Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3070

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهٗ شَيْءٌ يُوصٰى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهٗ مَكْتُوبَةٌ عِنْدهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما حق امرئ مسلم له شيء يوصى فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس مسلمان کے پاس کوئی چیز لائق وصیت ہو ۱؎اسے یہ مناسب نہیں کہ دو راتیں بھی اس کے بغیر گزارے کہ اس کے پاس اس کی وصیت لکھی ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یوصیمعروف بھی ہوسکتا ہے مجہول بھی،شیخ نے مجہول پڑھا ہے اور مرقات نے دونوں طرح لائق وصیت کی قید اس لیے لگائی کہ جس مال کی وصیت ہی نہیں ہوسکتی اس کا حکم یہ نہیں،قابل میراث مال کی وصیت ہوسکتی ہےدوسرے کی نہیں،قرض،امانت،وقف مالوں میں میراث جاری نہیں ہوتی لہذا ان کی وصیت بھی نہیں ہوتی،نبی کا مال قابل میراث نہیں تو قابل وصیت بھی نہیں۔جو لوگ حضرت علی کو وصی رسول مانتے ہیں بایں معنی کہ حضور انور نے آپ کو اپنے مال یا خلافت کی وصیت فرمائی وہ بہت ہی نادان ہیں،ہر مسلمان وصی رسول ہے،سرکار نے ہر شخص کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی وصیت فرمائی ہے کہ فرمایا:"اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ
۲
؎اگر یہ حکم وجوبی ہے تو منسوخ ہے کہ اب میراث کے احکام آچکے اور اگر استحبابی ہے تو اب بھی باقی ہے،واقعی جو وصیت کرنا چاہے وہ بغیر وصیت کیے ایک رات بھی نہ گزارے،کیا خبر موت کہاں اور کب آئے،نیز وصیت لکھ کر کرے بلکہ آج کل رجسٹری کرادے کہ زبانی وصیتیں بدل جاتی ہیں،ہاں ادائے قرض اور ادائے امانات کی وصیت اب بھی واجب ہے جب کہ ان قرضوں اور امانتوں کی کسی کو خبر نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3070