Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2429

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ رَاٰى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهٖ وَفَضَّلَنِي عَلٰى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا إِلَّا لَمْ يُصِبْهُ ذٰلِكَ الْبَلَاءُ كَائِنًا مَا كَانَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمر بن الخطاب وأبي هريرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من رجل راى مبتلى فقال: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا إلا لم يصبه ذلك البلاء كائنا ما كان ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب اور حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی شخص نہیں جو کسی گرفتار بلا کو دیکھے ۱؎تو یہ کہہ لے شکر ہے اس اللّٰه کا جس نے مجھے اس آفت سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور اس نے مجھے بہت سی مخلوق پر بزرگی بخشی ۲؎مگر اسے یہ بلا نہ پہنچے گی جو بلا بھی ہو ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

؎بلا خواہ جسمانی ہو جیسے کوڑھ،اندھا پن یا اور کوئی بیماری یا مالی جیسے قر ض،فقر،تنگی رزق وغیرہ،یا دینی جیسے کفر،فسق، ظلم،بدعت وغیرہ۔غرضکہ ہر مصیبت کے لیے یہ دعا اکسیر ہے۔(لمعات،مرقات)
۲
؎یہ دعا بہت آہستہ کہے کہ وہ مصیبت زدہ نہ سنے،ورنہ اسے رنج ہوگا۔(لمعات)مگر فاسق و فاجر کو سنا کر یہ دعا پڑھے تاکہ اسے عبرت ہو اور فسق سے توبہ کر ے۔(مرقات)خیال رہے کہ یہ شکریہ اپنی عافیت پر ہے نہ کہ اس کی آفت پر کیونکہ دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونا سخت جرم ہے،چونکہ یہ دعا آفت زدہ کو دیکھتے ہوئے پڑھی جائے گی اس لیے خطاب کی ضمیر آئی۔
۳
؎یہ دعا اکسیر اعظم ہے،بہت لوگوں نے اس کی آزمائش کی ہے،فقیر کا اس پر خود عمل ہے اسے نہایت مجرب پایا،ہر مسلمان اسے یاد کرلےان شاءاللّٰهبہت فائدہ اٹھائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2429