی پناہ لینا ہےاس لفظ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲
؎بری چیز،گانے بجانے وغیرہ سننا کان کا شر ہیں،جھوٹ اور غیبت اور نقصان دہ یا بیکار باتیں کرنا زبان کا شر اور حسد،کینہ،برے عقیدے دل کا شر ہے اور زنا و اسباب زنا میں مبتلا ہونا منی کا شر ہیں۔منی سے مراد وہ ہی مشہور چیز ہے جس کے خارج ہونے سے غسل واجب ہوتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ"منی" αمَنْیَۃٌکی جمع ہے بمعنی موت یااُمْنِیَۃٌکی جمع ہے یعنی آرزو و تمنا خدایا بری قسم کی موتوں سے تیری پناہ،یا دنیوی لمبی امیدوں سے تیری پناہ مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔(مرقات،واشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2472