Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3072

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: «أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «بِكَمْ؟» قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهٖ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. قَالَ: «فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟» قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ: «أَوْصِ بِالْعُشْرِ» فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهٗ حَتّٰى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن سعد بن أبي وقاص قال: عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا مريض فقال: «أوصيت؟» قلت: نعم قال: «بكم؟» قلت: بمالي كله في سبيل الله. قال: «فما تركت لولدك؟» قلت: هم أغنياء بخير. فقال: «أوص بالعشر» فما زلت أناقصه حتى قال: «أوص بالثلث والثلث كثير» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میری بیمار پرسی فرمائی جب کہ میں بیمار تھا،فرمایا تم نے کچھ وصیت کردی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کتنے کی ۱؎میں نے عرض کیا اپنے سارے مال کیاللّٰهکی راہ میں ۲؎فرمایا تو نے اپنے اولاد کے لیے کیا چھوڑا میں نے عرض کیا وہ بہت مال سے غنی ہیں ۳؎تب فرمایا دسویں حصہ کی وصیت کرو ۴؎میں کم کراتا رہا ۵؎حتّٰی کہ فرمایا تہائی کی وصیت کرو اور تہائی بھی بہت ہے ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوتا ہے کہ مرض سخت تھا اس لیے ان سے وصیت کا سوال کیا گیا۔خیال رہے کہ حضور انور کو خبرتھی کہ حضرت سعد کی وفات اس مرض میں نہیں ہے جیساکہ دیگر روایات میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا تم ابھی جیو گے اور تم سے کچھ نفع پائیں گے کچھ نقصان۔
۲
؎اللّٰهکی راہ سے مراد سارے کار خیر ہیں،فقراء مساکین پر خرچ،مسجد،مسافر خانہ کی تعمیر وغیرہ وغیرہ۔
۳
؎ولدسے مراد بیٹی ہے کہ آپ کے صرف ایک بیٹی ہی تھی،ولدمطلقًا اولاد پر بولا جاتا ہے بیٹا ہو یا بیٹی مگر ابن صرف بیٹے کو کہتے ہیں۔ آپ کاھماغنیاءفرمانا عصبہ وارثوں کو شامل کرکے ہے اور اغنیاء فرمانا تغلیبًا ہے کہ بعض ان میں غنی تھے اور بعض فقراء جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوچکا ہے ۔
۴
؎اس سے پتہ لگا کہ تہائی سے زیادہ کی وصیت جاری نہ ہوگی،دیکھو حضرت سعد نے کل مال کی وصیت کردی مگر جاری نہ ہوئی۔امام اعظم و اسحاق و احمد فرماتے ہیں کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو وہ کل مال کی وصیت کرسکتا ہے اور اس کی وصیت جاری بھی ہوگی کیونکہ اس کل وصیت کا جاری نہ ہونا وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے جب وہ موجود ہی نہیں تو اب مانع کیا چیزہے۔
۵
؎مشکوٰۃ شریف کے بعد نسخوں میںاناقضہٗنقطہ والی ضاد سے ہے بمعنی جوابًا عرض کرتا رہا مگر عام نسخوں میںاناقصہٗصاد مہملہ سے ہے،معنی یہ ہے کہ میں اس وصیت کو کم سمجھتا رہا اور زیادہ وصیت کی اجازت چاہتا رہا۔ (مرقات)یا یہ معنی ہیں کہ میراث کو کم کراتا رہا،میراث کم ہوگی تو وصیت زیادہ ہوگی۔
۶
؎یعنی تمہاری پہلی وصیت تو بالکل باطل ہوچکی ہے،اب نئے سرے سے وصیت کرو جو تہائی سے زیادہ نہ ہو یا یہ مطلب ہے کہ اپنی پہلی وصیت کو خود باطل کردو اور اب نئی وصیت کرو۔خیال رہے کہ وصیت کرنے والا اپنی وصیت باطل بھی کرسکتا ہے،اس میں ترمیم بھی کرسکتا ہے کیونکہ وصیت ایک قسم کا ہبہ ہے اور ہبہ میں تبدیلی یا نسخ قبل از قبضہ جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3072