Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2416

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهٗ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهٗ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذٰلِكَ لَمْ يَضُرَّهٗ شَيْطَانٌ أَبَدًا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو أن أحدكم إذا أراد أن يأتي أهله قال: بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا فإنه إن يقدر بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان أبدا "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اگر تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس جانا چاہے تو یہ کہہ لے ۱؎بسم اللّٰه خدایا ہم کو شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس بچے سے دور رکھ جو تو ہمیں دے۲؎تو اگر اس صحبت میں ان کے نصیب میں بچہ ہوا تو اسے شیطان کبھی نقصان نہ دے سکے گا ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ دعا ستر کھولنے سے پہلے پڑھے اور حلال صحبت پر پڑھے،حرام پر پڑھنا سخت جرم ہے بلکہ اس میں کفر کا اندیشہ ہے جیسے شراب نوشی یا خنزیر کھانے یا جوئے پر بسم اللّٰه پڑھنا،اھلسے مراد بیوی یا لونڈی ہے۔
۲
؎یعنی اس صحبت میں شیطان نہ شریک ہو اور نہ بچے کو شیطان کبھی بہکائے،بسم اللّٰه سے مراد پوریبسم اللّٰه الرحمن الرحیمہے۔خیال رہے کہ جیسے شیطان کھانے پینے میں ہمارے ساتھ شریک ہوجاتا ہے ایسے ہی صحبت میں بھی اور جیسے کھانے پینے کی برکت شیطان کی شرکت سے جاتی رہتی ہے ایسے ہی صحبت میں شیطان کی شرکت سے اولاد نالائق اور جناتی بیمار یوں میں گرفتار رہتی ہےاور جیسے بسم اللّٰه پڑھ لینے سے شیطان کھانے پینے میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا ایسے ہی بسم اللّٰه کی برکت سے صحبت میں شیطان کی شرکت نہیں ہوتی جس سے بچہ نیک ہوتا ہے اور آسیب وغیرہ سے بفضلہ تعالٰی محفوظ بھی رہتا ہے،بہتر یہ ہے کہ خاوند بیوی دونوں پڑھ لیں۔
۳
؎یعنی بسم اللّٰه وغیرہ کی برکت سے بچہ کو نہ تو ابلیس کبھی نقصان پہنچاسکے گا نہ اس کی ذریت،بچہ جنون،مرگی وغیرہ جناتی امراض سے بھی محفوظ رہے گا اور مؤمن رہے گاان شاءاللّٰه(مرقات)اس لیے یہاں شیطان نکرہ فرمایا گیا،ایسے بچہ کوان شاءاللّٰهنیک اعمال کی بھی توفیق ملے گی۔
۴
؎اس حدیث کو ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،ابوداؤدنے حضرت ابن عباس سے مرفوعًا روایت فرمایا،یہ عمل نہایت مجرب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2416