Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3078

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهٖ قَطَعَ اللّٰهُ مِيرَاثَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے ۱؎تواللّٰهاس کو قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کردے گا۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنے کی بہت صورتیں ہیں:کسی کو وصیت کرنا تاکہ ورثہ کا حصہ کم ہوجائے،کسی کے لیے قرض کا جھوٹا اقرار کرلینا تاکہ وارث کے حصے کم ہوں، بیوی کو طلاق دے دینا تاکہ وہ وارث نہ ہوسکے،اپنا کل مال کسی کو دے جانا تاکہ وارثوں کو کچھ نہ ملے، کسی وارث کو قتل کرا دینا تاکہ میراث نہ پاسکے یا اپنے بچہ کا انکار کردینا کہ یہ بچہ میرا ہے ہی نہیں تاکہ میراث نہ پاسکے، اپنی زندگی میں سارا مال برباد کردینا تاکہ وارثوں کے لیے کچھ نہ بچے وغیرہ،بعض اپنے کسی بیٹے کو عاق کر دیتے ہیں یا کہہ دیتے ہیں کہ ہماری میراث سے اسے کچھ نہ دیا جائے یہ محض بے کار ہے اس سے وہ وارث محروم نہ ہوگا۔ میراث سے محروم کرنے والی چیز مسلمان کے لیے صرف تین ہیں: غلام ہونا،قتل،اختلاف دین،ان کے سوا کسی اور وجہ سے محرومی نہیں ہو سکتی۔
۲
؎جو چیز بغیر عقد اور بغیر مشقت کے ملے اسے میراث کہہ دیتے ہیں،یہاں یہ ہی مراد ہے۔نیز ہر جنتی جنت میں اپنا حصہ بھی لے گا اور کافر کے جنتی حصہ پر قبضہ کرلے گا،اس لحاظ سے بھی اسے میراث کہہ دیتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ رب تعالٰی ایسے ظالم کو جنت سے محروم کردے گا۔محرومی سے مراد ہے اولًا داخلہ سے محروم کردے گا ورنہ ہر مسلمان خواہ کتنا ہی گنہگار ہوگا آخرکار جنت میں داخل ہوگا جیسے اس شخص نے اپنے منتظر وارث کو محروم کردیا ایسے ہی اسے جنت کا انتظار کرنے کے بعد جب قیامت میں اسے جنت کا سخت انتظار ہوگا اسے محروم کردیا جائے گا،بہرحال یہ جرم بدترین ہے رب تعالٰی ظلم سے بچنے کی توفیق دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3078