Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3076

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ عَلٰى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلٰى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلٰى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهٗ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من مات على وصية مات على سبيل وسنة ومات على تقى وشهادة ومات مغفورا له» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو اچھی وصیت پر مرا ۱؎وہ دین کے راستے اور سنت پر مرا اور تقویٰ وشہادت کی موت مرا اور بخشا ہوا مرا ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مرتے وقت اپنے مال کا کچھ حصہ فقراء پر یا کسی کارخیر میں لگانے کی وصیت کر گیا،یا کسی دینی ادارہ میں لگانے کی وصیت کر گیا۔
۲
؎سبیلسے مراد رضائے الٰہی کا راستہ ہے اور سنت سے مراد اچھا طریقہ ہے یا سنت رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کہ حضور انور کا مال بعد وفات راھِ خدا میں خرچ ہوا اور حضور انورصلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے مال کی وصیت نہ فرمائی،پہلے فرمادیا تھا کہ ہمارا مال بعد وفات صدقہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض نیک عمل بظاہر معمولی تر ہیں مگر ان کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے،دیکھو بعد موت مال راہ خدا میں خرچ کرنا معمولی کام ہے کہ وہ انسان اب مال سے بے نیاز ہوچکا مگر اس پر بھی اتنا بڑا ثواب ملا ،ایسےدرجے کا مستحق ہوا اس لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ معمولی نیکی کو بھی ہلکا نہ جانو،کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچالیتاہے اور معمولی گناہ کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر جلادیتی ہے۔ خیال رہے کہ یہاں شہادت سے مراد حکمی شہات ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3076