Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2439

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ: «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللّٰه أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدُبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْودَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سافر فأقبل الليل قال: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك وشر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن شر ساكن البلد ومن والد وما ولد » . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات سے پہلے سفر کرتے تو فرماتے اے زمین تیرا اور میرا رب اللّٰه ہے ۱؎میں تیرے اور تیری اندرونی چیزوں کی اور جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کی اور جو تجھ پر چلتے ہیں ان کی شر سے اللّٰه کی پناہ مانگتا ہوں ۲؎میں شیر سے کالے سانپ سے عام سانپوں سے اور بچھوؤں سے او ر شہر میں رہنے والوں کی شر سے اور ہر جننے والے اور جنے ہوئے کی شر سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے تمام شجر و حجر کلام بھی کرتے ہیں اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نداو کلام کو سنتے بھی ہیں لہذا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا زمین کو یہ خطاب فرمانا حقیقت پر مبنی ہے،رب تعالٰی نے زمین و آسمان سے یوں خطاب فرمایا تھا:" يَاأَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَاسَمَاءُ أَقْلِعِي"اے زمین اپنا پانی نگل جانا اور اے آسمان اپنا پانی روک لے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نائب جنابِ کبریا ہیں،زمین و آسمان حضور علیہ السلام کا کلام سنتے اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں۔(ازمرقات)رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"ہم نے ہوا کو حضرت سلیمان کے لیے مسخر و تابع کردیا کہ ہوا آپ کے حکم سے چلتی تھی۔
۲
؎زمین کی شر زلزلہ،دھنسنا،گرجانا،راستہ بھول جانا وغیرہ ہیں اور اندرونی زمین کی شر سیلاب،سخت گرمی،سخت ٹھنڈک وغیرہ۔ زمین کی مخلوقات کی شر اندرونی کیڑے مکوڑے وغیرہ ہیں کہ سفر میں انہی کی وجہ سے حادثات زیادہ پیش آتے ہیں۔
۳
؎اگرچہ یہ چیزیں بھی زمین پر چلنے والوں میں داخل تھیں لیکن چونکہ ان کی شر خصوصًا مسافر کو بہت زیادہ پہنچتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر کیا،بعض لوگوں نے والد سے مراد ابلیس اور ولد سے اس کی ذریت لی ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اس کو عام رکھا جائے۔(لمعات)کیونکہ مسافر و اجنبی شہر میں چوراچکوں سے بھی بہت تکلیف پہنچ جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2439